داد اور تحقیق کا مستحق امان اللہ خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ میں سے کئی دوستوں کو بھی فون کے ذریعے کافی لوگوں نے وہ ویڈیو بھیجی ہوگی۔ آغاز اس ویڈیو کا بہت ڈرامائی تھا۔بارش سے پہلے ہوئی تیز ہوا کی وجہ سے بکھرے پتوں سے بھری زمین پر ایک جوتا نمودار ہوتا ہے۔اسے پہنا ہوا شخص بہت تیزی سے کسی جانب غصے سے مغلوب ہوابڑھ رہا ہے۔ بالآخر ’’چوہان صاحب آگئے‘‘ کی آواز بلند ہوتی ہے۔

نظر بظاہر ایک ویران میدان میں کسی قبر کی کھدائی رُکی ہوئی تھی۔پنجاب کے ایک متحرک وزیر جناب فیاض الحسن چوہان صاحب سے مدد کی فریاد ہوئی۔وہ سارے کام چھوڑ کر فی الفور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ قبر کی کھدائی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی سرزنش کی۔ جن صاحب کی سرزنش ہوئی وہ معاملہ ’’اللہ کے سپرد‘‘ کرتے ہوئے منظر سے غائب ہوگئے۔ مذکورہ ویڈیو بھیجنے والوں کا دعویٰ تھا کہ لاہور کی ایک ہائوسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ’’اپنے قبرستان‘‘ میں ’’ایک میراثی‘‘ کی قبر کے لئے جگہ دینے کو تیار نہیں تھی۔ چوہان صاحب کی بروقت مداخلت نے انہیں رام کیا۔

آپ کی خبر نہیں مگر میں نے ویڈیو کے ذریعے بتائی کہانی پر فی الفور اعتبار کرلیا۔زعم پارسائی میں مبتلا ہوئے معاشرے میں بتائی ہوئی یہ کہانی عجیب اور انہونی نہ لگی۔ دل ہی دل میں چوہان صاحب کی ستائش کو مجبور بھی ہوا۔اتوار کی رات سے مگر سوشل میڈیا ہی کے ذریعے ’’وضاحت‘‘ آگئی۔دعویٰ یہ ہوا کہ قضیہ فوت ہوئے شخص کی ’’حیثیت و مرتبے‘‘ کی وجہ سے نہیں اُٹھا تھا۔ہائوسنگ کالونی کی انتظامیہ کا بلکہ اصرار تھا کہ تدفین کے لئے اس نے اپنے زیرقبضہ میدان میں ’’رقبے اور ترتیب‘‘ کا جو نظام مختص کررکھا ہے اس کی خلاف ورزی ہورہی تھی۔

چوہان صاحب سے مدد کی درخواست ہوئی۔ وہ ترنت جائے وقوعہ پر چلے گئے۔ہائوسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کو یاد دلایا کہ عدالت میں اُٹھے کئی معاملات اور نیب کی جانب سے ہوئی انکوائریوں کی بدولت اس کی اپنی حیثیت متنازعہ ہوچکی ہے۔انہیں ایک ’’لیجنڈ‘‘ فن کار کی تدفین میں رخنہ ڈالتے ہوئے لہذا شرم محسوس کرنا چاہیے تھی۔یہ کہانی بھی مجھے قابل اعتبار سنائی دیتی ہے۔

بنیادی حقیقت البتہ یہ ہے کہ امان اللہ خان اب اس دُنیا میں نہیں رہے۔مرحوم سے میرا ذاتی تعلق کبھی نہیں رہا۔ 1975میں اسلام آباد آگیا تھا۔ یہاں آنے سے قبل دن کے کئی گھنٹے اگرچہ لاہور آرٹس کونسل کی نذر ہوجاتے تھے۔ ڈرامہ لکھنے کا شوق تھا۔اسے لکھنے کا ہنر مگر قابو میں نہیں آرہا تھا۔خالد عباس ڈار اور جمیل بسمل کی صحبت میں بیٹھ کر اس ہنر کی باریکیاں دریافت کرنے کی کوشش کرتا رہا۔سٹیج ڈرامے کے لئے وہاں ایک چھوٹا سا ہال تھا۔ وہاں 150سے زیادہ تماشائیوں کو بٹھانے کی گنجائش نہیں تھی۔ شاذہی کسی ڈرامے کو لیکن ’’ہائوس فل‘‘ کرنے کا اعزاز نصیب ہوتا تھا۔

سینئر فن کاروں کی وساطت سے علم یہ بھی ہوا کہ امتیاز علی تاج اور فیض احمد فیض کی سرپرستی میں جب الحمرا والے سٹیج پر ڈرامے شروع ہوئے تو تماشائیوں کو ’’منت ترلے‘‘ کرکے جمع کیا جاتاتھا۔ جو ڈرامے سٹیج ہوتے تھے وہ بہت ’’سنجیدہ‘‘ ہوا کرتے تھے۔اکثر اوقات غیر ملکی زبانوں میں لکھے ڈراموں کو ’’مقامی‘‘ تناظر میں ڈھال کر پیش کرنے کی کاوش ہوتی۔ بعدازاں لاہور سے شروع ہونے والے پی ٹی وی نے ڈرامے سے متعلق سارے ٹیلنٹ کو اپنی جانب کھینچ لیا۔

سٹیج ڈرامے کا کوئی والی وارث باقی نہ رہا۔ڈاکٹر انور سجاد کی سرپرستی میں خالد عباس ڈار جمیل بسمل ناہید خانم اور افضال احمد جیسے کئی فن کاروں نے اسے زندہ رکھنے کی کوشش کی ۔ ان لوگوں کا حوصلہ بڑھانے فلموں میں کافی کامیاب ہوجانے کے باوجود محمد قوی رفیع خاور عرف ننھا اور علی اعجاز بھی کم معاوضوں پر محض فن کی خدمت کے لئے الحمرا کے چند ڈراموں میں حصہ لینے کو تیار ہوجاتے۔ ڈرامہ لکھنے اور اس میں کام کرنے کے خواہش مندوں کو فقط پی ٹی وی ہی اظہار حتمی کا پلیٹ فارم مہیا کرسکتا تھا۔

1977کے اختتامی دنوں میں لیکن لاہور آرٹس کونسل کا پھیرا لگایا تو ماحول قطعاََ بدل چکا تھا۔ اس کے مرکزی دروازے کے باہر ڈرامے کی ٹکٹ بکنا شروع ہوگئی تھی۔ ایک سہ پہر میں وہاں گیا تو ٹکٹ والی کھڑکی کے باہر ’’ہائوس فل‘‘ لکھا ہوا نظر آیا۔خوش گوار حیرت کی وجہ سے ابھرے تجسس کی بدولت لوگوں سے گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ ایک نیا فن کار آیا ہے۔

نام ہے اس کا امان اللہ خان۔ انتہائی غریب گھرانے کا فرزند تھا۔گوجرانوالہ کے ایک گائوں سے لاہور آیا۔داتا دربار سے ملحق بازار میں آوازیں لگاکر ٹافیاںوغیرہ بیچتا رہا۔ لاہور کینٹ کے ایم شریف نے مگر ایک ڈرامہ لکھا۔اقبال آفندی نے اسے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیا۔اس ڈرامے کا نام ’’سکسر‘‘ تھا اور وہ کئی دنوں سے کھڑکی توڑ رش لے رہا ہے۔میںیہ ڈرامہ دیکھنے کو مجبور ہوگیا۔ ہال میں ایک صوفہ بچھا کرمجھے ’’وی آئی پی‘‘ مہمان بنایا گیا۔ ڈرامے کی کہانی واجبی سے تھی۔ نظر بظاہر کوئی ’’پلاٹ‘‘ ہی موجود نہیں تھا۔

اُکتا کر باہر نکلنے کے چکر میں تھا تو ایک دبلاپتلا شکل وصورت اور حلیے کے اعتبار سے حسن اور کشش سے قطعاََ محروم ایک اداکار سٹیج پر داخل ہوا۔ ڈرامہ کی زبان میں اسے Entry کہتے ہیں۔اس شخص نے داخل ہوتے ہی گلے سے مختلف راگوں کی سُریں نکالیں۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔بغیر کسی سکرپٹ کے وہ فی البدیہہ جملوں سے خود پر طنز کرتے اداکاروں کو جوابی طنز کے ذریعے پچھاڑتا اور حاضرین سے قہقہے سمیٹتا رہا۔اس کی صورت میں یقینا لاہور کو ایک خالصتاََ دیسی ’’چارلی چپلن‘‘‘ دریافت ہوگیا تھا۔

ڈرامے کے اختتام کے بعد میں نے اس سے اپنا تعارف کروایا۔انتہائی انکساری سے اس نے میری تعریف کو وصول کیا۔ یہ فقرہ کہنے سے مگر بازنہ رہا کہ ’’شکراے کسی ممی ڈیڈی نے بھی‘‘ اس کے کام کی تعریف کی ہے۔اسے یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ میں ہرگز ’’ممی ڈیڈی‘‘ نہیں ہوں۔لاہور کی گلیوں کا جم پل ہوں۔میں نے بچپن اور جوانی میں جو کردار دیکھے ہیں انہیں بھرپور مشاہدے کی بدولت امان اللہ خان اسٹیج پر لے آیا ہے۔اس کا ’’سودا‘‘‘ یعنی کرداروں پر مبنی مٹیریل بے پناہ ہے۔وہ انہیں اداکاری کے ذریعے ہمارے سامنے لاتے ہوئے ڈرامے کی دُنیا میں ’’چھا‘‘ جائے گا۔

اس نے مزید انکساری سے میرا شکریہ ادا کیا۔اس بار مگر کوئی فقرہ کسنے سے گریز کیا۔لاہور کے ’’جگت تھیڑ‘‘ کو ہمارے پڑھے لکھے نقادوں نے بہت ’’بازاری‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔پارسائوں نے اسے ’’فحاشی‘‘ پھیلانے کا مرتکب بھی گردانا۔

سوال مگر یہ اُٹھتا ہے کہ امان اللہ خان سے قبل سٹیج ڈراموں کے باہر ’’ہائوس فل‘‘ کے بورڈ کیوں نہیں لگے تھے؟۔ ’’تماشہ‘‘ بنیادی طورپر لگانا پڑتا ہے۔گھروں میں ٹی وی اور VCRکے ہوتے ہوئے بھی تماشائی اگر لا ہور کے الحمرا ہال پہنچ کر اپنی جیب سے پیسے دے کر امان اللہ خان کی ’’جگت‘‘‘ کو سراہنے آتے تو ’’جگت‘‘ کی قوت اور کشش کا احترام کرنا بھی لازمی ہے۔تحقیق اس امر کی بھی ہونا چاہیے تھی کہ ’’جگت‘‘ کی قوت وکشش کا اصل راز کیا ہے اور امان اللہ خان ہی کی بدولت اس کا صل Potential ہمارے سامنے کیوں آیا۔

ڈرامے میں Conflict اور ارسطو کے بتائے آغاز درمیان اور اختتام کی بدولت Catharsis تلاش کرتے’’دانشوروں‘‘نے اس ضمن میں تحقیق کی ضرورت ہی کبھی محسوس نہیں کی۔’’ادب‘‘ کی پائمالی‘‘ کے رونے ہی روتے رہے۔امان اللہ خان ہر حوالے سے ’’ذلتوں کے مارے‘‘ لوگوں کا نمائندہ تھا۔ ’’نچلی ذات‘‘ سے تعلق رکھنے والا ایک ’’میراثی‘‘ جس نے شہر میں پھیری لگاکر زندہ رہنے کی کوشش کی۔اپنے تجربے اور مشاہدے کی شدت سے ہمارے معاشرے میں پھیلتی بے حسی اور منافقت کو دریافت کرتے ہوئے اسے ہنسی ہنسی میں بیان کردینے کا ہنر لیا۔

ہٹلر کے زمانۂ عروج میں چارلی چپلن نے ایسا ہی Little Manدریافت کیا تھا۔ امان اللہ خان کا Little Manوہ پاکستانی تھا جس نے 1980کی دہائی میں خلیجی ممالک سے آئی رقوم کی بدولت ابھری ’’مڈل کلاس‘‘ کے کھوکھلے پن کو کمال مہارت مگر بہت دُکھ سے سمجھا۔ ’’نودولتیوں‘‘ میں مزید دولت کی ہوس اور ’’اچانک‘‘ آئی دولت کی بے وقار نمودونمائش امان اللہ خان کے مزاح کا اصل نشانہ تھے۔وہ ’’ہائوسنگ سوسائٹی‘‘ میں لئے پلاٹوں اور وہاں تعمیر کردہ ’’کوٹھیوں‘‘ میں رہنے کے باعث ’’معزز‘‘ ہوئے افراد کی ’’اصل اوقات‘‘ اپنے مخاطب کو اشتعال دلائے بغیر یاد دلادیتا تھا۔

چیخوف نے اپنے ڈراموں کے ذریعے روس کے ’’نودولتیوں‘‘ کو اسی اندازمیں بے نقاب کیا تھا۔ وہ مگر ’’ڈرامے‘‘‘ کے بنیادی اصولوں کا پابند بھی رہا۔ اپنے مشاہدے سے کردار تخلیق کرتے ہوئے انہیں ایک نپے تلے سکرپٹ کے ذریعے ہمارے سامنے لاتا ۔

امان اللہ خان کو چیخوف جیسے لکھاری نہیں ملے۔وہ ایک ڈھیلے ڈھالے سکرپٹ میں اپنی Entryکے بعد دائیں بائیں نظر آتے کرداروں کوبرجستہ ’’جگتوں‘‘ کی زد میں لینے کو مجبور تھا۔ امریکہ اور یورپ میں Stand Up Comedians ہوتے ہیں۔ وہ ریستورانوں میں کھڑے ہوکر فقرے بازی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں وہ روایت ابھر نہیں پائی۔ امان اللہ خان نے ہماری ثقافت سے جڑی ’’مخولیوں کی ٹولی‘‘ والی روایت کو جدید دور کے سٹیج پر زندہ کردیا۔وہ فقط داد نہیں بھرپور تحقیق کا مستحق بھی ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *