عورت مارچ اور عورت کی حیثیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو باتیں کسی نے نہیں کہی ہوتیں ان کا خود ساختہ مطلب نکال کر اپنے اخذ کردہ فرضی اعتراضات پر تنقید کرنا، بلکہ اپنے خیالی اعتراضات کو ہی سب کے سامنے مخالف فریق کا موقف بنا کر پیش کرنا، علمی لحاظ سے کچھ درست بات نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس عورت کانفرنس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن جس طرح کسی میٹنگ یا اجلاس کی کارروائی کی حتمی رپورٹ وہ اعلامیہ سمجھا جاتا ہے جو کہ کارروائی کے بعد یا اس سے پہلے چارٹر کے طور پر جاری کہا جاتا ہے تو پرسوں سے اس کانفرنس کا شائع شدہ چارٹر آف ڈیمانڈز سوشل میڈیا پہ شئیر کیا جا رہا ہے اس کا بغور مطالعہ فرما لیں اور نشاندھی فرمائیں کہ اس میں کون سی شق خلاف اسلام اور قابل اعتراض ہے۔

ویسے ہی قیاسی دلائل پر تنقید کرنا کم از کم کسی باشعور انسان کے لئے مناسب نہیں۔ اپنے آس پاس کے عمومی معاشرے اور اس میں عورت کے استحصال پر نظر فرمائیں۔ کسی سرکاری ہسپتال کے گائنی وارڈ میں تشریف لے جائیں اور وہاں کسی ڈاکٹر سے خواتین کی اکثریت کی خوراک اور صحت کے بارے میں دریافت فرمائیں۔ یہاں کوئی اسلامی سماج نہیں ہے بلکہ مختلف جاہلانہ رسموں کو اسلام کا پردہ ڈال کر مزید جاہلیت پھیلائی جاتی ہے، جس کا شکار اکثر اوقات تعلیم یافتہ افراد بھی اسلام کا نام سن کر ہو جاتے ہیں۔ بیٹے کی خواہش میں آٹھ آٹھ بیٹیاں زبردستی پیدا کروائی جاتی ہیں جس سے عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت تباہ ہو جاتی ہے اور اکثر وہ اپنے وقت سے بہت پہلے سسک سسک کر مر جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں شادی کا مقصد خاندان کی تشکیل اور اولاد پیدا کرنا ہی ہوتا ہے لہذا یہ بات کہ ماڈرن اور تعلیم یافتہ خواتین اولاد پیدا کرنے سے انکار کر دیتی ہیں، درست نہیں۔ اولاد کی تعداد اپنی استطاعت اور صحت کے مطابق رکھنا بھی ایک لازمی امر ہوتا ہے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ”مومنین“ پیدا کر کر کے مانسہرہ کے مدرسے کے استاد جیسے ظالموں کے حوالے کرتے جاؤ، جو ان معصوموں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا بنا کر ناکارہ کرتے جائیں۔ اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اس کے والدین پر عائد ہوتی ہے ان کو اتنے ہی بچے پیدا کرنے چاہئیں جن کی وہ خود بہترین تعلیم و تربیت کر سکیں

گو ہم ترقی یافتہ دنیا سے عملی اخلاقی اور علمی شعوری لحاظ سے بہت پیچھے ہیں، پھر بھی ہم گھسیٹ گھسیٹ کر اسی راستے پر گامزن ہیں جہاں پر وہ بہت آگے جا چکے ہیں۔ ہماری اوقات اور ذہنی افلاس کا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ پورن فلمیں ہمارے ہاں دیکھی جاتی ہیں۔ ہماری نظر میں یہی مغرب کا مطلب ہے کہ سارا مغرب پورن فلمیں بنانے میں مصروف ہے جبکہ ہمارے ہاں اسلامی معاشرے میں فرشتے رہتے ہیں۔ ہمیں مغرب کی بے انتہا علمی اور سائنسی ترقی نظر نہیں آتی ہمیں وہاں کی پورن فلمیں نظر آتی ہیں۔

اگر آپ وہاں جا چکے ہیں تو خود محسوس کر لیں گے کہ وہاں کی اخلاقی سطح ہم سے بہت بلند ہے۔ حکومتیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ وہاں بھی خاندانی سسٹم ہے لیکن خواتین کی علمی اور معاشی ترقی نے ان کو مجبور ہو کر رشتے نبھاتے رہنے اور ظلم سہتے رہنے سے آزاد کر دیا ہے اور اسی طرف باقی دنیا کے معاشرے بھی مختلف رفتاروں سے جا رہے ہیں۔ یہ ایک عالمی انسانی سماجی اور معاشی ارتقائی عمل ہے جس کو ہم اور آپ نہیں روک سکتے۔

اپنے معاشرے میں اعلی تعلیم یافتہ اور کسی بڑے عہدے پر فائز باوقار خاتون ہی کو دیکھیں، کسی کی مجال نہیں کہ ان پر ظلم، زیادتی کر سکیں۔ ان کے بچے ان کی تربیت اور استحکام کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اعلی مقام تک پہنچتے ہیں جبکہ جس کو آپ اسلامی معاشرہ فرما رہے ہیں، یہاں غربت، علم کی کمی اور پسماندگی کی وجہ سے عورت کی کیا حالت بن چکی ہے۔

ذرا آس پاس دیکھیں، کہاں ہے اسلام؟ معاف کیجئے، یہ اعلی درجے کے منافقوں کا معاشرہ ہے، جو بدترین لوگ ہیں اور اپنے گندے کرداروں پر اسلام کا لیبل لگا کر اسلام کو بھی بدنام کرنے کے گناہ میں ملوث ہیں۔ یورپ میں کھلے معاشرے کے باوجود اکیلی جوان لڑکی رات دس بجے بھی پورا شہر اکیلے پھر سکتی ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا ہم مسلمانوں کے ”اسلامی معاشرہ“ میں پانچ سال کی معصوم بچی بغیر کسی خطرے کے گھر سے باہر بھیجی جا سکتی ہے؟

ذرا سکول اور کالج جانے والی معصوم طالبات سے پوچھیں، جن کو باہر کن گندی نظروں اور سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابھی حال ہی میں جام شورو اور گومل یونیورسٹی کے سینئیر پروفیسرز کا پورا ریکٹ پکڑا گیا ہے جو طالبات کو بلیک میل کر کے ان کی عزتیں خراب کرتے تھے۔ ذرا ان شیطانوں کے باشرع چہرے، اسلامی وضع قطع، نماز کی پابندی، شرعی داڑھیاں، اور محرابیں دیکھیں اور ان کا کردار دیکھیں۔ دراصل ہم میں جو بہت زیادہ اسلام اسلام کرتے ہیں ان کا اندر سے اصل کردار ”زیادہ تر“ یہی ہوتا ہے۔ بس موقع ملنے یا نہ ملنے کی بات ہے۔ میں پینتیس سال سے سرکاری نوکری کر رہا ہوں اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ مختلف کاموں کے لئے آنے والے باشرع وضع قطع کے افراد کی غالب اکثریت، جھوٹے اور دھوکے باز ہوتے ہیں اور جب ان کے کسی مطالبے کی تحقیق کی جاتی ہے تو وہ دھوکہ بازی پر مبنی ثابت ہوتا ہے۔ کون سا اسلامی معاشرہ؟

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی داستاں

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند ِ قبا کو دیکھ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply