اللہ کا گھر بند تو شفاعت کا کوئی در کھولا نہیں!
دنیا بھر میں کروناوائرس سے بچاؤکے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں، لیکن یہ کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ بیت اللہ میں عارضی طور پر ہی سہی طواف اورعمرے کو روک دیا جائے گا، یہ تاریخ کاپہلا موقع ہو گا کہ بیت اللہ کے صحن میں طواف کا عمل روک دیا گیا، تاہم مکہ مکرمہ میں موجود زائرین بیت اللہ کی بالائی منزلوں پرطواف جیسی مقدس عبادت میں مصروف رہے۔ اس سے قبل 27 فروری کو سعودی حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤکے لئے عارضی طور پر دنیا بھر سے ارضِ حرمین میں آنے والے عمرہ زائرین کو ویزوں کا اجراء بند کردیا تھا، تاہم مکہ مکرمہ اور گرد ونواح میں موجود سعودی اور غیر ملکی شہریوں کو عمرے اور بیت اللہ کے طواف کی اجازت دی گئی تھی، عمرے اور طواف کی بندش کے بعد بیت اللہ کے خدام اللہ کے گھر کی صفائیوں اور کرونا وائرس سے بچاؤکے لئے سکریننگ کا عمل جاری رکھا گیاہے، جبکہ دوسری طرف بیت اللہ کے صحن میں طواف کا سلسلہ بند ہونے کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان علماء کرام کاکہنا تھا کہ بیت اللہ کی خالی تصاویر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آ رہا ہے، ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا گیا، پوری امت مسلمہ گڑ گڑا کراپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور استغفار کریں، اللہ پاک ہم سب کے گناہوں کو معاف کر دے اور اُمت محمد ﷺ پر رحم کر دے، پوری امت کو اجتماعی اور انفرادی طور پر آیت کریمہ کا ورد کرنا چاہیے، اللہ اپنے گھر کو ہمیشہ آباد اور شاد رکھے، اللہ کا گھر خالی اچھا نہیں لگتا، اسے آباد رہنا چاہیے۔
یہ امر واضح ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے کرونا وائرس کے پیش ِ نظر یہ اقدام اٹھایا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں اب تک کرونا وائرس کے پانچ مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد سعودی حکومت نے بڑے پیمانے پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ دنیا کا ہر وہ ملک جہاں بڑے پیمانے پر غیر ملکی شہریوں کا آنا جانا ہے، اس نے کرونا وائرس کے علاج کے طریقوں سے آگاہی کی کوشش کی ہے۔
سعودی عرب خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ کی بدولت پوری دنیا کے مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے، تاریخی طور پر صدیوں بعد یہ منفرد موقع ہے کہ جب کعبتہ اللہ کے مطاف کا صحن مختصر عرصہ کے لئے سہی کسی وائرس کی وجہ سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا، خانہ کعبہ حرم شریف اور باقی مقدس مقامات کا بند رہنا مسلم عوام کے لئے ایک تکلیف دہ امر ہے۔ وہ مقام جہاں صدیوں سے مسلسل طواف اور زیارتوں کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، وہاں سے موصول ہونے والی تصاویر ہر کلمہ گو کو رنجیدہ کر رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع بہرحال نہیں ہے کہ جب کعبتہ اللہ اور مسجد نبوی کو بند کیا گیا۔ اس سے پہلے چند ایک ایسے مواقع گزر چکے ہیں، روایت ہے کہ طوفان نوح کی وجہ سے حضرت آدمؑ کے ہاتھوں رکھی گئی بیت اللہ کی بنیادیں غرق آب ہو گئیں۔ پانی کے ریلے نے خانہ کعبہ کی جگہ ریت اور مٹی جمع کر دی، ریت اور مٹی کا یہی انبار بعد میں ایک سرخ رنگ کے ٹیلے کی شکل اختیار کر گیا۔ مظلوم اور بیمار افراد یہاں آ کر دعا کیا کرتے تھے۔ یہ عمل حضرت ابراہیمؑ کی تعمیر کعبہ تک جاری رہا، پھر کئی بار خانہ کعبہ سیلابی پانی میں گھرا، حجاج بن یوسف کی فوج نے خانہ کعبہ پر سنگ باری کی ’حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو محاصرہ کر کے یہاں شہید کر دیا گیا، بحرین سے قرامطہ آئے اور حجر اسود نکال کر لے گئے، بیس سال سے زائد عرصہ تک کعبہ کا طواف حجر اسود کے بغیر ہوا، پھر حصین بن نمیر کی سنگ باری کے باعث طواف کا سلسلہ رکا، نومبر 1979 ء میں مرتدین نے کعبہ شریف پر قبضہ کر لیا، چودہ روز تک طواف کا سلسلہ رکا رہا، جب بھی خانہ کعبہ قدرتی آفت یا مسلح تصادم کی وجہ سے طواف کرنے والوں کے لئے بند ہوا، عرب حکومتوں نے عمرہ زائرین اور حجاج کے لئے حتی الامکان سہولیات کی
جلدازجلد بحالی کو یقینی بنایاہے، امید ہے کہ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس تاریخی خدمت کو بغیر وقفہ جاری رکھنے کا انتظام بلا تاخیر ڈھونڈ نکالیں گے۔ مسلمان ممالک خصوصاً عرب ممالک ایسے وسائل سے مالا مال ہیں کہ جن کے ذریعے وہ جدید سائنسی و طبی تحقیق کو فروغ دے سکتے ہیں۔
یہ امر خوشگوار نہیں کہ دنیا میں کسی مہلک مرض کے علاج کے لئے مسلم ممالک نے اپنے ہاں جدید لیبارٹریز اور تجربہ گاہوں کو رواج نہیں دیاہے۔ مسلم ممالک کے صاحب ثروت افراد معمولی مرض کے علاج کی خاطر یورپ اور امریکہ جاتے ہیں، مگر اپنے ممالک میں جدید ریسرچ کو فروغ دینے کا اہتمام نہیں کرتے ہیں۔ کرونا ایک وائرس ہے جو ساری دنیا کے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے مطاف ’مسجد نبوی‘ جنت البقیع اور دیگر مقدس مقامات کو بند کرنے کے بجائے بہتر ہو گا کہ زائرین کی تعداد کم کر کے ان کے داخلے سے قبل ان کی سکریننگ کی جائے اور جراثیم کش سپرے کے ذریعے احتیاطی تدابیر موثر بنائی جائیں، زیارات اورطواف کو بند کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
چین سوا ایک ارب آبادی کا ملک ہے، جہاں مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ افراد کرونا سے متاثر ہوئے، جن میں سے تین ہزار ہلاک ہوئے، اس کے باوجود وہاں معمولات زندگی جاری ہیں۔ چینی قوم اس آفت کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے، چینی سائنسدان کرونا کا علاج ڈھونڈنے میں دن رات مصروف ہیں ’جو چیز ضروری تھی وہ طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل ہے۔ سعودی عرب زائرین اور حجاج کا خدمت گار ہے، وسائل کی فراوانی کو انسانی صحت کے لئے استعمال کرنا بھی ایک بڑی خدمت ہے۔
پاکستان ’ترکی‘ ملائشیا اور دیگر مسلمان ممالک اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، امت مسلمہ باہمی اتحاد و مشاورت سے مروجہ تشویشی مسئلے پر قابو پاسکتی ہے۔ اللہ کا گھر آباد نظر آئے تو امت مسلمہ کا دل شاد رہتا ہے، خانہ کعبہ کی پریشان کن تصاویر پوری ا ُمت مسلمہ کے لئے باعث پریشانی ہیں، لیکن مسلم امُہ کو اپنے اعمال کا جائزہ اورگربانوں میں جھا نکنے کی ضرورت ہے، کیو نکہ اللہ تعالی کے در بند ہونے کے بعد کوئی شفاعت در کھولا نہیں ملے گا۔


