کاش تمہارا بھی کوئی مرشد ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے اس بات پر فخر ہے کہ لوگ مجھے ایک ترقی پسند انقلابی تصور کرتے ہیں، لیکن آج میں کھلی کھلی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ میری ترقی پسندیدیت اور میرا انقلاب حدود و قیود کے اندر ہے، میں معاشرے میں مساوات اور انصاف کے لئے جنگیں لڑتا رہا ہوں، معاشرے کو مادر پدر آزادی دینے کے لئے ہرگز ہر گز نہیں، اگر آپ اپنی معاشرتی اور مذہبی حدوں کو پھلانگیں گے تو انقلاب نہیں صرف انتشار پیدا ہوگا۔

مجھے یاد ہے کہ سن انیس سو اکہتر میں میں نے پہلی بار شاہ حسین کالج میں ایک مباحثے میں حصہ لیا تھا جس میں میں نے مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی طرفداری اور وکالت کی تھی، حالانکہ میں عورتوں کا ڈسا ہوا تھا، مگر میرے سامنے وہ لاکھوں کروڑوں خواتین تھیں جو مرد کے ظلم کا شکار رہتی ہیں، حقیقت یہ بھی ہے کہ عورت اور مرد دونوں ہی ظالم بھی ہوتے ہیں اور مظلوم بھی،،، ہمارے سماج میں آج کا سب سے بڑا موضوع گفتگو، ایک لکھاری کی ایک انقلابی عورت کو دی گئیں گالیاں ہیں۔

یہ وہی لکھاری ہے جس نے جب یہ مکالمہ لکھا، اس دو ٹکے کی عورت کے لئے پچاس ملین دے رہے تھے تم؟، تو مردوں نے اسے داد و تحسین دی، مگر آج اس کے سارے پرستار خواتین اور مرد اس سے نالاں ہیں، کیوں؟اگر یہ آزادی اظہار رائے کا ایشو نہ ہوتا تو میں اس موضوع پر کبھی کالم نہ لکھتا، اختلاف رائے بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، آپ کسی سے اس کی کسی بھی بات پر کلی اختلاف تو کر سکتے ہیں، مگر دوسرے کے موقف کی بنیاد پر اسے موت کے گھاٹ نہیں اتار سکتے، بلا شبہ اس لکھاری نے مخالفانہ سوچ رکھنے والی خاتون کو ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر جو گالیاں دیں اور اس کے جسم پر جو ریمارکس دیے وہ غیر مناسب ہیں، اتنی نفرت؟ اتنا غصہ؟ کچھ تو ہے اس ذہنیت کے پیچھے۔

کچھ باتوں کا ،کچھ پس منظر کا ،مجھے بھی علم ہے لیکن میں اس کی تفصیل میں نہیں جائوں گا، بس اس لکھاری سے اتنا کہوں گا کہ اگر چند عورتوں نے زندگی میں آپ سے وفا نہیں کی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ آپ دنیا جہاں کی خواتین کے خلاف مجسم انتقام بن جائیں، اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ لکھاری ہیں تو آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ لکھاری کبھی کینہ پرور نہیں ہوتے، تخلیق کار کبھی بد زبان نہیں ہوا کرتے ، اگر گالم گلوچ کی بجائے دلیل سے بات کی جاتی تو رسوا ہونے والا لکھاری مردوں اور عورتوں دونوں کا ہیرو بھی بن سکتا تھا۔

میرا جسم میری مرضی، یہ سلوگن پچھلے سال ہونے والے عورت مارچ کا حصہ تھا، اس وقت بھی اس سلوگن پر تنقید ہوئی تھی، ان چار لفظوں میں بہت ابہام ہے اور اس ابہام کا شکار میں بھی ہوں، ماروی سرمد میرے کالج ٹیچر پروفیسر منظور صاحب کی بہو ہیں، ان کے شوہر سرمد منظور بھی میرے دیرینہ دوست ہیں، ماروی بھی میرے لئے قابل احترام ہیں لیکن میں ابتدا سے ہی انہیں نظریات کے اعتبار سے تھوڑی سی انتہا پسند تصور کرتا ہوں، نظریات قربانی مانگتے ہیں ، ترقی پسندانہ نظریات کی بنیاد پر ہی ایوب خان کے دور حکومت میں ان کے سسر پروفیسر منظور صاحب کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ ان اساتذہ کرام میں شامل تھے جنہیں محض اس لئے سرکاری نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا تھا کہ وہ ایوبی آمریت کے خلاف علم بلند کئے ہوئے تھے، وہ اس زمانے میں اسلامیہ کالج میں پڑھایا کرتے تھے، بے روزگاری کے بعد میں نے ان کی مشکلات اور مصائب خود دیکھے، انہوں نے سب کچھ برداشت کیا لیکن سمجھوتہ نہ کیا، دو دن پہلے چار مارچ کو میری سالگرہ تھی، دوسرے بے شمار دوست احباب کے ساتھ ماروی کے شوہر سرمد نے بھی مبارک باد کا پیغام بھیجا، سر مد کا میسیج ملتے ہی میں نے انہیں کال کردی۔

سب سے پہلے تو انہیں آگاہ کیا کہ میں بھی عورت مارچ کے اس سلوگن کے حق میں نہیں ہوں جس کے الفاظ ہیں،،،، میرا جسم میری مرضی،،،،،، سرمد نے بتایا کہ وہ ابھی تک اس معاملے سے پوری طرح واقف نہیں ہیں کیونکہ جب ان کی لکھاری کے ساتھ توں توں میں میں ہوئی وہ امریکہ میں تھے، وہاں تین دن پہلے انہیں والدہ محترمہ کے انتقال کر جانے کی اطلاع ملی اور وہ ہنگامی طور پر پاکستان واپس پہنچے اور اب بھی وہ والدہ مرحومہ کی آخری رسومات کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔

اس کے باوجود سرمد نے اس متنازعہ سلوگن پر تھوڑی بہت بات کی، وہ کہتے ہیں کہ اس نعرے میں کوئی بے ہودگی یا بے پردگی نہیں ہے، اس سلوگن کا مطلب یہ ہے کہ آج کی عورت اپنے جسم کو مردوں کے استحصال سے نجات پانے کا عہد کر رہی ہے، عورت کہہ رہی ہے کہ وہ اپنے جسم پر مزید تشدد برداشت نہیں کرے گی، کوئی مرد عورت کی مرضی کے خلاف اس کے جسم کو ٹچ نہیں کر سکتا، مرد عورتوں کا بیوپار نہیں کر سکیں گے،اب اسے جبر مسلسل میں نہیں رکھا جا سکتا، عورت کے لئے پیدائش سے موت تک مرد کی اطاعت کا خاتمہ ہونا چاہئیے، اب عورت کو عمر بھر چادر میں لپیٹ کر اور ڈھانپ کر نہیں رکھا جا سکتا، اسے اپنی مرضی کا لباس پہننے کی مکمل آزادی ہونی چاہئیے، اسے اپنی مرضی سے جینے کا حق ملنا چاہئیے۔

میں نے سرمد کی ساری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا،،، میرا اب بھی یہی موقف ہے کہ اس سلوگن میں ابہام ہے کیونکہ جس سلوگن کی آپ کو لوگوں کے سامنے وضاحتیں دینا پڑیں وہ سلوگن نہیں ایک پہیلی ہو سکتا ہے، لاہور ہائی کورٹ نے بھی عورت مارچ روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہی ایڈوائس دی ہے کہ معترضہ سلوگنز پر نظر ثانی کر لی جائے۔

اب پھر آتے ہیں مبینہ لکھاری کی بد زبانی کی جانب، میں اس معزز لکھاری کی توجہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹر مولانا فیض محمد کے رویہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں، مولانا نے سینیٹ اجلاس میں عورت مارچ کے خلاف تقریر کی، جس کا پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے ڈٹ کر جواب دیا اور مولانا صاحب سے کہا،،،، روک سکو تو روک لو، عورت مارچ ضرور ہوگا،،،،، کیا معزز لکھاری نے نہیں دیکھا کہ مولانا فیض محمد نے اپنی مخالف خاتون کے ساتھ کوئی بد تمیزی نہیں کی،،،،،، اور تو اور جس ٹی وی پروگرام میں لکھاری نے ایک عورت کو ننگی گالیاں دیں اور اس کے جسم کے بارے میں گھٹیا الفاظ ادا کئے اسی پروگرام میں مولانا فیض محمد بھی موجود تھے، مولانا نے لکھاری کا ساتھ کیوں نہ دیا؟

مولانا کی یہ خاموشی ڈرامے لکھنے والے کے منہ پر ایک طمانچہ تھی ، مبینہ لکھاری اب بضد ہیں کہ وہ عورت کی تذلیل کرنے پر معافی نہیں مانگیں گے، دو چار عورتوں کے ڈسے ہوئے اس ڈرامہ اور مکالمہ نگار کو آج نہیں تو کل اپنی غلطی اور اپنے جرم کا اعتراف کرنا ہی ہوگا، کمزور اعصاب کے مالک اکثر ایسی غلطیاں کرتے ہی رہتے ہیں، وہ اعتراف کرتے ہیں کہ میں فل ٹائم یا چوبیس گھنٹے کا لکھاری نہیں ہوں، ان کا یہی اعتراف اس بات کی گواہی ہے کہ وہ حادثاتی لکھاری ہیں۔ کاش اس مبینہ لکھاری نے اپنے سوا کسی اور لکھنے والے کو بھی پڑھ لیا ہوتا۔

 معزز قارئین کرام! میں ایک ماہ کے نجی دورے پر امریکہ اور کینیڈا روانہ ہو رہا ہوں، پیشگی معذرت چاہتا ہوں کہ پرسوں اتوار کا کالم آپ نہیں پڑھ سکیں گے، البتہ بیرون ملک سے مسلسل آپ کے ساتھ رابطے میں رہنے کی کوشش کروں گا، بڑی تعداد میں قارئین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کہانیوں کی جانب واپس لوٹ آئوں، میں جانتا ہوں کہ میری کہانیوں میں آپ کو اپنی کہانیوں کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہوگی، ہم سب کی ایک ہی کہانی ہے، کہانیاں میری زندگی ہیں، تیس دن ملک سے باہر بھی میں آپ کے لئے نئی کہانیوں کی تلاش میں ہی جا رہا ہوں، دعائوں میں یاد رکھئے گا، فی امان اللہ۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *