بنگالی کونسلر کی کوئی نہیں سنتا

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(ساٹھ سالہ رشیدہ خاتون مچھر کالونی سے سابق کونسلر ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے کارڈ بنوا چکی ہیں لیکن اب اپنا اور اپنے بچوں کا کارڈ نہیں بنوا سکتیں۔)

میں کونسلر اس لیے بنی کہ محلے والے کہتے تھے کہ رشیدہ بدمعاش ہے۔ جہاں کوئی پھڈا ہو وہاں پہنچ جاتی ہے۔ میں آٹھ بھائیوں کی اکیلی بہن تھی۔ محلے میں کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو میرا باپ فیصلہ کرتا تھا اور مجھے ساتھ بٹھاتا تھا۔

بچپن سے ہی مجھ سے ظلم نہیں دیکھا جاتا اسی لیے یہاں کے لوگوں نے مجھے کونسلر کے لیے ووٹ دیا۔

میں نے پانچ سال یہاں بہت کام کیے۔ سڑک بنوائی، نالی بنوائی۔ سب سے بڑی بات کہ میرے دستخط سے خط جاتا تھا اور لوگوں کا شناختی کارڈ بنتا تھا۔ اب میرا کارڈ بلاک ہو گیا، میرے بچوں کے کارڈ نہیں بنے۔ محلے والے مجھ پر ہنستے ہیں کہ دیکھو بڑی کونسلر بنی پھرتی تھی۔

بنگالی

BBC

جتنے کاغذ اور ثبوت میرے پاس موجود ہیں پاکستان میں کسی کے پاس نہیں ہوں گے۔ یہ پوری بوری پڑی ہے۔ میرا نیا کارڈ، میرا پرانا کارڈ، خاوند کا کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ، میرا الیکشن کا سرٹیفکیٹ، میرا کونسلر کارڈ۔ جس جس پارٹی میں رہی اس کا کارڈ۔

گورنر ہاؤس میں بلا کر ایک دفعہ ہار پہنایا تھا، وہ گورنر ہاؤس کے اندر انٹری کا کارڈ، آئی بی والوں کی انکوائری کے کاغذ، جتنی درخواستیں دی ہیں، ان سب کے ٹوکن سنبھال کر رکھے ہیں۔ یہ ساری بوری کاغذوں سے بھری رکھی ہے۔

نہیں ہے تو شناختی کارڈ نہیں ہے۔

بنگالی

BBC

تین بیٹے ہیں، چوتھے کا انتقال ہو گیا۔ ایک کا ذہنی توازن شناختی کارڈ کی پریشانی سے خراب ہو گیا۔ چار بیٹیاں ہیں، پوتے پوتیاں سب ملا کر ہم 48 سے زیادہ لوگ ہیں۔

ایک بیٹا مدرسے میں پڑھاتا تھا اب مدرسے والے بھی کارڈ مانگتے ہیں تو اس نے گھر پر مدرسہ بنا لیا ہے۔

پچھلے مہینے چھوٹے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ سر پھٹ گیا۔ بھیجا تقریباً باہر آ گیا۔ تھوڑا ٹھیک ہوا تو ٹھنڈ لگ گئی۔ بھاگ کر سول ہسپتال لے کر گئے، انھوں نے کہا پہلے کارڈ دکھاؤ تو پھر پرچی ملے گی۔

سپلائی ٹرسٹ والوں کے پاس سٹریچر لینے گئے تو انھوں نے بھی کہا کہ کارڈ کے بغیر نہیں ملے گا۔ ایک داماد کے پاس کارڈ ہے۔ اس کو فون کیا پھر جناح ہسپتال لے گئے۔ شکر ہے انھوں نے کارڈ نہیں مانگا۔

اگر دو تین منٹ اور لیٹ ہو جاتا تو میرے بیٹے کی جان گئی تھی۔

اب میرے بچے بھی مجھ سے ناراض ہیں کیونکہ میں نے ایک دلال کو کارڈ بنوانے کے لیے ایک لاکھ روپیہ دے دیا اور بولا کہ 30000 کارڈ بننے کے بعد دوں گی۔ اب اس نے اپنا موبائل فون ہی بند کر دیا ہے۔

میرے بچے کہتے ہیں ہماری ماں بے وقوف ہے۔ ساری جمع پونجی کسی کو پکڑا دی۔ اب مجبوری ہے کوئی چور ڈاکو بھی آ کر وعدہ کرے گا تو ہم اس کی سنتے ہیں۔

کبھی دل کرتا ہے یہ حکومت ہم سب کو جیل میں ڈال دے وہاں دو وقت کی روٹی تو ملے گی اور کوئی کارڈ بھی نہیں پوچھے گا۔

کارڈ کی وجہ سے اتنی پریشان ہوں کہ سوچتی ہوں خودکشی کر لوں۔ پھر بچوں کا خیال آتا ہے تو سوچتی ہوں کہ بچوں کو ساتھ لے کر خودکشی کر لوں تاکہ سب کی جان چھوٹ جائے۔

بنگالی

Getty Images

محلے والے بھی عزت کرتے ہیں۔ فیصلے کے لیے میرے پاس آتے ہیں۔

تھانے میں جاتی ہوں تو پولیس والے اُٹھ کر چلتے ہیں۔ بس اب آخری قنایہ یہ ہے کہ ایک دفعہ شناختی کارڈ بن جائے تو سعودی عرب جا کر عمرہ یا حج کر لوں۔

اگر ایسے ہی فوت ہو گئی تو ساری عمر نادرا کو اور حکومت والوں کو میری بددعائیں لگیں گی۔

کراچی کے بنگالیوں پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •