دو ٹکے کی عورتوں کا لکھاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزادی مارچ کے چند کابل اعتراض نعروں سے اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر عورت ایک مسلسل تذلیل کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مرد نے مرد کی تذلیل بھی کرنی ہو تو گالیاں عورت کے نام کی ہی استعمال کرتا ہے۔ ٹرک اورلاریاں ماں کی عظمت بیان کرتے جملوں سے بھری پڑی ہیں، مگر زبانیں ماں بہن کی گالیوں سے لتھڑی پڑی ہیں۔ بہن بیٹیوں کو باحیا لباس کی تلقین کر کے گھر سے نکلنے والے مرد کی نگاہیں بھی دوسری عورتوں کے لباس کے اندر جھانک کر کولہوں اور چھاتیوں کے خدوخال ناپ رہی ہوتی ہیں۔ مرد کو آزادی ہے، کہ وہ جب چاہے کسی عورت کو دو ٹکے کا کہہ کر داد سمیٹ لے، اور جب چاہے اس کی عظمت کے کھوکھلے نعرے لگا کر۔

ملک کے مقبول ترین ڈراموں کا نامور لکھاری ایک ٹی وی پروگرام میں عورت سے اپنے اختلاف کا اظہار کر رہا تھا۔ نامور لکھاری نے عورت سے بحث کرتے ایسے انمول جملے ادا کیے کہ ہمارے معاشرے کے ان پڑھ اور گنوار مردوں کو تو چھوڑیے، پڑھے لکھے اور قابل احترام مردوں کی اوقات بھی عیاں کر دی۔ بحث کے دوران وہ عورت اپنے جسم کی بات نہیں کر رہی تھی بلکہ اس جملے کے اظہار سے وہ ان عورتوں کے جسمانی حقوق کی بات کر رہی تھی، جن کو خاوند کی فرمائش پر ہر حال میں اپنا جسم پیش کرنا پڑتا ہے۔

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بیچاری عورت کس ذہنی یا جسمانی کشمکش سے گزر رہی ہے۔ پورا دن وہ کیسی مشقت کی چکی سے گزر کر بستر پر آ گری ہے۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ بچے پیدا کر کر کے اس کا جسم کتنا قابل ترس ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی عذاب ہو سکتے ہیں، جن کے اظہار کی اجازت بیچاری عورت کو قطعاً نہیں۔ اور اگر کوئی ہمت کر کے اظہار کر بھی دے، تو عین ممکن ہے کہ اب جسم پیش کرنے سے پہلے اس پر تشدد بھی برداشت کرنا پڑے۔

مگر فاضل لکھاری نے اپنی مخاطب عورت کے جسم کو ہی نشانے پر رکھ لیا۔ اس کے مطابق ایسے جسم پر تو اس جیسے مرد نہ نگاہ ڈالتے ہیں، نہ ہی تھوکنا گوارا کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ موصوف اپنا اندر کھول کر رکھ دیتے، اور بتا دیتے کہ کیسے جسموں پر نگاہ ڈالنا گوارا کرتے ہیں۔ ان کی طائرانہ نگاہ نے عورت کے جسم کی کیسی کیسی درجہ بندی کر رکھی ہے، اس پر بھی روشنی ڈال دیتے۔

سستی اور آسان شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنے ہر دوسرے ڈرامے میں عورت کو بے وفا، عیاش اور دغا باز بنا کر پیش کرنے والا شخص، کس منہ سے عورت کے حقوق کی بات کرتا ہے۔

اور جہاں تک بات ہے آزادی مارچ والوں کی، تو ان کے نعروں میں عیاں کیے گئے عورت کے مسائل کا زمینی حقائق سے موازنہ کیا جاے، تو یہاں طبقاتی فرق صاف نظر آتا ہے۔ جو طبقہ عورت مارچ میں مصروف عمل ہیں، وہ عورت کے مسائل کو اپنی مخصوص سوچ کے آئینے میں پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی مظلوم عورتوں کا اس خاص طبقاتی سوچ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اس خاص سوچ کی حمایت تو وہ لوگ بھی نہیں کر سکتے جو اس مخصوص طبقے سے تعلق تو نہیں رکھتے، مگر عورتوں کے حقوق کے داعی ہیں۔

عورت سالن بھی گرم کرنا چاہتی ہے اور اسے بستر گرم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں۔ وہ تو بس اپنی عزت اور سپیس چاہتی ہے۔ اظہار اور عارضی انکار کا حق چاہتی ہے۔ وہ اپنی آزادی سے زیادہ مردوں کی مادر پدر آزاد نگاہوں، زبانوں اور ہاتھوں کی آزادی کو لگام چاہتی ہیں۔ اپنے پیٹ سے پیدہ کردہ اپنی جیسی بیٹیوں کی زندگیوں کے فیصلوں پر بس تھوڑا سا اختیار چاہتی ہیں۔ جن بچوں کو بتاتی ہیں کہ میرے پیروں تلے جنت ہے، انہی کے سامنے گالیاں سننے یا مار کھانے سے نجات چاہتی ہیں۔ اور کچھ علاقوں یا گھرانوں میں عورتوں کی ایک قابل ذکر تعداد ایسی بھی ہے، جو اپنے گھر، صحن یا دیہات میں بندھے مال مویشی اور خود میں فرق کا ادراک چاہتی ہیں۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں ’کمرشلی‘ ایک انتہائی کامیاب لکھاری بھی عورت سے بات کرتے لحاظ کا دامن چھوڑ دے اور گالم گلوچ پر اتر آے، وہاں باقی عام مردوں سے عورت کی عزت کروانے میں بہت مشقت اور وقت درکار ہے۔ آزادی مارچ والے، چند غلط نعروں اور بے لاگ جملوں اور تبصروں کی وجہ سے کہیں اس مشقت اور وقت کو مزید کٹھن اور طویل نہ کر دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسد اعوان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *