میرا قلم میری مرضی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ لڑکیاں بڑی چالاک ہوتی ہیں۔ ایسا جال بچھاتی ہیں کہ بھولے بھالے مرد خود بخود اس جال کی طرف کھنچتے چلے آتے ہیں۔ ”عورت مارچ“ والا معاملہ ہی دیکھ لیجیے۔ انہوں نے ایسے ایسے نعرے ایجاد کیے کہ ایک خاص نقطہ نظر کے حامل مرد نہ چاہتے ہوئے بھی چیختے چنگھاڑتے انگاروں پر لوٹنے لگے۔ یہی تو ان لڑکیوں کا مقصد تھا۔ اب وہ اطمینان سے آلو میتھی پکاتے ہوئے مسکرا رہی ہوں گی اور وہ مرد گھروں میں، چائے خانوں میں، چوکوں میں اور چوراہوں میں ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ ، ’مجھے کیا پتا تمہارا موزہ کہاں ہے؟ ‘ ، ’لو بیٹھ گئی ٹھیک سے‘ اور ’میرا جسم میری مرضی‘ کی تشریح کر کر کے تھک رہے ہیں اور اپنے گلے سکھا رہے ہیں۔

کوئی کہتا ہے کہ یہ بے حیائی پھیلانا چاہتی ہیں کسی کی رائے یہ ہے کہ کسی نامعلوم ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں۔ کوئی انہیں اخلاقیات سکھانے کی کوشش کر رہا ہے کوئی اقدار بتانا چاہ رہا ہے۔ حالانکہ وہ جو ان نعروں کی موجد ہیں کیا انہیں نہیں پتا کہ ان نعروں کا مطلب کیا ہے؟ ”عورت مارچ“ کی نہتی عورتوں سے ان مردوں کو کیا خطرہ لاحق ہے؟ اچھا! ذرا ’میرا جسم میری مرضی‘ والے نعرے کا جائزہ لیتے ہیں۔ بھٹے پر کام کرنے والی غربت کی ماری غریب عورت ہو یا بادشاہ کی بیوی جسے ملکہ کہا جاتا ہے ان دونوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے استحصال۔

ممتاز محل کا ذکر شاہ جہان کی محبوب بیوی کے طور پر کیا جاتا ہے۔ شاہ جہان سلطنتِ مغلیہ کے پانچویں بادشاہ تھے۔ ممتاز محل کی شادی جب شاہ جہان سے ہوئی تو وہ ممتاز محل کی پہلی اور شاہ جہان کی تیسری شادی تھی۔ شاہی جوڑے کے چودہ بچے ہوئے۔ چودھویں بچے کی پیدائش پر زچگی کی پیچیدگی کے باعث ممتاز محل 39 (انتالیس) سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ ممتاز اور شاہ جہان کی زندگی کے اس پہلو کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس میں ’سب ٹھیک‘ نہیں تھا۔ ممتاز کا زیادہ بچوں کی پیدائش کے معاملے پر بادشاہ کے ساتھ اختلاف ہوا، جو وقت کے ساتھ بڑھتا رہا۔ آفرین ہے شاہ جہان پر کہ اس نے اپنی مرضی پر عمل جاری رکھا۔ یوں بھی اس زمانے میں ’میرا جسم میری مرضی‘ والا نعرہ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔

مجھے لگتا ہے کہ آٹھ مارچ کے عورت مارچ میں ممتاز محل بھی ان عورتوں کے شانہ بشانہ ہو گی مگر کوئی اسے دیکھ نہیں پائے گا۔ اس نعرے کے حوالے سے ایک طبقہ بے حد جذباتی ہے۔ جب کہ مذکورہ بالا واقعہ اس نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے۔ آج بھی بے شمار ممتاز محل ٹھیک اسی طرح سے موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں جیسے شاہ جہان والی ممتاز محل گئی تھی۔ تو پھر ایسی عورتیں یہ نعرہ کیوں نہ لگائیں کہ میرا جسم میری مرضی۔

مرضی تو ان کی ویسے بھی نہیں چلنے والی، کم از کم نعرے لگانے کا حق تو دے دیں۔ کیا اس سماج میں ایک لڑکی اپنی پسند کی شادی کر سکتی ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ کیوں نہیں، وہ کہہ سکتی ہے۔ مگر سروے رپورٹس اور اخبارات تو کوئی اور کہانی سناتے ہیں۔ ایسا کر کے لڑکی غیرت کے نام پر مار دی جاتی ہے۔ جب ایک لڑکی اپنی پسند سے کوئی پروفیشن اختیار نہیں کر سکتی تو شادی تو دور کی بات ہے۔ پنچایتوں اور جرگوں میں کاروکاری کی جاتی ہے، اپنے سے ساٹھ سال بڑے مرد سے بیاہ دی جاتی ہے، کبھی دو فریقین کے درمیان جھگڑا نمٹانے کے لئے کسی کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

ایک لڑکی کے لیے ’ناں‘ کہنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اور اس جرم کی سزا اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر دی جاتی ہے۔ ریپ کے واقعے میں بھی قصور اسی کا گردانا جاتا ہے۔ ”جی دیکھیے لڑکی ایسا لباس پہن کر نکلے گی تو پھر یہ تو گا۔ “ اگر باہر نکلنے اور مختصر لباس کا ہی مسئلہ ہے تو پھر ان لڑکیوں کا کیا قصور ہے جو کفن اوڑھ کر قبر میں سکون کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کو قبروں سے نکال کر ان کی لاشوں سے ریپ کرنے والے درندوں کے جذبات انہوں نے کیسے بھڑکا دیے۔

ایسے میں اگر ایک عورت کہتی ہے کہ اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر نہ چھوا جائے تو اس میں کیا برائی ہے۔ بلکہ یہ تو ہر انسان کا حق ہے۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی صنف سے ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔ جب تک اسے ایک ’شے‘ سمجھا جاتا رہے گا۔ یہ تو ہو گا۔

”قلیل خمری“ سوچ کے حامل مرد خواہ کتنا ہی بھڑکیں، گالیاں دیں یا دھمکیاں دیں لیکن ان عورتوں نے اپنا مقصد پورا کر لیا ہے۔ گذشتہ برس انہوں نے ’عورت مارچ‘ کر کے سب کی توجہ حاصل کر لی تھی اور اس بار ’مارچ‘ سے پہلے ہی گھر گھر میں اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ آگہی پھیل چکی، اب آپ نعروں کی تشریح کرتے رہیں۔

آخر میں فقط یہ کہنا ہے کہ اختلاف رائے کوئی بری شے نہیں ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ کی سوچ مضمون نگار کی سوچ سے مماثلت رکھتی ہو۔ اگر آپ مختلف رائے رکھتے ہیں تو یہ آپ کا حق ہے۔ جہاں تک میری تحریر کا تعلق ہے تو بس اتنا کہوں گا کہ ’میرا قلم میری مرضی‘ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *