”(دو ٹکے“ کی حرکتں (ناقابل اشاعت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے نقطہ نظر کا اختلاف نہیں کہا جا سکتا ٗ ا گر آپ کو کسی کی سوچ ٗ ذاتیات ٗ نظریات یا کسی بھی چیز سے اختلاف ہے تو یہ آپ کی مرضی ہے۔ آپ کو اس کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ دوسرے کو۔ صدیوں کی جدوجہد کے بعد جنگلوں سے بڑی بڑی عمارتوں میں آکر بسنے والوں کو انسان کو نام دیا گیا اور ان کو انسانیت کے آداب سکھائے گئے تو ان آداب میں بنیادی ادب کی بات ہی یہ ٹھہری کہ جناب آپ اپنے کسی عمل سے کسی کو بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتے کیونکہ آپ انسان ہیں۔ آپ کے نظریات ٗ سوچ سب آپ کا حق ہے لیکن ان سے کسی بھی انسان کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اسی لئے جب کوئی دلیل کے جواب میں گالی یا گولی کی سوغات دیتا ہے تو ہم اسے غیر انسانی فعل کہتے ہیں۔ یعنی جب آپ انسانوں کی بستی میں رہ رہے ہیں تو انسانوں کی طرح پیش بھی آئیں۔ آپ کی مہربانی ہو گی۔

ماروی سرمدسے ذرا سی غلطی ہو گئی ٗجس کی انہیں بھاری قیمت چکانا پڑ گئی۔ انہیں خلیل الرحمن کا تاریخی پس منظر معلوم کرنے کے بعد ان کے ساتھ کسی علمی مباحثہ میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ خلیل الرحمن پاکستان کے مردوں کے حقوق کا ”الم“ بلند کر چکے ہیں اور واضح طور پر للکار کر موم بتی مافیا کو یہ چیلنج دے چکے ہیں کہ ”وہ پاکستان کے مردوں سے زیادتی نہیں ہونے دیں گے“۔ چند ایسی تیاریاں بھی تھیں جو ماروی سرمد کوخلیل الرحمن کے مدمقابل آنے سے پہلے لازمی کرنی چاہیے تھیں۔

ایک تو انہیں کم از کم چھ ماہ پہلے کوئی جم جوائن کرنا چاہیے تھا۔ وہ صاحب علم ہیں ٗ عالمی لٹریچر اور سیاسی رجحانات سے آگاہی رکھتی ہیں لیکن شاید انہیں خبر نہیں کہ سوناکشی سنہا وزن بڑھنے کے بعد ایک فیشن شو میں گئی تو انہیں ریمپ پر دیکھ کر کہا گیا کہ ”کیٹ واک کرتی ہوئی گائے“۔ انہیں سوشل میڈیا پر آنٹی جی ٗ موٹی ٗ ہاتھی ٗ موٹاکشی سنہا جیسے خطاب دیے گئے مگر پھر سوناکشی نے صرف چند ماہ میں اپنا وزن 30 کلوکم کر لیا۔

ماروی سرمد کو وزن کم کرنا چاہیے تھا ٗ سلم سمارٹ ہو کر انسٹا گرام پر اپنی تصویر شیئر کرنی چاہیے تھی تاکہ اگر خلیل الرحمن کے پاس ان کی دلیل کا جواب نہ ہوتا اور وہ ان کے جسم کو اپنے لعاب سے اعزاز بخشنا چاہتے تو ایسا کر سکتے۔ ماروی صاحبہ کے علم میں یہ بھی ہونا چاہیے تھا کہ خلیل صاحب ایک نستعلیق قسم کا ادبی مزاج رکھتے ہیں۔ ان کے جملے میں جاشنی ٗ حلاوت اوراعلیٰ نثری ذوق ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں ان کا سامنا کرنے کے لئے ایک ”خاص“ قسم کی تیاری کی ضرورت تھی لیکن وہ تیاری ان کے سب دلائل میں عنقا رہی۔ خلیل صاحب مسلسل انہیں بہترین مکالمہ جات سے نوازتے رہے جبکہ وہ اس کے جواب میں ہسٹریائی انداز میں ایک ہی جواب دیتی رہیں کہ ”میرا جسم ٗ میرا مرضی“۔

جون ایلیانے کہا تھا ”ہم تیرہویں صدی کے لوگ ہیں جنہیں بالوں سے گھسیٹ کر اکیسویں صدی میں لایا گیا ہے“۔ اکیسویں صدی میں رہنے والے تو شاید آپس میں علمی مباحثوں کا کوئی طریقہ کار وضع کر چکے ہیں لیکن ہم تیرہویں صدی کے پڑھے لکھے ابھی تک بہت سے مخمصوں کا شکار ہیں۔ خلیل الرحمن نے تو جو کیا سو کیا لیکن ان کے چاہنے والے ایک عورت کو گالیاں نکالنے پر انہیں ایسے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جیسے وہ کوئی آسکر جیت آئے ہیں۔

جیسے جاوید اختر ٗ گلزارنے فون کر کے انہیں مبارکباد پیش کی ہے آپ نے ایک عورت کو گالیاں نکال کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری رجحان کے پیچھے چلتی ہے تو کوئی بعید نہیں اگلے ڈرامے میں جب دانش کی بیوی مہوش اس کو چھوڑ کر جانے لگے تو وہ اسے دو ٹکے کی عورت کی بجائے کہتا نظر آئے کہ ”تیرے جسم میں ہے کیا۔ ٗ اس پر مرضی چلاتا کون ہے؟ اپنا جسم دیکھو جا کے۔ “ بیپ ”نہیں ہے کوئی آپ کے جسم پر۔

بے حیا عورت کے جسم پر کوئی ”بیپ“ نہیں ہے۔ ”بیپ“ عورت۔ الو کی ”بیپ“۔ تیری ایسی کی تیسی۔ شکل دیکھ اپنی جا کے ”۔ اور پاکستانی عوام نے ایک عورت کو گالیاں نکالنے پر خلیل الرحمن کو پھولوں کو ہار پہنائے ہیں امید ہے اگر انہوں نے یہ ڈائیلاگز اپنے آنے والے ڈرامے میں شامل کر لئے تو یہ ڈرامہ پاکستان ٗبلکہ دنیا کا کامیاب ترین ڈرامہ بن جائے گا۔

ایک طبقہ کہہ رہا ہے کہ خلیل صاحب نے ایک خاتون کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کر کے بنیادی طور پر ”باڈی شیمنگ“ کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ اصطلاح ان لوگوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو کسی کو اس کی جسمانی ساخت کی بنیاد پر تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یعنی کوئی موٹا ہے ٗ کالا ہے ٗ چھوٹا ہے ٗ بے ڈھنگا ہے ٗ اس کے چہرے ٗ جسم کی تراش پر تنقید یہ سب باڈی شیمنگ میں آتا ہے اور پوری دنیا میں اس کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ماروی سرمدبنیادی طور پر حقوق نسواں کی علمبردار ہیں اور حالیہ پروگرام میں بھی کیوں کہ ان کی تیاری نہیں تھی اس لئے وہ جواباً خلیل صاحب کو بہترین ڈائیلاگز سے نہیں نواز سکیں لیکن انہوں نے اپنا موقف ضرور بیان کیا کہ ”خواتین کی پاکستان میں یہ تحریک مردوں کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے ہے۔ پدر سری نظام کے خلاف ہے کیونکہ پاکستان میں آج بھی عورتوں پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ٗ عورتوں کے ساتھ ریپ ہوتا ہے ٗ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مسائل کا سامنا ہے ہے“۔

خلیل الرحمن کے شاید علم میں نہ ہو کہ وہ ایک ایسی تحریک کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز میں ہوا تھا جس کے لئے مجھے اردو میں کوئی متبادل لفظ نہیں مل سکا لیکن اسے Anti۔ feminism کہا جاتا ہے۔ 1873 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسرایڈورڈ کلارک ( اس دور کے خلیل الرحمن قمر ) نے کہا تھا کہ ”اگر خواتین کالج جائیں گی تو ان کے دماغ بڑے اور بھاری ہو جائیں۔ جس کا اثر ان کی زچگی پر پڑے گا“۔

ہم کیونکہ خلیل الرحمن کی مردوں کے حقوق کے لئے جنگ میں ان کے شانہ بشانہ چلنے کا اعلان گزشتہ کالم میں کر چکے ہیں اس لئے چاہیں گے کہ خلیل صاحب جس تحریک کا حصہ ہیں کم از کم اس کے بارے میں تھوڑی سی تحقیق ضرور کریں تاکہ اگر اگلی بار کوئی دلیل سے خواتین کے حقوق پر بات کرے تو انہیں سازشی تھیوری ٗ بیرونی سازشوں جیسی فرسودہ باتوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہ پڑے اور کسی خاتون کو گالیاں نکالنے جیسی ”دو ٹکے“ کی حرکت نہ کرنی پڑے۔ ویسے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ کسی عورت کو گالیاں پڑیں تو پاکستانی مرد اتنے خوش کیوں ہوتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *