کم عقل عورت اور افلاطون مرد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے چند دنوں میں ایک مخصوص نعرے کے تناظر میں ایک بحث جاری ہے ۔اس نعرے کی غلط تفہیم کے بارے میں سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو کم عقل سمجھتا ہے اورپدر سری نظام کو ایمان کی طرح مقدس جانتاہے بلکہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ اسے دینی اقدار سے تشبیہ دیتا ہے۔اس نظام کی پیداوار مردو عورت،دونوں ہی عورت کو کم عقل سمجھتے ہیں۔ روزمرہ معاملات میں یہ بار باردیکھنے کو ملا کہ جب ایک مرد ایک عورت سے کسی رشتے یا تعلق کی وجہ سے براہِ راست مخاطب ہوتا ہے، تو گفتگو کے دوران کئی دفعہ کہتا ہے ’تمہیں کیا پتا‘، ’تم رہنے دو، میں خود حساب کروں گا، میں خودپیسے گنوں گایا خود بات کروں گا‘، ’تمہیں کیوں بتاﺅں ،یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آئے گی ‘، ’یہ معاملہ اس لیے خراب ہوا کہ فیصلہ عورتیں کر رہی تھیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور عورت کی غیر موجودگی میں بھی اس کی عقل اور فہم کے بارے میں اسی قماش کی باتیں سننے کو ملتی ہے۔ عورت کو حساب نہیں آتا، اسے سیاست کا نہیں پتا، وہ بڑے فیصلے نہیں کر سکتی، اکیلی گھر سے نکلی تو گم جائے گی، گاڑی نہیں چلا سکتی،اسے بچے پالنا نہیں آتے، کھانا بنانا نہیں آتا، ملنے برتنے کا ڈھب نہیں، گھر صاف نہیں رکھ سکتی وغیرہ ۔۔ مختصر یہ کہ عورت کی ذات کے حوالے سے مین میخ نکالنا ہماری معمول کی گفتگو کا حصہ ہے۔

اس نعرے کے تناظر میں بار بار یہی کہا گیا کہ” اس نعرے کا مطلب غلط ہے۔ عورت بے راہ روی کی باتیں کر رہی ہے۔ وہ اپنے جسم کا غلط استعمال کرنے کی خواہاں ہے۔ عورت ہمیں پہلے اس نعرے کا مطلب بتائے۔“

پھر یوں ہوا کہ بہت سی عورتوں نے مختلف فورمزپر اس نعرے کا مطلب بتایا۔ تو ان عورتوں کو کہا گیا کہ نہیں یہ مطلب تم غلط بتا رہی ہو۔ یعنی نعرہ لگانے والی عورت خود جوبتا رہی ہے، وہ غلط ہے! دوسرے لفظوں  میں وہی بات کہ تم کم عقل ہو ، تم جو خود کہہ رہی ہو اس کا مطلب بھی ہم بتائیں گے۔ تم سوچے سمجھے بغیر ایک غلط جملہ بول رہی ہو کیونکہ تم میں عقل نہیں۔

پاکستانی مسلمان عورتوں نے ہزارکہا کہ اس نعرے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے سب کو ایک اختیار کے ساتھ پیدا کیا۔ قیامت کے روز اس اختیار کے استعمال کے بارے سوال کیا جائے گا۔ مردہو یا عورت، یہ دنیا اس کے دل، نیت، دماغ، خواہشات وغیرہ کے حوالے سے امتحان گاہ ہے۔ انسان باقی مخلوق سے اس لیے ممتاز ہے کہ اس کے پاس عقل ہے، یعنی مرد اور عورت دونوں کے پاس عقل ہے۔ پھر اس عقل کی بنیاد پر صحیح اور غلط کے مابین فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ اور پھر اس صلاحیت کے ساتھ یہ اختیار بھی ہے کہ اس غلط اور صحیح میں سے جس کو چاہے، چن لیں۔ تو کیا عورت کے لیے جسم کا امتحان نہیں؟ اگراس کے پاس اس دنیا میں اختیار نہیں، تو امتحان کاہے کا؟ کیا مردوں کے جسم کا امتحان نہیں؟ اللہ نے جسم اور جان (روح، سانس جو بھی کہہ لیں) کو ایک ساتھ پیدا کیا۔ کیا ہم صرف روح ہیں، دل ہیں، دماغ ہیں۔۔

