بھارتی مسلمانوں کی بے بسی اور سویا ہوا عالمی ضمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارضِ ہند پر گرتی ہوئی مظلوم مسلمان کے خون  کی ہر بوند  بے کس و لاچار مسلمانوں کی آہ وبکا، درندگی کا شکار مسلمان عورتوں کی چیخ و پکار، مساجد اور مذہبی درس گاہوں کی پامالی ومسماری، مسلمانوں کے گھر اور دکانوں کی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہم ٹویٹ پر مذمت کر رہے۔ اور عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔

خون مسلمان  کس قدر ارذاں ، کس قدر بے توقیر ہے۔ مسلمان عورتوں، بیٹیوں اور بہوں کی عزت و عفت کس قدر ملیا میٹ ہے۔اسکا مظاہرہ گذشتہ چند ماہ سے بھارت کے مختلف شہروں میں  ہو رہا ہے۔ جب شہر بت کےانتہائی متنازعہ اور غیر منصفانہ قانون کا نفاد صرف مسلمان اقلیت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے کیا گیا تومسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ یہ احتجاج فطری اور قانونی تھا۔ مگر بھارتی جمہوریت بلکہ بھارتی ریاست جسے اب ایک ہندو جنونی ریاست کہنا زیادہ قرین حقیقت ہے۔ وہ اس احتجاج کے سامنے لرزہ براندام نظر آئی۔

تو پھراسی جنونی ریاست نے ایک انتہا پسند وزیراعظم کی  سرکردگی میں اپنے آر۔ایس۔ایس کے غنڈوں کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں مسلمانوں پر کھلا چھوڑ دیا گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں مسلمانوں کے ساتھ جو نا روا سلوک، جو مظالم ، جو تشدد ہوا اسکی نظیر ماضی قریب میں صرف گجرات میں  مودی کی سرپرستی میں ہونے والے مظالم میں ہی ملتی ہے۔ مسلمانوں کی املاک کو تباہ کیا گیا۔ کئی مسلمانوں کی دکانوں کو لُوٹا گیا۔ عورتوں سے بدتمیزی اور اُنکی بے حرمتی کی گئی ایسے نظر آتا تھا۔ کہ ایک مکمل منصوبہ بندی سے حکومتی سرپرستی میں سب کچھ ہور ہا ہے۔

کسی سرکاری سکیورٹی ادارہ نے  مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی عملی قدم نہ  اٹھایا۔ ایسے میں  ایک دلیر اور باضمیر ہندوجج نے ایسے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر جونہی ایک حکم صادر کیا  راتوں رات اُس جج کا تبادلہ کر دیا گیا۔ یوں بھارتی جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کا پُول کھل گیا۔ جب بھی کوئی ریاست عدل و انصاف اور مساوات سے ہٹ کر مذہبی جنونیت کا لبادہ  اوڑتی ہے۔ تو ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔

بھارت جو  تقریباً 70 سال تک اپنی ساری عیاریاں اور بے انصافیاں خصوصاً کشمیری مسلمانوں کے تناظر میں سیکولر سٹیٹ کے پردے میں چھائے ہوئے تھے۔ اس شہر بت قانون میں تبدیلی کے بعد سیکولر سٹیٹ کے تصور سے دستبردار ہو کر ایک  کڑ مذہبی جنونی ریاست  کے طور پر  اُبھرا ہے۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں اقوام  عالم کا ردِ عمل بڑا ہی  مایوس کُن ہے۔ سوائے ترکی، ملائشیا یا ایک دو دیگر ممالک کے کسی عالمی لیڈر کو کُھل  کر اس بھیانک صورتحال کی مذمت کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔

ہمارے محترم وزیر اعظم مسلسل ٹویٹ کر کے عالمی  ضمیر کو جگانے کی ناکام کو ششوں میں مصروف ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس گھمبیر صورتحال میں اور مشکل کی اس گھڑی میں جو  رول پاکستانی حکومت اور پاکستانی قوم کو ادا کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہم نہیں کر سکے۔

ہم تو شاید کھل کر اس کی  مذمت بھی نہیں کر سکتے بار بار عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا کہ دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف چلی جائے گی اور خطہ میں تباہی و بربادی ہوگی دنیا اسے خالی بڑھکوں اور  دعووں میں لے رہی ہے۔  یہ ایک کارپویٹ دنیا ہے ۔ یہاں قوموں کے معاشی مفادات، اخلاقیات پر حاوی ہوتے جا رہیں۔ بڑے امیر اسلامی ممالک جو پاکستان کے کبھی حلیف ہوا کرتے تھے۔ اُنکے  بڑے گہرے مفادات بھارتی معیشت میں ہیں ایک طرف مندر اور گوردوارے تعمیر ہورہے ہیں۔ دوسری طرف مساجد جلائی جارہی ہیں۔ مگر کسی مسلمان  کو سوائے ترکی اور ملائشیا کے چند الفاظ مذمت کے بھی نہیں مل رہے۔

او۔ آئی۔ سی ایک مردہ گھوڑا نظر آ رہی ہے۔ اقوام متحدہ صرف تشویش کی حد تک اور سلامتی کونسل صرف حالات پر نظر رکھنے کی حد تک ایکٹو ہیں ۔ مسلمانوں کی ایسی بے توقیری الامان، امریکہ کا رول اس ساری صورتحال میں بڑا گھناونا ہے۔ امریکہ بھارت  گٹھ جوڑ کوئی خفیہ راز نہیں۔

صدرٹرمپ کے  مشہور زمانہ کشمیر پر ثالثی کی آفر کے اگلے روز ہی کشمیر پر تاریخ کا سب سے خوفناک کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اور کشمیریوں کے تمام  شہری حقوق غصب کر لئے گئے۔ اور ریاست کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کر یدیا گیا۔  پھر صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے روز وہ پر امن دھرنا جو مسلمان خواتین دہلی میں کئی ہفتوں سے دے رہی تھیں اس پر سرکار کی سرپرستی میں آر۔ایس۔ایس کے غنڈوں کا حملہ مسلمان علاقوں پر آر۔ایس۔ایس کے غنڈوں کی یلغار مساجد کی بے حرمتی اور دل کو چیر دینے والے مظالم سب اسی وقت تو ہورہے تھے۔ جب صدر امریکہ نئی دہلی میں موجود تھے۔

عالمی میڈیا سب کچھ دکھا رہا تھا۔ مگر صدر امریکہ کو یہ توفیق نہ  ہوئی کہ وہ کم ازکم اپنی موجودگی میں ان مظالم کو بند ہی کروا دیتے۔ اس تناظر میں پاکستانی سیاسی و فوجی قیادت کا صدر ٹرمپ سے اس تنازعہ  میں کسی منصفانہ اور مثبت کردار کی  توقع رکھنا غلط ہے۔ اسکا  صرف ایک ہی  حل ہے۔ کہ پاکستان دفاعی اور معاشی لحاظ سے مضبوط ہو۔ مگر ہم تو اپنے اندرونی جھگڑے اور آئی۔ ایم ۔ایف کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ عالم اسلام میں سوائے طیب اردوان کے کوئی  با جراًت  قیادت  نہیں۔  پاکستان  کو جس  سفارتی اور سیاسی کاوشوں کی ضرورت تھی۔ وہ ناپید ہیں۔ ہم خاموشی سے یہ سارے  مناظر دیکھتے ہوئے شاید اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لئے ہوئے

غافل کو یہ گمان ہے کہ پتھر نہ آئے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply