موٹیویشنل اسپیکرز: کھوٹے سکے بھی چل سکتے ہیں


آج کل موٹیویشنل اسپیکرز کا کافی غلغلہ ہے۔ وہ لوگوں میں اپنے جوشِ خطابت سے ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ انفرادی طور پر بھی ان کی مجالس میں شرکت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی کمپنیاں اور ادارے بھی ان کو اپنے ہاں مدعو کرتے ہیں جہاں وہ ان اداروں اور کمپنیوں کے ملازمین کو اپنی کارکردگی بڑھانے کے گر سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ان کے اکاؤنٹس اور پیجز بنے ہوئے ہیں جہاں یہ لوگوں کا لہو گرمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لوگ ان کی باتوں پر عمل کریں یا نہ کریں، لیکن ان کی باتیں غور سے سنتے ضرور ہیں۔ اگر وہ اپنی باتوں میں مذہب کا تڑکا بھی لگا دیں تو سننے والوں کا شوق دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ ان پر عمل اور اس کے نتیجے میں کامیابی کی شرح ایک الگ موضوع ہے۔ سننانے والوں کو بھی اس امر میں دلچسپی کم ہی ہوتی ہے کہ لوگ عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ ان میں زیادہ تر بھاری معاوضے پر یہ اچھی اچھی باتیں بتاتے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے پہلے سے لکھی اور کہی ہوئی باتوں کو بس رٹ لیا ہے اور فنِ تقریر میں مہارت کی وجہ سے ان رٹی ہوئی باتوں کو لوگوں کے سامنے دہرا کر اپنی دکانداری چمکا لیتے ہیں۔ وہ تنقید کرنے والے کو یہ جواب بھی دے سکتے ہیں کہ میاں آپ بھی یہ رٹنے اور دہرانے والا کام شروع کر لیں، آپ کو کون سا کسی نے روکا ہے؟

سوال یہ ہے کہ ترقی کے لیے صرف موٹیویشنل اسپیکرز ہی ضروری ہیں؟ جی نہیں۔ ایک عیسائی پادری کی کتاب کا ترجمہ پڑھنے کو ملا تھا، وہ بھی ساتھ موٹیویشنل اسپیکر بھی تھا۔ اس نے بھی ایک فارمولہ بتایا تھا کہ کسی بھی چیز کے حصول کے لیے پہلے اس کا خواب دیکھو، یعنی خواہش کرو، اللہ سے صدقِ دل سے دعا کرو اور پھر کوشش شروع کر دو۔ اس نے دو چیزوں کاذکر کیا جواس نے اسی فارمولہ سے حاصل کیں۔ اس نے کار کی خواہش کی، اللہ سے دعا کی اور پھر کوشش شروع کر دی۔

بظاہر کوئی وسائل نہیں تھے۔ ایک دن کاریں بنانے والی ایک کمپنی سے اسے اپنی فیکٹری میں لیکچر کے لیے بلایا اور جاتے ہوئے اسے اسی کار کی چابیاں پیش کیں جس کی اس نے خواہش کی تھی۔ پھر اس نے ایک دن امریکہ میں کرسٹل کے گرجا گھر کا خواب دیکھا۔ اسی فارمولے پر عمل پیرا ہو کر وہ ایک دن اسے تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ کامیاب لوگوں کی محفل میں بیٹھنے سے بھی انسان کے اندر آگے بڑھنے کو حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ناکام لوگ بھی اس سلسلے میں انسان کی مدد کر سکتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کے ساتھ ساتھ ناکام لوگوں بھی لیکچرز کے لیے بلانا چاہیے، ان کے پاس بیٹھنا چاہیے۔ وہ لوگوں کو اپنی ناکامی کی وجوہات بتائیں اور لوگ ان وجوہات سے دور رہ کر کامیابی کا راستہ چن سکتے ہیں۔ وہ لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ کون سا راستہ اختیار کر کے انہوں نے ناکامی کامنہ دیکھا، ان سے کون سی اور کہاں پر غلطیاں ہوئیں جنہوں نے ان کی منزل کھوٹی کی۔ یہ۔ ”کھوٹے سکے“ ہمارے خیال میں درست سمت میں لوگوں کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS