عورت کیا چاہتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8 مارچ عورتوں کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ بحثیں ہوتی ہیں، سمینار ہوتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق پر بات ہوتی ہے۔ وعدے اور قول دیے اور لئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر سب معمول کے مطابق چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ عورت بھی اس کی عادی ہو گئی ہے۔ ایک کہانی آپ کو سنانا چاہتی ہوں۔

آُپ چاہیں تو اسے کہانی سمجھ کر پڑھیں چاہیں تو اس میں کچھ تلاش کر لیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک تھا اور اس ملک میں ایک بادشاہ تھا۔ بادشاہ نوجوان اور نا تجربہ کار تھا۔

پڑوس کے ایک بڑے ملک نے اس چھوٹے ملک پر حملہ کردیا اور طاقت کے زور پر اس پر قبضہ بھی کر لیا۔ جیسا کہ ہوتا رہا ہے۔ نوجوان بادشاہ گرفتار ہو گیا اور اسے فاتح بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، مفتوح بادشاہ کی نوجوانی اور معصومیت دیکھ کر فاتح بادشاہ کو اس پر ترس آگیا۔ مفتوح کی گردن اڑانے، آنکھوں میں سلایئاں پھیرنے یا عمر قید دینے کے بجائے فاتح نے مفتوح کو ایک موقع دینے کا سوچا۔ زمانہ قدیم میں بادشاہ کبھی کبھی لطف لینے کے لئے عجیب عجیب باتیں کرتے تھے۔ فاتح نے کہا۔

” میں تمہیں معاف کرسکتا ہوں اور تمہاری سلطنت بھی واپس لوٹا دوں گا۔ اگر تم میرے ایک سوال کا جواب دے سکو تو“

” جی جی مجھے منظور ہے“ مفتوح نے سوال سنے بغیر حامی بھر لی۔

” سوال تو سن لو دوست۔ سوال یہ ہے“ بادشاہ نے ساتھ بیٹھی اپنی ملکہ کو دیکھا اور مسکرایا ”سوال یہ ہے کہ عورت کیا چاہتی ہے؟ “

مفتوح کی جان میں جان آئی۔ یہ تو کوئی مشکل سوال نہیں۔ ابھی اپنے وزیروں، مشیروں اور دانشوروں سے مشورہ کر کے جواب دے دوں گا۔ اس کے سارے ساتھی بھی زنجیروں میں بندھے اس کے ساتھ کھڑے تھے سب کے چہروں پرامید کی رونق چھا گَئی۔

” سوال کا جواب درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ ہماری ملکہ کریں گی“ فاتح بادشاہ نے اور بھی فاتحانہ نظروں سے ساتھ بیٹھی ملکہ کو دیکھا، جس کے لبوں پر ایک دھیمی سی مسکان تھی۔

کچھ وزیروں اور مشیروں کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ فیصلہ ملکہ کریں گی۔ لیکن وہ مفتوح تھے اور مجبور تھے۔

مفتوح نے مشورے کے لئے وقت مانگا جو اسے مل گیا۔ بادشاہوں کے پاس وقت کی کیا کمی۔

” تمہارے پاس ایک سال کا وقت ہے۔ جواب تلاش کرو۔ جواب ٹھیک ہوا تو تم بھی آزاد کر دیے جاؤ گے اور تمہارا ملک بھی تمہیں واپس مل جائے گا“ مفتوح کو یہ مہلت اور شرط نہایت مناسب لگی۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ اپنے دیس واپس آ گیا۔ اور اگلے ہی دن سے اسنے تمام سلطنتی امورایک طرف رکھ کر اس سوال پر اجلاس طلب کیا کہ

” عورت کیا چاہتی ہے“

وزیر خزانہ نے کہا ”عورت دولت چاہتی ہے حضور۔ وہ روپے پیسے، ہیرے جوہرات سے خوش ہوتی ہے“

مفتوح بادشاہ کو اپنے وزیر خزانہ کی عقل و دانش پر پورا اعتماد تھا۔ اسی وقت اپنے گھڑ سوار قاصد کو پڑوس کے فاتح بادشاہ کی طرف دوڑا دیا۔ وہ اطمینان اور سکون سے شمالی علاقہ جات کی سیر کو روانہ ہو گیا۔ کھلی تازہ ہوا اورسر سبز وادی نے بادشاہ کی صحت پر بہت اچھا اثر ڈالا۔ چھٹیاں گذار کر تر و تازہ ہو کر وہ واپس آیا۔ اور سوچا اب اطمینان سے سلطنت اور رعایا کے امور پر دھیان دینا ہو گا۔

قاصد چند دن بعد واپس آیا اور کہ جواب غلط ہے۔ بادشاہ نے ناراضی سے وزیر خزانہ کو دیکھا اور پھر سوال اٹھایا۔

اب کی بار وزیر اعظم بولے ”عورت اقتدار چاہتی ہے“

اس بار نوجوان بادشاہ نے قاصد کے ساتھ ایک وزیر بھی بھیجا اور چند تحائف بھی روانہ کیے۔ تیاری میں دن لگے پھر قافلہ روانہ ہوا۔ لیکن جواب پھر درست نہیں مانا گیا۔ بادشاہ کا دل چاہا کہ وزیر اعظم کو نا اہل کر کے گھر بھیج دے۔

اس بار جوان بادشاہ نے کہا کہ جواب دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ مشورے اور صلاح سے سوچ بچار کرنے کے بعد جواب دیا جائے گا۔ سلطنت کے بھی چند امور توجہ چاہتے تھے ان سے نمٹ کر بادشاہ نے پھر اجلاس طلب کیا۔ سوال سب کے سامنے رکھا۔

ایک مذہبی مشیر سے پوچھا۔

”حضرت آپ کے خیال میں عورت کیا چاہتی ہے؟ “

مذہبی رہنما بولے ”عورت خدمت کرنا چاہتی ہے۔ ایک مضبوط مرد کی جو اس کی رکھوالی کر سکے۔ جس کے سہارے وہ ساری زندگی گذار سکے۔ عورت بنی ہی خدمت کے لیے ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے“

بات بادشاہ کے دل کو لگی۔ اس نے اپنے محل میں بھی یہی دیکھا تھا کہ عورت خدمت کرتی ہے اور یقینا خدمت اسے خوش بھی رکھتی ہے۔ وہ خدمت ہی کرنا چاہتی ہے۔

پھر کیا تھا۔ تازہ دم گھڑ سوار قاصد بگٹٹ دوڑا۔ مہینے سے اوپر ہو گیا۔ نوجوان بادشاہ کسی حد تک مطمین ہو کر شکار پر چلا گیا۔ شکار سے واپسی پر اسے کافی دن لگے۔ پھر تھکاوٹ دور کرنے میں کچھ دن اور لگے۔ آخر کو اجلاس طلب کیا اور پوچھا کہ پڑوس کے بادشاہ کا جواب کیا آیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جواب درست نہیں مانا گیا، اور ان کی ملکہ کو آپ کا جواب برا بھی لگا۔ بادشاہ حیران پریشان رہ گیا اسے پوری امید تھی فاتح بادشاہ یہ جواب ضرور درست مانے گا۔ آخر کو یہ جواب ایک مذہبی رہنما کی طرف سے تھا۔ اور فاتح بادشاہ کا مذہب بھی وہی ہی جو مفتوح کا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جواب قبول نہیں کیا گیا؟ اس نے سوچا کہ شاید فرقہ کا فرق ہے۔ مذہب ایک ہے لیکن فرقہ تو الگ ہے نا۔ اب جواں سال بادشاہ نے دوسرے فرقے کے عالم کو بلایا اور اس کے سامنے بھی یہی سوال رکھا۔

عالم نے جواب دیا۔

” جناب عورت بدی اور شر کی پتلی ہے اس کا خمیر ہی ایسا ہے۔ وہ انتشار پھیلانا چاہتی ہے۔ یہ اس کی سرشت میں ہے“

بادشاہ کے دل کو بات لگی تونہیں لیکن سوچا شاید اس فرقے کے لوگوں کا یہی ماننا ہے۔ جواب دوڑا دیا گیا اور ایک بار پھر جواب درست نہ ماننا گیا۔ قاصد نے یہ بھی کہا کہ فاتح بادشاہ کی ملکہ غصہ میں دکھائی دیں۔

بے چارہ نوجوان بادشاہ فکر اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ کسی کام میں جی نہیں لگ رہا تھا۔ ہر چیز پر جیسے اداسی چھائی تھی۔

وزیرخارجہ نے کہا۔ ”یہ ہمارے خلاف کوئی عالمی سازش ہو رہی ہے حضور“

دربار میں اب اس سازش پر بحث ہونے لگی۔ بادشاہ اداس ہو گیا اس کا دل چاہا وہ بیماری کی چھٹی لے کر کہیں دوسرے ملک چلا جائے۔ لیکن ایک مفتوح بادشاہ کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر جائے۔ اداس دل کے ساتھ بادشاہ دربار سے نکل گیا۔ اور یوں دربار خود بخود برخاست ہو گیا۔ اسی یاسیت کے عالم میں وہ اپنے محل کے جھروکے میں آ کھڑا ہوا جہاں سے وہ اہم دنوں میں اپنی رعایا کو اپنا دیدار کراتا تھا۔

بادشاہ نے دیکھا کہ ایک جوگی نما بابا نیچے سے گزر رہا ہے۔ مختصر ترین لباس میں دبلا پتلا جوگی اپنی دھن میں کچھ گنگنا رہا تھا۔

” دنیا چار دنوں کا میلہ“

بادشاہ کو لگا کہ جوگی ضرور کوئی پہینچا ہوا بندہ ہے۔ کیوں نہ اس سے سوال پوچھا جائے۔ بادشاہ نے آواز لگائی۔

” بابا یہ تو بتاوَ کہ عورت کیا چاہتی ہے؟ “

بابا نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولا۔

” سرکار عورت دو وقت کی روٹی اور تین کپڑے چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا چاہ سکتی ہے؟ اس سے زیادہ کی اسے نہ ضرورت ہے اور نہ چاہ“۔ بادشاہ کو پہلے تو یہ جواب کچھ زیادہ نہیں بھایا، لیکن ذرا سوچ بچار کرنے پر یقین آ ہی گیا کہ عورت اس کے علاوہ اور چاہ بھی کیا سکتی ہے۔ وہ واپس دربار آیا جہاں درباری اب خوش گپیوں میں مشغول تھے۔

ہرکارہ دوڑایا گیا نئے جواب کے ساتھ۔ اور بادشاہ نے دربار برخاست کر کے شطرنج کی بساط بچھوائی۔ اس سے دل بھر گیا توساحل سمندر کی سیر پرچل پڑے۔ آخر دل کو بہلانے کا کوئی تو سامان ہو۔ اور دل لگ بھی گیا۔ چند ہفتے وہیں گذارے۔ خوب دھوپ سینکی۔ سمندر میں تیرے اور انگاروں پر بھنے بکرے دنبے کھائے۔

بادشاہ کی سواری واپس لوٹی تو ہرکارہ بھی آ چکا تھا۔ ساتھ چٹھی بھی لایا اس میں لکھا تھا۔

”آپ کا جواب غلط ہے۔ اور ہماری ملکہ اس جواب سے سخت نا خوش بھی ہیں۔ “

نوجوان بادشاہ اب سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ درباری سہم گئے۔ سب کو اپنی اپنی فکر لگ گئی۔ کچھ تو کسی اور ملک میں سیاسی پناہ کے امکانات پر غور کرنے لگے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

Leave a Reply