تو صاحبو، آپ میں سے کتنے عورت کو دل، روح ، دماغ ، صلاحیت، عقل، قابلیت رکھنے والی مخلوق سمجھتے ہیں۔ کیا بیشتر کے نزدیک عورت صرف جسم نہیں؟ کیا اس کی آبجیکٹی فیکیشن میں آدھا دن نہیں گزارا جاتا؟ اگر تو عورت کے دل، دماغ،روح کوگالی دی جاتی تو وہ اس کے خلاف بھی نعرہ لگاتی لیکن گالی میں تو اس کے جسم اور اعضاءکا نام ہی استعمال ہوتا ہے۔۔۔ ذات اور روح تو اس تیسری دنیا کے ہرباشعور انسان کی چھلنی ہے اور ان لوگوں کو اس نعرے پر اعتراض بھی نہیں۔ اس کے جسم کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، یعنی زبر جنسی، تیزاب گردی، تشدد، بازاروں میں ہراساں کرنا، کم عمری کی شادی وغیرہ۔۔تو یہ زخم اس کے اور معاشرے کے حساس لوگوں کے دل و دماغ پر لگتے ہیں۔ جب اس کو زبر جنسی کا نشانہ بنا کر کھیتوں اور گندے نالوں میں پھینکا جاتاہے،تو کیااس مرد کو ایک جسم کی خواہش نہیں ہوتی ہے؟ وہ اس جسم کو استعمال کر کے مرنے کے لیے پھینک جاتا ہے۔ اس پر جب عورت کہتی ہے کہ اس کا جسم ، اس کی مرضی، تو آپ کہتے ہیں کہ یہ جانے کیا مانگ رہی ہے۔

اس سارے قضیے کے دوران کچھ لوگوں نے تانیثیت کی دوسری لہر کی تحریک میں اٹھنے والے نعرے’مائی باڈی، مائی چوائس‘ کا ذکر کیا، جس کا ٹھیک ترجمہ ’میرا جسم، میری مرضی ‘ ہی ہے۔ اور کہا کہ عورت دراصل مغربی تحریک کی طرح ’اسقاطِ حمل‘ کا حق مانگ رہی ہے۔ان لوگوں نے یہ تاثر بھی دیا کہ عورت چونکہ کم عقل ہے، سو اسے مغرب کی تحریک، تحریک کی تاریخ اور اس کی مختلف لہروں اور نعروں کا پتا ہو ہی نہیں سکتا۔ مغربی تحریک کو مغرب کے تناظر میں دیکھنے اور یہاں اٹھنے والے نعرے کو یہاں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مغرب کی عورت نے اس نعرے کو ایک مخصوص مطلب دیا۔ اور یہاں کی عورت نے اس نعرے کو ایک الگ مطلب دیا۔ کیا یہ کوئی غیر ممکن بات ہے؟ صرف آزادی کا لفظ دیکھیں؛ کشمیر میں آزادی مانگنے والوں کی تحریک بھی تحریکِ آزادی ہے، نسلی جبر سے آزادی مانگنے والے کالی رنگت والوں کی تحریک بھی تحریکِ آزادی ہے۔ اب کوئی کہے کہ تحریکِ آزادی کا صرف ایک مطلب ہو سکتا ہے، اور وہ 1857کی تحریکِ آزادی ہی ہو سکتا ہے، تو ایسی دلیل دینے والے کو کیا کہا جائے گا؟

 اسقاطِ حمل کو بھی دیکھیں تو کچھ باتیں سمجھ آتی ہیں۔اس کی ضرورت کب ہوتی ہے؟ نمبر ایک: جب کوئی عورت شادی کے بغیر حاملہ ہو اور وہ حاملہ کسی دروازے یا دیوار کی وجہ سے نہیں، کسی غیر مرد سے مرضی سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر ہوتی ہے ، سو اس عمل کے دونوں شریک اس کا فیصلہ کرتے ہیں ۔بلکہ کچھ صورتوں میں مرد بھاگ جاتا ہے اور عورت کو یہ مرحلہ اکیلے بھگتنا ہوتا ہے۔ ایسے معاملات کا ہمارے معاشرے میں شرح تناسب کیاہے؟ اور جن کاشادی کے بغیر تعلقات میں حمل نہیں ٹھہرتا، چاہے مرد اور عورت کا تعلق ہویا مرد اور مرد کا تعلق، ان سب کی تعداد کیا ہے؟

نمبر دو: بچے زیادہ ہونے کی صورت میں غلطی سے حمل ٹھہرنے کی صورت میں رضامندی سے حمل گرانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، یا میاں کے حکم پر بیوی کو زبردستی اس تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ یا الٹرا ساﺅنڈ میں ایک اوربیٹی کی آمد کا سن کر حمل گرایا جاتا ہے۔ یہ تعداد کتنی ہو گی؟

نمبر تین: عورت کو زبرجنسی کا شکار کیا جاتا ہے اور ماں باپ اپنی بچی پرہونے والے اس ظلم کو چھپانے اور بدنامی سے بچنے کے لیے اسقاطِ حمل کرواتے ہیں۔

 نمبر چار: دورانِ حمل کوئی ایسی مشکل سامنے آ جاتی ہے کہ ڈاکٹر کو بچہ ضائع کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں تو یہی چارصورتیں سامنے ہیں۔ان سب میں جو تکلیف اور پریشانی عورت کو بھگتنا پڑتی ہے کیا وہ چاہے گی کہ اس کے ساتھ یہ بار بار ہو اور پھر اسے حق دیا جائے کہ وہ اسقاط حمل خود کروا سکے؟ اس سے زیادہ مضحکہ خیز کیا کوئی بات ہو سکتی ہے کہ اس ساری صورتِ حال میں پاکستانی عورتیں یہ نعرہ اسقاطِ حمل کا حق لینے کے لیے لگا رہی ہیں۔ یعنی عورت ناجائز تعلقات قائم کر کے بار بار ابارشن کروانا چاہتی اور اس مصیبت سے گزرنا چاہتی ہے؟ کیا اس کو اپنی زندگی اور صحت سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ کوئی ڈسپرین کی گولی ہے جو کھا لی اور دوبارہ سر میں درد کروانے چل پڑے؟جو عورتیں شادی شدہ ہیں، وہ اپنی مرضی سے بہت سہولت سے کیوں اپنا بچہ ضائع کر وانا چاہیں گی جبکہ نناوے فی صد کیسوں میں یہ عمل صرف باہمی رضامندی، یا شوہر کی مرضی سے ہوتا ہے۔

سوخدا را اس نعرے کو اپنے معنی نہ پہنائیں۔یہاں کی عورت جب اپنے جسم پر اپنی مرضی کا نعرہ لگاتی ہے تو اس کا وہی مفہوم ہو گا جو وہ چاہتی ہے ۔وہ چاہتی ہے کہ اس کے جسم کو زبر جنسی کا نشانہ مت بناﺅ،تیزاب مت پھینکو، تشدد مت کرو، اس کے جسم کے بارے  میں باتیں مت کرو، اس کی شکل و صورت ، لباس اور حلیے کے بارے میں باتیں مت کرو، اسے بدلہ اتارنے کے لیے کسی کے حوالے مت کرو، اسے بچپن میں مت بیاہو، اور بچوں میں وقفہ نہ رکھ کر اس کی صحت اور زندگی سے مت کھیلو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *