انیس عورتیں۔ سندھی ناول کے اردو ترجمے پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے الف لیلیٰ کی کہانیوں میں پڑھتے آئے کہ ایک شہزادے نے کبھی سات مشکل سوالوں کا جواب دے کرتو کبھی دیو سے مقابلہ کرکے اپنی محبت کوقید سے چھڑایا۔ بہت تخیلاتی اور خوش گوار احساس ہوتا تھا، لیکن یہ سوال بھی کہ ہمیشہ یہ ظالم بادشاہ یا دیو بیچاری شہزادیوں کو کیوں قید کرلیتے ہیں۔ اور ان کی آزادی اتنی جوکھم کا کام کیوں ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ شہزادی ہمیشہ اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے؟ بڑے ہونے پر معلوم ہوا کہ شہزادی ایک استعارہ ہے۔

کبھی سانس لینے کی آزادی کا، کبھی دھرتی کے تقدس کا، کبھی پرکھوں کے تہوار منانے کی آزادی وخوشی کاتو کبھی محبوب سے ملنے کا۔ اس میں شہزادہ اور شہزادی حسبِ ضرورت اپنے چولے بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک عام آدمی اپنی دانش سے اپنے دیس کی مغوی عورتوں کورہا کرا کر شہزادہ یا ہیرو بن جاتا ہے تو کبھی ایک قیدی عورت اپنی عزت داؤ پر لگا کر دھرتی کے حقدار کو اس کا حق پہنچا دیتی ہے، اور شہزادی یا ہیروئین بن جاتی ہے۔ اور یہ خیال مجھے ناول ”انیس عورتیں“ پڑھنے کے بعد اچانک اتنی وضاحت سے آیا کہ بچپن کی ساری کلفت دھل گئی۔

یہ ناول رسول میمن کے سندھی زبان میں لکھے گئے پانچ ناولوں میں سے ایک ہے۔ رسول میمن سندھی ادب کے موجودہ فکشن نگاروں کی صفِ اول میں شامل ہیں۔ سندھی فکشن میں علامت نگاری کے حوالے سے ان کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ ان کے سندھی افسانوں کی ایک کتاب اردو میں شاہد حنائی نے ترجمہ کرکے قارئین تک پہنچائی ہے تاہم ناولوں میں سے یہ پہلا ناول ہے جو اردو قالب میں سامنے آیا ہے۔ حال ہی میں ان کی سائنس اور فلسفے کے موضوعات پر کتابیں بھی کافی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔

اس ناول کے مترجم نیاز ندیم ہیں جو گذشتہ پانچ سال سے انڈس کلچرل فورم کے چیئرپرسن کی حیثیت سے پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کے روحِ رواں ہیں۔ ایک طرف وہ اس منفرد میلے کے ذریعے پاکستان بھر کی 73 زبانوں کی یکساں حیثیت کے لئے کوشاں ہیں اور ہر سال بیس سے زائد زبانوں کے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو یکجا کرنے کا اہم کارنامہ سرانجام دے رہیں تو دوسری طرف وہ اپنی مادری زبان سندھی کے ادب کو دیگر زبانوں خاص طور پر اردو میں تراجم کرنے کو اپنا مشن مانتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ سندھی ادب پاکستان اور خطے کی باقی زبانوں کے معیار سے کسی طرح پیچھے نہیں لہٰذا سندھی ادب کو بڑے فخر سے باقی زبانوں کے ادب کے ساتھ پیش کیا جا نا چاہیے۔ وہ مادری زبانوں کا میلہ منعقد کرنے کو کئی دوستوں کا اجتماعی کام مانتے ہیں تاہم سندھی ادب کو دیگر زبانوں کے قارئین تک پہنچانے کو اپنی ذاتی دلچسپی کا امر مانتے ہیں۔ اور ترجمے کے فن کے ساتھ ان کی وابستگی بھی دیرینہ ہے۔

نیاز ندیم نے ترجمے کے لیے رسول میمن کے اس مختصر مگر گہرے ناول کا بہت خوب انتخاب کیا، اس پہ اس کے انتساب نے کہ ”سندھی زبان و ادب کے ان چاہنے والوں کے نام جو سندھی ادب کو اردو میں پڑھنا چاہتے ہیں“ اردو بولنے اور پڑھنے والوں کے لیے تاریخ کا ایک نیا در وا کردیا۔ وقت کی حقیقت تک پہنچانے والا وہ دروازہ جو مصلحتوں کے پیچھے چھپا دیا گیا۔ جو صدیوں کے سفر کی گرد سے دھندلے آئینے جیسا ہوگیا، کم از کم یہ ضرور ظاہر کررہا ہے کہ اصل تصویر کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔

یہ کہانی کہیداس اور ہارانسی کی محبت، جدائی، قید اور رہائی کی کوششوں کے گرد گھومتی ہے، مگر اس کی وسعت سندھ سے لے کرعرب دنیا تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا بنیادی خیال محبت ہے، لیکن صرف دو کرداروں کی محبت نہیں، یہ سندھ کے عوام کی امن، ثقافت اور زندگی سے محبت کا اظہار کرتی جاتی ہے۔ یہ جبرکے خلاف چاہے وہ ہنسنے پر ہو چاہے زبردستی سوگ منانے کا، بغیربلند نعرے لگائے، دریائے سندھ کی ہلکورے لیتی لہروں جیسی مزاحمت کا احساس دلاتی ہے، جو صدیوں سے موجود تھی اور ہے۔ یہ عام معصوم شہریوں کے ان حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں، جن کوماضی میں وہ حقوق کا نام نہیں دیتے تھے لیکن زندگی کا حصہ سمجھتے تھے۔ جیسے چاند کی روشنی میں سفر کرنا یا مسافروں کو آگ تاپنے کے لیے ساتھ بٹھانا سب کا سانجھا ہوتا تھا۔ جہاں آسمان اور زمین میں وسعت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔

یہ ناول مجھے تو اس دنیا میں لے گیا جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں، جہاں جانے کا ہر پر امن شہری خواب دیکھتا ہے جس کا ایک عام روایتی کردار نہ صرف پرامن شہری ہے بلکہ عقلمند ہونے کے ساتھ ساتھ وفادار بھی ہے۔ اس ناول کا ہیرو اور ہیروئین نہ تو حکمران ہیں، نہ فوجی نہ سپہ سالار، نہ عرب نہ ہندو، نہ کسی حکمران کے حامی، نہ کسی کے دشمن۔ ایسے کردار جو صرف محبت کرتے ہیں اور پر امن دھرتی و زندگی کے خواب دیکھتے ہیں اور اس کے لیے قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ اردو زبان کے قارئین کے لئے یہ ناول چند تاریخی حقائق کے حوالے سے متبادل بیانیہ فراہم کرنے کا کام بھی کر رہا ہے، تاہم خود ناول نگار نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ناول کا حوالہ تاریخ ضرور ہے لیکن اس کو تاریخی ناول نہ سمجھا جائے۔

ناول گو فکشن ہے تاہم اس کو تاریخی پس منظر میں لکھا گیا تو اس وقت کی زبان کے بہت سے الفاظ موجود ہیں، مترجم نے ان کا بخوبی اردو میں ترجمہ کیا ہے کہ زبان کی لطافت برقرار رہتی ہے اور آپ ناول کو بغیر رکے پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر جب مکمل کرلیتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ سمندر کا سفر الگ سے پڑھا جائے ا ور صحرا کی رات میں اس بانسری کو ہونٹوں پر رکھا جائے جو اپنے سُرسے سفر کا سندیسہ دیتی ہے۔ غرض ہر باب ایک علیحدہ مگر مکمل کہانی ہے، جو آپ کو ناول کے سحر میں گرفتار رکھتی ہے۔

اور ناول اپنے موضوع، زبان، پیشکش اور ترجمے کے فن کی کئی خوبیاں سمیٹے ہوئے قارئین کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے۔ بلاشبہ مترجم نیاز ندیم مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے مادری زبان کے ادبی میلے میں اس ترجمے کو پیش کیا اور سندھی زبان سے ایک خوبصورت ناول اردو زبان کے قارئین کوپڑھنے کو ملا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ترجمے کا یہ کام جاری رہے گا۔

ناول مائی پبلیکیشن سکھر نے شائع کیا ہے اس کی قیمت 250 روپے ہے تاہم آپ 0300 8523060 پر رابطہ کرکے یہ کتاب رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *