معروف عالم دین اور رکن اسمبلی مولانا معاویہ اعظم نے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کی حامی خواتین کو نادرمشورہ دے دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب اسمبلی میں راہ حق پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور معروف عالم دین مولانا محمد معاویہ اعظم طارق نے کہا ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا نعرہ لگانے والی خواتین کے جسموں پر اگر ان کی مرضی چلتی ہے تو پھر وہ سب سے پہلے یہ کام کریں کہ اپنے آپ کو عورت سے’’مرد ‘‘ بنا لیں تاکہ سارا مسئلہ ہی ختم ہو جائے، خواتین کسی بیرونی ایجنڈے کی بجائے اپنے جسم پر اللہ کی مرضی نافذ کریں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور ملک کے نوجوان عالم دین مولانا محمد معاویہ اعظم طارق نےعورت مارچ کی حمایتی خواتین کے نام سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 8 مارچ کو ’’عورت مارچ‘‘ پچھلے سال بھی ہوا اور کتبوں پر لکھا ہوا یہ ایک جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ’’میرا جسم میری مرضی ‘ ‘ بہت اچھی بات ہے کہ اگر آپ کے جسم پر آپ کی مرضی چلتی ہے تو سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنے آپ کو عورت سے ’’مرد ‘‘ بنا لیں تاکہ سارا مسئلہ ہی ختم ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے جسم پر آپ کی مرضی چلتی ہے تو زرا سر کے بالوں سے لیکر پاؤں کے ناخن تک سوچیں تو سہی، آپ کی مرضی کے مطابق آپ کے بال ہیں؟ ہزاروں قسم کے شیمپو لگانے کے باوجود آپ کی من چاہی زلفیں نہیں بن سکتیں جس کے لئے آپ زندگی بھر کوشش میں لگی رہتی ہیں، کیا آپ کی آنکھیں آپ کی مرضی کی ہیں؟ کیا آپ جس طرح کا ناک چاہتی ہیں وہ آپ کی مرضی کا ہے؟ کیا آپ کے ہونٹ آپ کی مرضی کے ہیں ؟ کیا آپ کا خاندان آپ کی مرضی کا ہے؟ کیا آپ کے والدین اور بہن بھائی آپ کی مرضی کے ہیں؟ یہاں تک کہ آپ کے رشتہ دار آپ کی مرضی کے ہیں؟

جب کوئی بھی آپ کی مرضی کا نہیں تو پھر آپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ساری چیزوں کو برابر جوڑ کر انسان کی شخصیت میں ہو یا پھر خاندان میں بکھرے ہوئے رشتہ داروں میں ہو یا ولدین اور بیوی بچوں میں ہو ؟ تمام چیزوں کو برابر کرنے والی صرف اللہ کی مرضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہر جگہ پر، رشتہ داروں میں، والدین میں، بہن بھائیوں میں، حتیٰ کہ اپنی شخصیت میں اللہ کی مرضی ہے اپنی مرضی نہیں ہے تو پھر میری بہن اپنے جسم پر اللہ کی مرضی نافذ کریں اور کسی بیرونی ایجنڈے کی مرضی کو اپنے اوپر نافذ نہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply