وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

وقت کی اہمیت کا اندازہ تو آپ اس بات پر لگا سکتے ہیں کہ رب ذوالجلال نے اپنے کلام بلاغت میں عصر یعنی وقت کی قسم کھائی ہے، اس حساب سے وقت کس قدر اہم ہے بطور مسلمان ہمیں اس کی اہمیت کا باخوبی اندازہ ہونا چاہیں۔

وقت بہترین منصف ہے، بہت سے کردار، حقائق اور محرکات وقت آنے پر واضح ہوجاتے ہیں، آج سے 72 سال قبل لوگ بانی پاکستان کی بہت سی باتوں کو جھٹلایا کرتے تھے تاہم اللہ کے حکم سے وقت نے بابائے قوم کے ایک ایک لفظ کو سچ ثابت کر دیکھایا

محمد علی جناح نے ستر سال قبل پیشن گوئی ان الفاظ میں کی تھی

متحدہ ہندوستان کا کوئی بھی نظریہ کبھی کام نہیں کرسکتا یہ ہمیں خوفناک تباہی کی جانب لے جانے کا باعث بنے گا۔

جنوبی ایشا کی آفاقی شخصیت محمد علی جناح نے 1947 میں یہ بھی متنبے کردیا تھا کہ وہ مسلمان جو پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں وہ اپنی ساری زندگی بھارت سے وفاداری ثابت کرتے ہوئے گزاریں گے۔

آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اقلیتوں کو پائمال کرکے ہندوستاں بنتی نظر آرہی ہے، اسی بابت امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ہیڈ لائن کہتی ہے،

بھارتی حکومت کا مقصد خطرناک ہندو قوم پرست معاشرے کا قیام ہے۔

دی گارڈین میں شائع ایک مضمون کے مطابق،

دہلی میں کوئی فساد نہیں بلکہ مسلمان مخالف بربریت چل رہی ہے

ایک اور بین الاقوامی اخبار فارن پالیسی کی سرخی میں سوال کیا گیا ہے کہ بھارت کے مسلمان کیوں قبر کے خطرے میں ہیں؟

دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ، نریندر مودی کی فرقہ واریت بھارت کی سیکولر جمہوریت کو ختم کررہی ہے

بی بی سی اردو نے دہلی کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا کہ

دہلی فسادات:

جلتے مدرسے، چیخیں۔

عالمی دنیا بھارتی راگ سیکولرازم کی دھجیاں بکھرتی دیکھ رہی ہے، اس کے ساتھ عالمی مبصرین یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جس ملک کو ہندوستان نے بدنام اور عالمی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی تھی وہ ریاست اگرچہ رقبے کے لحاظ سے اس سے چھوٹی ہے مگر اخلاقیات، معاشرتی اقدار، تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مودی کے ہندوستان کے سامنے بلند قد و قامت و اعلی کردار کی مالک ہے، پاکستان کا 27 فروری 2019 کا رول بھی پوری دنیا کے سامنے ہے جب ہم نے بھارتی دہشتگرد پائلٹ کو باعزت طریقے سے اس کے ملک کے حوالے کیا تھا، وزیراعظم پاکستان

عمران خان نے اقلیت برادری کے لئے میں حالیہ ٹویٹ میں انہیں اور ان کی عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ دینے کا پیغام دیا۔

پاکستان، اقلیت برداری کا کس طرح تحفظ کرتا ہے حالیہ منظر نامے کے تناظر میں آسیہ بی بی کیس میں ملتا انصاف اور کرتا پور میں میں سکھ برداری کا پرتباک استقبال سب کے سامنے ہے۔

ان حقائق کی روشنی میں اپنے تئیس سیکولر بھارت کا اصل چہرہ اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پریشان کن ہے

بین الاقوامی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں مذہب کے نام پر استحصال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت میں شہریت کے جس متنازعہ قانون کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے وہ قانون مسلمانوں کے ساتھ تفریق کے لیے بنایا گیا ہے۔ نئے قانون سے 19 لاکھ لوگوں کی شہریت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نئے قانون سے مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والوں پر تشدد بھی کیا۔

امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت مذہب کی بنیاد پر شہریوں کا رجسٹر تیار ہوگا۔ بھارت میں مذکورہ قانون کے نفاذ کے بعد اظہار مذہب کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کمیشن کے ارکان کو بھارت کا دورہ کروانے اور عوام سے ملنے کے لیے امریکی حکومت، بھارت پر دباؤ ڈالے۔

دوسری جانب یہ بھی ریکاڈر پر موجود ہے کہ جب سے مودی نے شہریت کے متنازعہ قانون کو زبردستی پاس کرایا ہے بھارت کی قانون ساز اسمبلی میں محمد علی جناح کے دوسرے جنم کی پیشن گوئی کی جاچکی ہے، مسلم رہنما اسد اویسی اظہار خیال کرچکے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے ان اقدامات سے بھارت سرکار دوسرے محمد علی جناح کو پیدا کر رہی ہے، اسی تناظر میں بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر بنگلورو سے ایک ایسی طالبہ کو گرفتار کیا گیا جس نے مظاہرے کے دوران مسلمانوں اور کشمیریوں کے حق میں پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔ اردرا نامی بھارتی لڑکی گزشتہ روز ہونے والی طالبہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہی تھی۔ اس دوران ان کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ تھا جس میں یہ الفاظ درج تھے ”آزاد کشمیر، آزاد مسلمان، آزاد دلت“۔

خیال رہے کہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ روز بنگلورو میں احتجاجی جلسے کے دوران ایک لڑکی امولیا لیونا نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا جس پر پولیس نے لڑکی کو گرفتار کر کے اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا۔ اسی ضمن میں مظاہرہ جاری تھا کہ اردرا کی بھی گرفتاری عمل میں آئی۔

بھارت کے دارحکومت میں بھی حالات بہت کشیدہ ہیں، نئی دہلی میں مسلمانوں پر آرایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں کے حملے جاری ہیں۔ اس کے علاوہ مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹ مار کے واقعات میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

انڈین میڈیا جو اپنے آپ کو آزاد میڈیا کہتا ہے وہ دہلی میں جاری مسلم کش فسادات کے حقائق عوام الناس کے سامنے لانے سے مکمل طور پر قاصر ہے جس کی واضح جھلک بھارتی خاتون صحافی رعنا ایوب کے آرٹیکل میں نظر آتی ہے جو کہ بین الاقوامی اخبار واشگٹن پوسٹ میں شائع ہوا ہے،

بھارتی خاتون صحافی اور مصنف رعنا ایوب کا کہنا ہے کہ شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف جاری احتجاج پر مسلمانوں کے لئے کوریج کرنے پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹویٹر اکاؤنٹ نے مجھے ”جہادی“ کا لقب دیا۔ خاتون صحافی نے کہا کہ ایسا صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں صحافیوں کی کثیر تعداد کو بے حد دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ انہوں اسی تناظر میں ایک واقعہ کوٹ کرتے ہوئے لکھا کہ

معروف اینکر فایا ڈسوزا نے کشمیری کی خود مختاری کو سلب کرنے پر سوال اٹھانے کی صحافتی جرات کی تو اس پر اس قدر دباؤ ڈالا گیا کہ انہیں استعفی دینا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نیو یارک میں مقیم بھارتی مصنف آتیش تاثیر نے مودی سرکار پر تنقیدی مضمون لکھا تو بھارت سرکار نے اس کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیاکا کارڈ کالعدم کر دیا، جس کی وجہ سے اب انہیں اپنے ملک کا دورہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔

ایوارڈ یافتہ صحافی رویش کمار نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ان دھمکیوں اور حملوں سے حکومتیں من پسند خبروں کو نشرواشاعت کراتی ہیں انہوں مودی کے پسندیدہ میڈیا ہاؤسز کو گودی میڈیا کا نام دیا۔

جب آپ کے پاس من پسند میڈیا ہوتا ہے تو، وزیر اعظم کو سخت سوالوں کے جوابات دینے کی ضرورت نہیں ہوتی: مودی نے اقتداد سنھبالتے ہی منتخب اینکروں کے س ساتھ اسکرپٹ انٹرویو کیے ہیں۔

کالم نگار رعنا ایوب کے مطابق ہندوستان آمرانہ اور نیشنل ازم کی راہ پر گامزن ہے، اقلیتوں کو دبایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ ظلم اور امتیازی سلوک کے خلاف بولنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنا جا رہا ہے۔ بھارت میں آج سے قبل صحافت پر اس نوعیت کی قدغن کبھی عائد نہیں کی گئی تھی۔

بھارت کے انصاف فراہم کرنے والے اداروں کا انداز بھی نرالا ہے،

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) ایس اے بوبڈے نے دہلی فسادات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کو مرنا چاہیے مگر ہم چیزوں کو ہونے سے نہیں روک سکتے۔ ہم احتیاطی ریلیف نہیں دے سکتے۔ ہم اپنے اوپر ایک طرح کا دباؤ محسوس کرتے ہیں، ہم اخبارات پڑھ رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ اس طرح کے تبصرے کیے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق

پچھلے ہفتے 26 فروری 2020 کو دہلی ہائیکورٹ کے ایک جج کو دہلی فسادات سے متعلق تین اہم سماعتوں کے بعد رات گئے تبدیل کردیا گیا تھا جس میں اس نے دہلی پولیس پر الزام لگایا تھا کہ سینئر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے دی گئی نفرت انگیز تقاریر سے متعلق شکایات کی تحقیقات عمل کرنے سے روکا گیا تھا تاہم انہوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا لہذا انہیں تبدیل کردیا گیا

بھارت کے نامور فلمی ستارے عامر خان نے مودی اسٹیٹ کی ستم ظریفی پر اپنا احتجاج ریکاڈر کراتے ہوئے کہا کہ کسقدر افسوس کی بات ہے، کرونا وائرس کے تحت چین میں مرنے والے لوگوں کے لئے فریاد اور دہلی فسادات پر خاموش، کشمیر پر خاموش، آیودھیا فیصلے پر خاموش، طلبا کو پیٹنے پر خاموش، سی اے اے پر خاموش ہیں۔

بولی وڈ کے لیجنڈری اداکار 69 سالہ نصیر الدین شاہ نے بھارت کے موجودہ حالات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 سال بعد اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ ’مسلمان‘ ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتے۔

دیپکا پڈوکان، ٹونیکل کھنہ، پیرتنی چوپڑا، دیا مرزا اور جاوید اختر سمیت دیگر بھارتی اداکاروں نے مودی کے غیر انسانی سلوک کی کھل کر مذمت کی۔

دہلی سمیت مکمل بھارت کی یہ صورتحال کوئی نئی نہیں ہے، ہندوستان میں اقلیت برداری کے ساتھ یہ طرز عمل بہت پرانا ہے، ریکاڈر پر ہے کہ

1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات میں صرف دلی میں کم از کم 3000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہٹ دھرمی بھی دنیا پر آشکار ہے، بھارت کا ہندو راج اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا ہے

میں نے ابتدا میں کہا تھا، وقت بہترین منصف ہے، شکریہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، آپ کے زیرک ذہن اور درد مند دل کی وجہ سے آج ہم آزاد ریاست پاکستان میں سانس لے رہے ہیں اور اول درجے کے شہری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شکریہ جناح، یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائداعظم تیرا احسان ہے، احسان۔

پاکستان زندہ باد

Comments - User is solely responsible for his/her words