خلیل الرحمن قمر ماروی سرمد، عورت مرد


میں عورت ہونے کے ناتے خلیل الرحمن قمر کی عورت سے نفرت کی مذمت کرتی ہوں لیکن ماروی سرمد کو سرے سے مسترد کرتی ہوں اور خلیل الرحمن قمر کو اس دفعہ اس معاملے پر سپورٹ کرتی ہوں اور ماروی سرمد جیسی عورت کو اپنا نمائندہ نہیں مانتی اور میرا جسم میری مرضی کو اپنے حساب سے مانتی ہوں جس کی میں وضاحت کروں گی۔

گناہ ثواب ہر مرد و عورت کا انفرادی فعل ہے میں ہر اس مرد کی مذمت کرتی ہوں جو اُس عورت پر تشدد کرتا ہے جو آوارہ نہیں ہے جو عورت پر تعلیم کے حصول کو حرام مانتا ہے جو مدرسوں کے بچے بچیوں کو ریپ کرتا ہے اور عام بچے بچیوں اور لڑکیوں، لڑکوں کو ریپ کرتا ہے جو دہشت گرد ہے کرپٹ ہے۔

میرا جسم میری مرضی کا نعرہ گومل یونیورسٹی کے پروفیسر جیسے لوگوں کے لئے ہے زینب کے قاتل کے لئے ہے ہر تشدد اور ظلم کرنے والے کے لئے ہے جو عورت کو غلام، اور پاؤں کی جوتی ناقص العقل مانتا ہے، جو عورت کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے جو اپنے عورت کولیگ پر اور معاشرے میں کسی بھی مقام پر عورت پر گندی نظر اور زبان کا استعمال کرتا ہے۔

ہر عورت بری نہیں ہے۔ میری رائے میں تو عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں برائی کی شرح نسبتاً کم ہے اس کی وجہ شاید مرد زندگی کے ہر شعبے میں حقوق اختیارات میں روز اول سے قابض ہے۔ حاکم ہے تاریخ سے یہ زمین مرد کے غلبے میں ہے، اگر ساری عورت جنس ہی بری ہے تو انبیاء کی مائیں، بہنیں، بیویاں، بیٹیاں بھی عورتیں تھیں حضرت مریم علیہ السلام، حضرت آسیہ، خدیجہ الکبری رضی اللہ حضرت عائشہ، حضرت فاطمہ زہرا اور جیسی عورتیں تاریخ میں گزری ہیں جن کے ذکر سے ہی تقدس کا احساس ہوتا ہے۔

ماں بھی ایک عورت ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے مرد کے عورت پر برتری کے باوجود باپ کو ماں پر برتری نہیں ہے اسلام نے عورت کو بہت حقوق دیے باعزت روزگار، شادی، جائداد لیکن مسلمانوں نے ان جائز حقوق سے بھی عورت کو محروم رکھا، ان باتوں میں سختی سے عورت کو پابند رکھا جو سخت احکامات تھیں لیکن جہاں حقوق کی بات تھی اس پر چپ سادھ رکھی، جس کی وجہ سے یہ رسہ کشی چل رہی ہے۔

ہر مرد برا نہیں ہے ہر مرد قابلِ نفرت نہیں ہے۔ عورت مارچ میں سارے بنی نوع مرد کے خلاف آواز اٹھانا غلط ہے۔  اپنے مطالبات کو درست کر لیں اور اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کریں، جو شوہر آپ کو پیار کرتا ہے آپ کے سارے حقوق کا خیال رکھتا ہے اس کے لئے خدارا ماروی سرمد کے طور طریقے مت اپنائیں کہ جب میرا دل چاہے میں تعلق قائم کروں جب چاہے نا کروں

وہ آپ کا اپنا ہے اس کو خوش رکھنا آپ کا فرض ہے کامیاب گھر کی ضمانت ہے، پیار کرنے والے خیال رکھنے والے شوہر، بھائی، باپ کو کھانا پکا کر دینا موزہ دینا کپڑے دینا کوئی ظلم نہیں ہاسٹل لائف میں جب غیر لوگ بھی ایک ساتھ رہتے ہیں تو ایک دوسرے کے کام کر لیتے ہیں تو ایک گھر میں کرنے پر کیسا اعتراض؟

میں اس مرد کا احترام کرتی ہوں جو عزت دیتا ہے جو سچا محافظ ہے جو حقیقی شریف ہے جو ایک بہترین انسان ہے اچھا بھائی، باپ، بیٹا، شوہر ہے، اچھا استاد ہے کو ورکر ہے، پڑوسی ہے، ہر وہ اچھا مرد جو اس معاشرے کا فرد ہے، اچھے شوہر کے لئے میرا جسم میری مرضی ایک بے معنی نعرہ ہے

خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد کی لڑائی میں میڈیا جتنا خلیل الرحمن کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہے عوام اتنا اس کے حق میں ہیں۔ ابھی تک جتنے بھی کمنٹس نظر سے گزرے ایک بھی خلیل صاحب کے خلاف اور ماروی صاحبہ کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اگر خلیل الرحمن اپنی بدتمیزی کی لئے مشہور ہے ماروی سرمد اس سے دوگنا بدنام ہے۔

بات خلیل الرحمن یا ماروی سرمد کی یا میرا جسم میری مرضی کی نہیں ہے حقوق کی ہے اگر عورت عورت مارچ میں با عزت روزگار کے مواقع، تعلیم کا حق، جائیداد کا حق، ظالم شوہر باپ بھائی کسی بھی شکل میں مرد سے قانونی تحفظ کا حق، گھر کے کاموں میں سہولت کا حق، تشدد سے تحفظ کا حق، اور معاشرے میں کامیاب با عزت زندگی کے لئے کوشش کرتی تو شاید یہ لڑائی کی صورت اختیار نہ کرتی بس معاشرے میں دونوں کے حقوق و اختیارات میں توازن برقرار رکھنے کی بات ہے کہ دونوں فریقین کو کوئی مسئلہ تنگی نہ ہو۔

یہ ریاست اور اسلامی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ وہ ایسے قوانین بنائے اور نافذ کریں جس سے ایک فریق کو بھی بدتری اور برتری کا احساس نہ ہو جس میں دونوں کے حقوق و اختیارات کا خیال رکھا جائے اور اس پر باتوں کے حد تک نہیں بلکہ سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور یہ قوانین بناتے ہوئے اسلامی کونسل اور علماء کو تنگ نظری سے کام نہیں لینا چاہیے تا کہ اس جھگڑے کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے تاکہ دونوں فریقین معاشرتی، سماجی، معاشی، ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں، اب ہم سب کو ان سب جھگڑوں سے بالاتر ہو کر اس ریاست کو دنیا کے بہترین ممالک میں کھڑا کرنا ہے اپنا مقام بنانا ہے عزت بنانی ہے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان بنانا ہے جس پر ترقی یافتہ ممالک اپنی مرضی نہ چلا سکیں۔

Facebook Comments HS