پاکستانی سینما گھر دوبارہ زبوں حالی اور ملازمین بے روزگاری کا شکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر سال 1965 میں پابندی کے بعد سال 2007 تک کے 42 سالوں میں پاکستانی فلمی صنعت انحطاط کا شکار ہو کر بند ہو گئی یہاں تک کہ سال 2005 میں ایک بھی فلم نہیں بنی اور اس دوران بیشتر سینما گھر ٹوٹ کر پلازوں، مارکیٹوں یا شادی ہالز میں تبدیل ہو گئے۔ تاہم سال 2007 میں محدود پیمانے پر بھارتی فلموں کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کا اطلاق سال 2008 میں ہوا۔ بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت ملنے پر پاکستان میں سرمایہ کاروں نے نئے سینما گھروں کی تعمیر میں ایک بار پھر دلچسپی لینا شروع کی اور اگلے پانچ سال میں پاکستان کے بڑے شہروں میں کئی ملٹی پلیکس سینما تعمیر ہوئے۔ سینما کی تعمیر اور اسکرینز کی تعداد بڑھنے سے پاکستانی پروڈیوسرز کو حوصلہ ملا اور انہوں نے بھی فلمیں بنانا شروع کر دیں اور کئی پاکستانی فلموں نے باکس آفس پر راج بھی کیا تاہم پھر بھی یہ تعداد محدود ہی رہی۔

بھارت کی جانب سے انتہا پسندی کے طور پر پاکستانی اداکاروں کے بھارتی فلموں میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کرنے پر پاکستان میں بھی سینما مالکان نے از خود بھارتی فلموں کی نمائش روک دی تھی۔ تاہم یہ پابندی دسمبر میں اٹھا لی گئی لیکن کاغذی کارروائیوں اور مختلف اجازت نامے درکار ہونے کی وجہ سے مزید دو ماہ تک کسی بھی بھارتی فلم کی پاکستان کے سینما میں نمائش نہیں ہو سکی۔ اس عرصہ میں پاکستانی سینما جانے والوں کی تعداد ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی۔ سینما مالکان کے مطابق جو پاکستانی فلمیں چل رہی تھیں انہیں بھی لوگوں کی آمد میں کمی واقع ہونے کے باعث نقصان ہوا اور کئی شہروں میں زیر تعمیر سینما بھی روک دیے گئے۔

بھارت کی جانب سے بالاکوٹ میں فضائی حملے کے بعد پاکستانی سینما مالکان کی تنظیم نے بالی وڈ کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں پاکستانی سینما بحران کی زد میں آ گیا اور ملک بھر سمیت ملتان میں کئی سینما گھروں کو جزوی طور پر بند کرنا پڑا جبکہ اب تک چلنے والے سینماؤں میں فلم بینوں کی مسلسل کمی کے باعث مالکان نے 50 فیصد سے زائد ملازمین کو برطرف کر دیا جس سے ملتان میں سینما انڈسٹری سے وابستہ افراد میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔

اس صورتحال پر وفاقی حکومت نے ایک فلم بورڈ تشکیل دیا تھا تاکہ بیرون ملک سے لوگ پاکستان آ کر فلم بنائیں اور انہیں ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔ اس کے علاوہ سعودیہ عرب اور چین میں بہت بڑی مارکیٹ میں فلموں کی نمائش کرنے کو دیکھا جانا تھا حالانکہ 30 سال پہلے پاکستان میں 1700 سینما تھے اور اب صرف 150 سے کچھ زیادہ ہیں۔ پاکستانی فلمیں بہت زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکیں جبکہ ہالی وڈ کی فلموں کی ایک محدود مارکیٹ ہے اور انگریزی فلمیں چھوٹے شہروں میں بالکل نہیں چلتیں جس کی وجہ سے سینما گھروں کے لیے خطرناک صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتی فلمیں انٹرنیٹ، اور پائریٹڈ سی ڈیز کی شکل میں پاکستان بھر میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں اور اس پر پابندی کو مؤثر نہیں بنایا جا سکا ہے۔ اس طرح ہمارے پاس بہت زیادہ فلمیں موجود نہیں ہونے سے پاکستانی سینما کی ترقی رک گئی ہے۔ اس طرح دیگر ممالک ترکی اور مصر سے فلمیں لا کر اردو میں ڈب کر کے چلانے کی کوشش کی گئی جس میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ ان ممالک کے اداکاروں کو پاکستان میں کوئی نہیں جانتا ہے جبکہ ترکش ڈرامے بھی اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ وہ ٹی وی پر مفت دکھائے جاتے ہیں مگر سینما میں ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستانی سینما کے لیے بظاہر کوئی حل نظرنہیں آتا کیونکہ مقامی فلمیں زیادہ سے زیادہ 20 بنتی ہیں اورسینما کو ہر ہفتے ایک نئی فلم چاہیے ہوتی ہے جس سے بے روزگاری اور انحطاط پیدا ہو رہا ہے۔

اس طرح کچھ حلقوں کے مطابق پاکستانی فلمسازوں کی جانب سے بالی وڈ کی طرز فلمیں بنانے کا رجحان بھی اس تباہی کا ذمہ دار ہے کیونکہ ہم ان کی جیسی فلم نہیں بنا کر دے سکے جبکہ ہمیں اپنی کہانیاں دکھانی چاہئیں اور اپنا انداز متعارف کروائیں تو کامیابی کا امکان زیادہ ہے تاہم اس کے لئے پہلا قدم اٹھائے کی بھی کوئی جرات نہیں کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply