شوہر سے گھن آئے تو۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا جسم میری مرضی

میرا جسم، میرا اختیار، میرا حق، میری خوشی، میری خواہش، میری سہولت۔

میرا جسم میری مرضی

کسی بھی انسان کی خواہش پر خواہ وہ میرا شوہر ہی کیوں نہ ہوں میں اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔

عورت اور مرد کچھ نہیں دونوں کے بنیادی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔

میرا جسم میری مرضی

میں اپنی سہولت اور ماحول کے مطابق اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے لباس کے انتخاب کا فیصلہ خود کر سکتی ہوں۔

اپنے لیے لباس کے انتخاب کا حق صرف مجھے ہے۔

میرا جسم میری مرضی

اس احتجاج میں جانے کتنی زیادتیوں، اور زنا بالجبر کی کہانیاں پوشیدہ ہیں۔

میرا جسم میری مرضی

افسوس اس احتجاج کوکچھ ذہنوں نے وہی سمجھا جو ان کے اندر ہمیشہ سے پوشیدہ ہے، اورجو ان کی اخلاقی گراوٹ کی آئنہ دار ہے۔ اس نعرے کو مقدور بھر ذہنی خرافات کے مطابق معنی دیے گئے۔

میرا جسم میری مرضی

ماروی سرمد نے واضح طور پر شوہر کے لئے کہا کہ اسے جسم تک رسائی دوں یا نہ دوں میری مرضی۔

ماروی سرمد کے اس جملے میں شوہر کی نا فرمانی یا فحاشی کا کوئی پہلو نہیں، اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں، ہمارے ہاں کتنی عورتیں اپنی مرضی، خوشی اورخواہش کے بغیر یہ فرض توہاً و کرہاً انجام دیتی ہیں۔

میرا جسم میری مرضی

یہ بات عین اسلامی تقاضوں اور ہمارے نبی کے ایک انصاف پسندانہ فیصلے کی عکاس ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار آخری نبی کے پاس ایک عورت اپنے شوہر سے خلع کی درخواست لے کر آئی۔ آپ نے فرمایا، تمہارا شوہر تمہارا خیال نہیں رکھتا، کھانے پینے کو نہیں دیتا، محبت نہیں کرتا، ضروریات کا خیال نہیں رکھتا؟ اس عورت نے بتایا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے، اس کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اس حوالے سے اسے کوئی شکایت نہیں۔ آپ نے سوال کیا پھر تم اس کے ساتھ کیوں رہنا نہیں چاہتیں۔ اس عورت نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ مجھے اس سے گھن آتی ہے۔ آپ نے اس کے شوہر سے اسے آزاد کر دیا۔

اس تاریخی فیصلہ کی روشنی میں عورت کی خلع کی درخواستوں کو منظور کرنے کے لیے ججز کو کسی دلیل اور وکیل کی ضرورت نہیں رہتی۔

عورت کو اپنے شوہر سے گھن آئے تو وہ کہہ سکتی ہے۔

میرا جسم میری مرضی۔

میں تمہارے قریب نہیں آسکتی۔

مجھے تم سے گھن آتی ہے۔

میرا جسم میری مرضی

اس کے بجائے جو نعرہ یہ ہوتا کہ میرا جسم تیری مرضی۔

سوچتی ہوں تب منہ سے جھاگ اڑانے کے بجائے ایک خاص حظ اٹھایا جاتا۔ دعوت عام کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

میرا جسم میری مرضی

، شکر مناؤ کہ اس نعرے کی گونج ابھی مدھم ہے۔ آبھی تو آدھی عورت نے بھی اسے آدھا ہی لیا ہے۔ جس دن پوری عورت نے اس نعرے کو کو پوری طرح جان لیا اور نبی کے انقلابی فیصلے کے تحت تم سے گھنیانا شروع کر دیا تو اگاؤ گے کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *