کس کا جسم، کہاں کی مرضی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

گئے وقتوں میں محبت کے نام پر صرف دھوکا ہوتا تھا اور آج اس ترقی یافتہ معاشرے میں محبت، دھوکے جیسے چھوٹے سے لفظ سے بہت دور کہیں اتھاہ گہرائیوں میں گر چکی ہے۔ حوا کی بدقسمتی یہ ہے کہ محبت کے ہر پہلو نے اسے تکلیف میں مرتے چلے جانے کے سوا شاید ہی کوئی راہ دکھائی ہو۔ اور تکلیف کی بات کرنے لگیں تو مغرب کی عورت کہیں بھی مشرق سے کم تکلیف میں نہیں ہے۔ مغرب میں ٹین ایج لڑکیوں کو ہمدردی اور محبت کے جھانسے میں پھنسا کر سیکس ٹریفکنگ کا آلہ کار بنایا جارہا ہے۔ تو پاکستان میں عورت میرا جسم میری مرضی کی آواز لگاتی ہے تو سات سمندر پار بیٹھے ہوئے میرا دل بھر آتا ہے کہ جانے کس کا جسم، اور کہاں کی مرضی۔

یہ آزادی کے عجیب وغریب بینر اٹھائے کھڑی عورتیں کیا واقعی آج تک کسی عورت کو آزادی دلا پائی ہیں۔ ہر کوئی اپنا پرومو سلوگن لے کے میدان میں اتر آتا ہے۔ اور باقی اندھا دھند پیروی میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کام کوئی ہونہ ہو پروپیگنڈا اچھا خاصہ ہو جاتا ہے۔ مظلوم کی آہ اور شکایت کسی تک پہنچ نہیں پاتی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خبر پڑھی تھی کہ بھائیوں نے اپنی بہن کو سٹور روم میں جانے کب سے بند کر رکھا تھا صرف جائیداد کے لئے وہ عورت ادھ موئی زندگی جیتی ہوئی، گندگی سے بھری ہوئی جگہ پہ کب سے گلتی سڑتی رہی کسی کو خبر نہ تھی۔ اس کی ذہنی حالت کیا ہوگی جس کے جسم میں بھی کیڑے تھے اور اسے یہ تک پتہ نہ چلا کہ ”مرا جسم میری مرضی“

ایسی کتنی لڑکیاں ہیں جن کو تعلیم سے روشناس کرایا جاتا ہے دور دراز گاؤں کے مقامات پر چلے جائیں تو عورت کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا بس کام کرنے کی مشین، بچے پیدا کرنا، پہلے بھائیوں باپ اور پھر شوہر کے ہاتھوں ذلیل ہونے اور مارکھانے والے بھیڑ بکریوں کا کیا اپنی ذات پر اپنے جسم پر کوئی حق ہے۔ ان کے لئے نہ کوئی سماجی حقوق کی آرگنائزیشن پہنچتی ہے اور نہ کوئی وومن مارچ کی نمائندگان۔

مغرب تک میں عورت کہیں محفوظ نہیں۔ آج سے چند سال پہلے لوگ کہتے تھے کہ لڑکی رات کے ایک بجے بھی باہر نکلے تو محفوظ ہے اور آج ہیومن اور سیکس ٹریفکنگ والے، بچوں کے سکولز میں لڑکیوں پر جسمانی اور جنسی تشدد کررہے ہیں اور محبت اور ہمدردی کے پردے میں ان کے نیٹ ورک اتنے مضبوط ہیں کہ یہاں کے ادارے اور ایجینسیز تک ان کو پکڑنے میں ناکام ہیں۔ معصوم لڑکیاں اس دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں۔ سیکس اور ڈرگز کے علاوہ ان کی زندگی میں کچھ نہیں بچتا۔

کیا مغرب کی لڑکی سے زیادہ بھی کوئی یہ بات جانتا ہے کہ ”میراجسم میری مرضی“ جہاں کے ہائی سکول کے باتھ روم میں احتیاطی تدابیر میں سرِ فہرست لکھا ہوتا ہے کہ آپ اپنے پارٹنر سے زبردستی نہیں کر سکتے۔ جہاں پہ ایک کال کے پانچ منٹ کے اندر پولیس پہنچ جاتی ہے وہاں پر اس وقت عورت اپنے پارٹنر اور شوہر کے ہاتھوں ہر طرح کے تشدد کا شکار ہے جہاں پہ پولیس ہر طرح کی حفاظت کی بھرپور یقین دہانی کرانے کے باوجود اس بات سے پریشان ہے کہ اس وقت ہر دوسرے گھر سے domestic violence کے مسائل سامنے آرہے ہیں اور اگر مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ حال ہے تو تھرڈ ولڈ کا کیا پرسانِ حال ہوگا جہاں دووقت کی روٹی کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ ہے وہاں مرضیاں کہاں چلتیں۔

ہمارے گھر کے پاس ایک ادھورے سے پرانے مکان مکان میں جو ہمیشہ بند رہتا تھا، پٹھانوں کی ایک فیملی رہنے آگئی۔ مکئی چنے لگاتے تھے اور باپ بیٹے نے مل کر ایک کمرے کا یہ ٹوٹا پھوٹا مکان کرائے پر لے لیا جس کا پتہ نہیں باتھ روم بھی تھا کہ نہیں۔ بیٹے کے چار پانچ بچے تھے اور جب تک وہ ادھر رہے تو اس کی بیوی ہر ٹائم پریگننٹ ہوتی تھی۔ یہی حال اس کے باپ کے بیوی کا تھا جو کہ اس کی چوتھی بیوی تھی۔ باقی تین کہیں گاؤں میں تھیں باقی بچے کھچے لشکر کے ساتھ۔

اور اس بڈھے بابے کی یہ چوتھی بیوی اس کی پوتیوں کی عمر کی تھی شاید۔ اور تکلیف دہ بات کہ اسے بھی صرف اس بڈھے کھوسٹ بابے کے بچے ہی پیدا کرنے ہوتے تھے۔ شاید ایک دوسال وہ وہاں رہے۔ لڑکیاں ہمارے گھروں میں آکر چھوٹے موٹے کام کرجاتیں بہت دفعہ انھیں پڑھانے کی کوشش بھی کی مگر وہ بیچارے اتنے سارے کسی سکول تک نہیں جا پاتے تھے۔ بابے کی اس چوتھی بیوی کو دیکھ کے یہی خیال آتا تھا کہ اس کا کیا قصور ہے جو یہ قبر میں سارے کے سارے لٹکے اس بابے کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ لیکن کسی باشعور، پڑھے لکھے نے کبھی اس کے لئے آواز نہیں اٹھائی۔ سب بس چہ میگوئیاں اور ٹھٹھے لگا کے اپنی راہ لیتے تھے

حقیقت یہ ہے کہ ظلم کے خلاف وہ لوگ آواز اٹھانے کا دعویٰ کررہے ہیں جنھیں سرے سے پتہ نہیں کہ ظلم ہے کیا۔ عورت کو اچھی خوراک تک میسر نہیں اور ہم چلے ہیں عورت کو سگریٹ پینے کے حقوق دلانے، 12 سال کی بچی کو آج کے دور میں پتھر مار مار کر کاری کردیا جاتا ہے اور عورت مارچ میں نعرے لگ رہے ہیں کہ ہم مرد کو انکار کرسکتے ہیں۔ مرد عورت کا جسم داغ رہا ہے اس کی روح چھلنی کررہا ہے اور بات ہو رہی ہے کہ عزت دو۔ آپ کن سے عزت مانگ رہے ہیں جنھیں عورت جسم سے آگے نظر تک نہیں آتی۔

نوکری یافتہ عورت کما بھی رہی ہے اور گھر کے کام اور بچوں کو بھی وہی سنبھال رہی ہے جن کو معلوم تک نہیں کہ اردگرد کیا ہورہا ہے وہ باہر ہراساں ہورہی ہے، جاب پہ ہراساں ہورہی ہے اور گھر پہ شوہر کے ہاتھوں ہراساں ہو رہی ہیں کہ ان کی اصل ذمے داری گھر، شوہر اور بچے ہیں۔ اور پھر یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ ساتھ میں جاب بھی ضروری ہے۔ نوکری یافتہ عورت باقی سب کو خودمختار لگتی ہے لیکن اندر سے وہ کسی زخمی کبوتر کی طرح سہمی ہوئی ہے پر گھر سے لیکے دفتر تک اور پھر گھر میں اس کے حقوق کی پاسداری کا جھنڈا لے کر کوئی نہیں نکلتا۔

جھگیوں اور سڑکوں پہ بے گھر رلتی ہوئی عورت جس کی گود میں ہر وقت ایک ناتواں سا بچہ ہوتا ہے اور اگلا آنے والا، کبھی کسی کی توجہ کا مرکز نہیں بنی۔ فیکٹریوں اور گھروں میں چھوٹے موٹے معاوضے پر جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہونے والی بچیوں کو سہارا دینے کوئی نہیں پہنچتا۔ ڈھیروں کم عمر بچیاں روز گھروں میں بہت کم معاوضے پر کام کرنے نکلتی ہیں۔ سب دیکھتے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کر ہاتھ تھام کر یہ نہیں کہتا کہ تمھاری تو نوکری ہی غیرقانونی ہے کسی کو چائلڈ لیبر تک یاد نہیں آتی۔ لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سب خیر خواہ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ سب ملکر سوشل میڈیا پر ہی ایک دن جنت بنا ڈالیں گے اور جو ان کی نظر میں اچھا نہیں اسے جہنم واصل بھی ادھر ہی کرڈالیں گے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *