یہ نہیں کہ مجھے روم سے محبت ہے، میں سیزر سے بیزار ہوں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیل الرحمن قمر صاحب ہمارے معاشرے کا ایک عام کردار ہیں۔ وہی کردار کہ جس کی نمو صدیوں پر محیط ہے۔ موقع بہ موقع دین اور مشرقی اقدار کی ڈھال کے پیچھے چھپنے والا۔ بات بات پر حوالہ جو سرکارِ دو عالمؐ کی عورتوں کے احترام میں بچھائی گئی چادر کا دیتا ہے، روّیے جس کے مگر فاتح سلطانوں والے ہوں۔ طاقتور کے سامنے سر جھکانے اور خود سے کمزور کے سامنے پھن پھیلائے پھنکارنے والا۔

کسی بھی معاشرے کی طرح ہمارے ہاں کی اکثریت بھی درمیانی دھارے میں بہتی ہے۔ محض دو کناروں پر ہی انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ ہیں کہ جو عورت کو محض ’دو ٹکے‘ کی جنس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ’تیری ایسی کی تیسی‘ والے! دوسرے کنارے پر وہ پائے جاتے ہیں کہ جن کی شناخت نام نہاد لبرل ازم ہے۔ ’میرا جسم میری مرضی‘ جن کے زرخیز دماغوں کی اختراح ہے۔ ہمہ وقت حالتِ طیش میں رہتے ہیں۔ ایک زعمِ پارسائی تو دوسرا خود ستائی کا مارا ہوا! آخری نتیجے میں توہر دو نے بے چاری عورت ذات پرہی ظلم ڈھایا ہے۔ معاشرے کے ہاتھوں ستائی عورت کے مسائل دونوں کی آپا دھاپی کی اڑائی دھول میں اٹ کر رہ گئے۔

میرا اندازہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کو عورت مارچ پر قطعی کوئی اعتراض نہیں اور نا ہی ہونا چاہیے۔ ماسوائے ان کے کہ جو آج بھی عورت کو جنگوں میں جیتے جانے والے مالِ غنیمت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کوئی معقول شخص حقوق نسواں کے سوال پربرانگیختہ آخرکیوں کر ہوگا؟ خلیل الرحمن قمرکے دلائل جو میں نے گئے دو روز میں سوشل میڈیا پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر سنے ہیں، یکسر بودے، فکری انتشار اورنرگسیت پر مبنی سوچ کے غماز ہیں۔ اس روزٹی وی پران کے ساتھ والی نشست پر براجمان مولانا فضل الرحمٰن کے سینٹر صاحب کی مگر خواہش تھی کہ قمر صاحب ہی بولتے رہیں۔

اگر لال مسجد والے مولاناعبدالعزیز کے خونخوار اور خادم رضوی صاحب کے انتشاری جتھے اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے تو خلیل الرحمٰن قمر کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ مردوں کی اور ماروی سرمد صاحبہ ہماری خواتین کی ترجمانی کے لئے خود کو مامور کر لیں۔

دبئی میں مقیم میرے عزیز کورس میٹ میجر مدثر ہاشمی کی رائے ہے کہ کچھ اور نہیں بس عورت مارچ والوں کو اپنے نعرے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ جبکہ میری رائے ہے کہ تحریک کو نا صرف ’سلوگن‘ بلکہ ’برینڈ ایمبیسیڈر‘ بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں ارب پتی کمپنیاں محض اپنے دو حرفی ’برینڈ سلوگنز‘ پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرتی ہیں۔ معاشروں کے اجزائے ترکیبی کو جانچا جاتا ہے۔ تب کہیں جا کر ایک ایسا نعرہ تراشا جاتا ہے کہ جو سیدھا عوام کے دلوں میں اتر جائے۔

تحریکوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بھٹو جیسے مقبول عام اور طاقتور لیڈر کا تختہ فوج نے اسی وقت الٹنے کا سوچاجب ’نظامِ مصطفٰی‘ کا نعرہ پاکستانیوں کے دل میں گھر کر گیا۔ ’میرا جسم، میری مرضی‘ کے نعرے پر کوئی قانونی قدغن ممکن نہیں۔ یہ بھی درست کہ اس نعرے کے مخالفین کا اس سے اپنی مرضی کے معنی اخذ کرنا بھی قرینِ انصاف نہیں۔ لیکن کیا ایک عام پاکستانی کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس نعرے کو اپنائے؟

اس کی خاطرسڑکوں پر نکلے۔ لڑے بھڑے، سر پھڑوائے؟ دنیا بھر میں فکری اور اصلاحی تحریکوں کے ہراول دستوں میں ان چہروں کو نمایاں کیا جاتا ہے کہ جن کو عوام الناس میں قبولیت حاصل ہو۔ بڑے ادب سے عرض ہے کہ ایک ایسی تحریک کہ متنازعہ چہرے جس کے ’برینڈ ایمبیسیڈر‘ بن کر سامنے آئیں، اس کے اعلٰی و ارفع مقاصد سے قطع نظر، عام پاکستانی کا ردِ عمل وہی ہوگا جس کا شکوہ بھارت میں مقیم پاکستان کی نفرت میں گندھے طارق فتح صاحب نے کیا ہے۔ کم از کم سوشل میڈیا پر عام پاکستانی خلیل الرحمٰن قمر کی پشت پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چار روز سے ان کا نام ٹویئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ اس کے برعکس ’میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ بدقسمتی سے ٹھٹھے بازی کا سامان بن چکاہے۔

ہمارے یہاں عورتوں سے روا رکھا جانے والا سلوک کسی ایک جنس سے متعلق نہیں بلکہ ہماری معاشرت کے قدیم اجزائے ترکیبی پر مبنی ہے۔ ہماری عورت کسی مرد یا عورت سے نہیں پورے معاشرے کی ستائی ہے۔ بی بی سی کی ایک ڈاکو مینٹری میں ایک بظاہر قبول صورت خاتون انکشاف کرتی ہیں کہ کم از کم چالیس مواقع پر خواتین ان کو دیکھنے ان کے گھر آئیں۔ ہر بار چائے پانی کے بعد چلتی بنیں۔ صرف مرد نہیں، خواتین بھی بچیوں کے جسم کو ہر زاویے سے ناپتی تولتی ہیں۔

گھروں میں کام کرنے والی نابالغ بچیاں اپنی ’باجیوں‘ کے اور ان میں سے بیشتر ’باجیاں‘ اپنے مردوں کے ہاتھوں اکثر گھر کی دوسری عورتوں کے اکسانے پر پٹتی ہیں۔ بدقسمتی سے جہیز کے مطالبے اور بھاری بھر کم شادیوں پر اٹھنے والے فحاشی کی حد کو چھونے والے اخراجات کے پیچھے محرک اکثر خود عورتیں پائی جاتی ہیں۔ حقِ وراثت سے بیٹیوں کومحروم کرنے میں خود ماؤں کی اولادِ نرینہ سے محبت کام آتی ہے۔ موضوع نزاکت کا متقاضی ہے اورعلتوں کی نوعیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ معاشرہ پدر سرانہ ہے، لیکن ناچیز کی رائے میں عورتوں کے دکھ کسی ایک صنف سے منسوب نہیں۔

رہا یہ سوال کہ عام پاکستانیوں کی اکثریت حال ہی میں دستیاب ہو جانے والی شہرت کے نشے میں دھت خلیل الرحمن قمر کی بد زبانی کے باوجود ان کے ساتھ کیوں کر کھڑی ہوگئی، تو میرا قیاس ہے کہ اس کے پیچھے نرگسیت کے مارے اس شخص سے پدر سرانہ معاشرے کی محبت سے بڑھ کر ماروی سرمد صاحبہ سے بیزاری کارفرما ہے۔ اکثر سیخ پا رہنے والی خاتون کے ہاتھوں مخالفین کے لئے مختلف زبانوں میں لکھی گئی گالیوں سے سوشل میڈیا اب بھی لبریز ہے۔

دوانتہاؤں کے بیچ پھنسی اکثریت لیکن ان پاکستانیوں کی ہے کہ جو تمام تر برائیوں کے باوجود عورتوں کو حیا سے برتتے ہیں۔ ان کے جسموں کو یوں زیرِ بحث لانے سے کتراتے ہیں۔ ماروی سرمد صاحبہ اگر خاتون نا ہوتیں تو ان کی جسمانی ساخت کو یوں ہدفِ تنقید بنائے جانے پر اس قدر طوفان نہ اٹھتا۔ یہی ہماری معاشرتی ساخت ہے اور اِسی کے ادراک کی ضرورت ہے۔ میرا احساس ہے کہ اندریں حالات اپنے معاشرے کی صدیوں سے نمو پانے والی نفسیات کے ساتھ ساتھ مغرب کی ارتقائی تاریخ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے حقوق نسواں کے باب میں ہمیں قومی سطح پرایک خالصتاً مقامی تحریک برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ توازن، تحمل اور تعلیم کے ذریعے!

خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد جیسے افرادکے انتہا پسند روّیوں اورباہم تضحیک پر مبنی لاحاصل بحث اُس آسیبی سفر کی مانند ہے کہ جس میں حرکت تو تیز تر مگرمنزل دور ہی کھڑی رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *