مہتاب اکبر راشدی سے ایک مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہتاب اکبر راشدی 3 مارچ 1947 کو نوڈیرو میں پیدا ہوئی۔ انہوں نے گورنمنٹ گرلز کالج حیدرآباد سے بی اے کیا۔ سندھ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا۔ انہوں نے لندن سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1981 میں مہتاب اکبر راشدی کی شادی بیوروکریٹ اکبر راشدی سے ہوئی، بعد ازاں وہ بھی بیوروکریسی میں شامل ہوگئیں اور تعلیم، اطلاعات اور ثقافت سمیت متعدد محکموں سے وابستہ ہوگئیں۔ 2004 میں، صدر پاکستان نے ان کی خدمات کے لئے انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔

مہتاب اکبر راشدی وہ 2013 کے پاکستانی عام انتخابات میں خواتین کے لئے مخصوص نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ف) کی امیدوار کے طور پر سندھ کی صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئیں۔

ہم سب : لہجے کا دھیماپن اور الفاظ میں اتنی پختگی، یہ ہنر کہاں سے سیکھا؟

مہتاب اکبر راشدی: (ہنس کر ) یہ سب آپ کی محبت ہے، دراصل والدین کی تربیت اور مطالعے کے شوق کی وجہ سے میرے انداز میں یہ سب کچھ آگیا ہے۔

ہم سب : آپ اور پاکستان ہم عمر ہیں، وطن عزیز کے مستقبل سے کتنا مطمئن ہیں؟

مہتاب اکبر راشدی: مطمئن تو بالکل بھی نہیں ہوں، بدقسمتی سے ہم نے اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا، ہمارے یہاں باقاعدہ جمہوریت کبھی نہیں آئی، جب تک مکمل اور باقاعدہ جمہوریت نہیں آئے گی میں پاکستان کے مستقبل سے مطمئن نہیں ہوں گی، جیسے ماضی میں باریاں لگی تھیں، سب اپنے مفاد میں لگے رہے پی پی پی حزب اقتدار میں آئی تو مسلم لیگ نون ان کی اتحادی بن گی، ن لیگ حزب اقتدار میں آئی تو پی پی نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا، ان دونوں جماعتوں نے کراچی ایم کیو ایم کے حوالے کرکے کراچی کا بیڑا غرق کیا جبکہ ملک کا ستیاناس خود مارا، اب تحریک انصاف کی حکومت کو ہی دیکھ لیں کوئی گورننس نہیں ہے حد ہے بات کرنے تک کی تہذیب نہیں ہے، پھر میں کیسے پاکستان کے مستقبل سے مطمئن ہو جاؤں۔

ہم سب : سیاست میں آنے کا اتفاق کیسے ہوا؟

مہتاب اکبر راشدی: پیر پگاڑا صاحب نے مجھے یہ ذمے داری دی اور لاڑکانہ کی سیٹ سے کھڑا کیا جس کی صورتحال سب کے سامنے ہے، 2013 کے عام انتخابات میں، میں لاڑکانہ شہر سے کھڑی ہوئی تھی اس صورت میں تین دن میں وہاں کا رزلٹ سامنے آیا جبکہ فریال تالپور شہر سے دور جس میں دیہاتی علاقے لگتے تھے اس سیٹ کی نمائندہ تھیں ان کا فوری رزلٹ آگیا، میں لاڑکانہ کی سیٹ سے 32 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئی جبکہ میں نہیں سمجھتی کہ وہ محض 32 ہزار ووٹ تھے کیونکہ تین دن کا وقت لگ جانا میرے نزدیک مشکوک عمل ہے، بہرحال لاڑکانہ کے لوگوں کی محبت کا شکریہ جس کے پیچھے راشدی صاحب کی محنت اور خدمت خلق کا جذبہ کار فرما ہے، انہوں نے مجھے ہر مقام پر بہت سپورٹ کیا ہے، خیر چلیں مجھے انتخابی سیٹ تو نہ مل سکی مگر میں راشدی صاحب کے مشورے اور پیرپگاڑا صاحب کے حکم پر خواتین کی مخصوص نشیت پر مسلم لیگ فکشنل کی نمائندہ بن کر سندھ کے ایوان تک جا پہنچی

ہم سب : یعنی آپ کی کامیابی کے پیچھے مرد کا ہاتھ ہے۔

مہتاب اکبر راشدی: بالکل، نہ صرف مرد بلکہ مردوں کا ہاتھ ہے، والد صاحب سے لے کر راشدی صاحب پھر میرے بیٹے مجھے بہت سپورٹ کرتے ہیں، میرے شوہر سید گھرانے سے ہیں جبکہ میں ٹیلی وژن کی نمایاں شخصیت تھی اس کے باوجود راشدی صاحب ہمیشہ میرے فرنٹ پر رہے۔

ہم سب : عورت کو قانون سازی کا حق کیوں نہیں حاصل ہے؟

مہتاب اکبر راشدی: ہم اس پر کام کر رہے ہیں، ایک بات ماننے کی ہے کہ جنرل مشرف نے اس سلسلے میں بہت کام کیا، انہوں 33 فیصد خواتین کی نمائندگی رکھی جبکہ زرداری صاحب نے صدر بنتے ہی اس تعداد کو 23 فیصد میں بدل دیا، یہ حال ہے آمر اور جمہوریت کے چیمپن کا۔ خواتین کو بالکل قانون سازی کا حق ہے مگر اپنی پارٹیز کی جانب سے سورٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ فعال کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں َ،

ہم سب : معاشرے کی بہتری میں عورت یعنی ماں کا کردار کتنا اہم ہے؟

مہتاب اکبر راشدی: بہت اہم ہے جب تک ماں بھائی کو بہن کی عزت کرنا نہیں سکھائے گی وہ عورت کی عزت کرنا نہیں سیکھے گا۔

ہم سب : دو ٹکے کی عورت کے مکالے پر کیا کہیں گئیں؟

مہتاب اکبر راشدی: یہ مکالمہ تو اب زبان زد عام ہے، ہمارے معاشرے میں عورت کی جس طرح تذلیل ہوتی ہے وہ سب جانتے ہیں، چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، راہ چلتی لڑکیوں کو ہاتھ لگا کر جانا، جملے کسنا، پبلک ٹرانسپوٹ میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی یہ سب وہ عوامل ہیں جنھوں نے عورت کے ٹکے مقرر کیے ہوئے ہیں، یہ مخصوص مائنڈ سیٹ کی خرافات ہیں جس کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔

ہم سب : ہمارے ڈراموں میں عورت کو مجبور ہی کیوں دیکھایا جاتا ہے، کیا با اختیار خاتون کی عکاسی سے

ریٹینگ کم آئے گی؟

مہتاب اکبر راشدی: زوردار قہقہہ، میں خود اس روتی عورت کی عکاسی کے سخت خلاف ہوں جب تک با اختیار عورت کی مثبت تشئیر نہیں ہوگی عورت کے ٹکے اسی طرح لگتے رہیں گے۔

ہم سب : آپ تو خود خواتین کی رول ماڈل ہیں، آپ کی رول ماڈرن ہیں؟

مہتاب اکبر راشدی: ہنس کر، بہت شکریہ آپ نے مجھے رول ماڈل کہا جبکہ میں تو معمولی انسان ہوں، میری رول ماڈل میری والدہ، میری اساتذہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو میری رول ماڈل ہیں۔

ہم سب : محترمہ بے نظیر کے ساتھ کوئی یادگار واقعہ؟

مہتاب اکبر راشدی: بہت سے ہیں، میری شادی میں آئی تھیں اور میرے میاں کو دیکھ کر کہنے لگی یہ تو بہت ہینڈسم ہیں، راشدی صاحب کو بھائی کہا کرتی تھیں، میرے بچوں کو بہت پیار کرتی تھیں، اکثر تحائف بھیجا کرتی تھیں۔

ہم سب : آپ کا اپنی بہوؤں کے ساتھ کیسا تعلق ہے؟

مہتاب اکبر راشدی: میری کوئی بیٹی نہیں ہے، میں نے جب اپنے دونوں بیٹوں کی شادیاں کی تو ان سے کہہ دیا تھا میں اپنی بہو نہیں بیٹی لا رہی ہوں اگر تم نے کوئی بھی نا انصافی کی تو میں اپنی بہو کے ساتھ ہوں گی۔

ہم سب : بطور خود مختار خاتون، آج کی عورت کو کوئی پیغام؟

مہتاب اکبر راشدی: آج کی ہر لڑکی میری بیٹیاں ہیں اور وہ اتنی سمجھدار ہیں کہ اپنے اچھے برے کا سمجھ سکتی ہیں، اللہ اور اس کے رسول نے عورت کو قیدی نہیں بنایا مگر ہمارے رسم و رواج نے خواتین کو محدود کردیا ہے پھر مذہب کے نام پر اپنی دکانیں چمکانے والوں نے بھی عورت کے مقام اور اس کی ذات کے لئے من پسند فیصلے سنا ڈالے ہیں، میں اپنی بچیوں سے کہونگی کہ اپنی اہمیت کو سمجھیں۔

ہم سب : عورت مارچ پر کوئی رائے؟

مہتاب اکبر راشدی: بعض باتیں درست جبکہ بعض نعرے اخلاق سے گرے ہوئے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں کہونگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *