ٹی وی جیسا حساس شعبہ شوقیہ فن کاروں کے ہاتھوں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن دنوں حسینہ معین کے ڈراموں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا،ہماری نسل کی مسیں بھیگ رہی تھیں ۔ ہم  بڑے انہماک کے ساتھ ان کے نٹ کھٹ ڈرامے دیکھا کرتے۔ دھوپ کنارے، پرچھائیاں اور بہت سے دوسرے ڈراموں کی یاد اب بھی دل میں گھنٹیاں بجا دیتی ہے۔شکیل، ساحرہ کاظمی، مرینا خان اور سب سے بڑھ کر راحت کاظمی۔  اِن ہی دنوں نہ جانے کیسے یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ راحت فقط اداکار نہیں دانش ور بھی ہیں۔یہ خیال بابرکت ثابت ہوا اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک علمی پروگرام کی میزبانی ان کے سپرد کردی۔  انھوں نے یہ ذمے داری خوب نبھائی ہوگی ۔ مجھے ایک پروگرام کی یاد آتی ہے۔

موضوع شاید یہ تھا کہ تعلیم اور کارِ سرکار میں قومی زبان کی کار فرمائی کس قدر ہونی چاہیے۔مہمان بہت سے تھے، ان میں ایک ڈاکٹر جمیل جالبی بھی تھے۔ اُن دنوں شاید مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ تھے۔ ان کی باری آئی تو انھوں نے اپنی سوچی سمجھی رائے کے مطابق اردو کی بات کی اور بھرپور دلائل کے ساتھ کی۔ و ہ بات کررہے تھے کہ میزبان کو جانے کون سی بات بری لگ گئی،وہ پرسنل ہوگئے۔ انھوں نے اپنے مہمان کی بات بار بار کاٹی،ان پر جملے کسے ۔ کیا یہ میزبان بہت غیر مہذب تھے، ہرگز نہیں۔ پھر مسئلہ کیا تھا؟

مسئلہ بہت ہی اہم اور غیرمعمولی تھاجس کا عنوان بہت مختصر ہے، موجودہ دور کے محاورے میں Right Person for the Rifgt Job، ماضی میں اسے اپنی زبان میں کہا جاتا تھا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔برسوں پرانے اس واقعے کی یاد ایک نجی ٹیلی ویژن کے ٹاک شو سے تازہ ہوئی جس میں ایک برخود غلط ڈرامہ نگار نے منہ بھر کر ایک خاتون کو گالیاں دیں اور جی بھرکر بدتمیزی کی۔

جس وقت یہ صاحب پیشانی پر بل ڈالے بول رہے تھے ، اس وقت میزبان خاتون کا کردار دلچسپ تھا، وہ بدتمیزی کا نشانہ بننے والی خاتون کو یہ کہہ کر خاموش کرارہی تھیں کہ وہ ان صاحب کو بات کرنے دیں (یعنی بدتمیزی جاری رکھنے دیں) اوراگر انھیں کچھ کہنا ہے تو اس کے لیے اپنی باری کا انتظار کریں۔بعد میں جب کسی اور ٹیلی ویژن  چینل پر ان میزبان خاتون سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔

ایسا ہی ایک واقعہ چند ماہ قبل ایک ٹیلی ویژن شو میں اس وقت رونما ہوا جب ایک سیاست دان نے جوتا میز پر رکھ دیا۔اس موقع پر بھی میزبان کی  جبیں پر کوئی شکن نہ پڑی اور وہ پروگرام کو چلاتے رہے جب ان سے اس حادثے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے بھی اس میزبان خاتون جیسا عذر پیش کیا۔

ٹیلی ویژن کی اسکرین پر ایسے واقعات اگر پانچ دس برس میں ایک آدھ بار ہوجائیں تو حرج کی کوئی بات نہیں لیکن اگر معمول بن جائیں تو تشویش ہونی چاہیے اور ضرور یہ سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے کہ بنیادی مسئلہ کیاہے؟تحقیق کا یہ ایک دلچسپ موضوع ہے ۔

ہمارے ہاں ٹیلی ویژن جب نجی شعبے میں آیا تو اس کے ذمے داروں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ٹیلی ویژن کا تجربہ رکھنے والے لوگوں کی تلاش تھی۔ ابتدا میں یہ ضرورت پرنٹ میڈیا کی تجربہ کار شخصیات کے ذریعے پوری کی گئی جن میں کامران خان آج بھی موجود ہیں لیکن خوبرو اور نوجوان چہرے اسکرین پر لانے کے شوق میں رفتہ رفتہ پیچھے کردیا گیا اور ان کی جگہ نئے ، غیر تجربہ کار اور صحافت و سیاست کے علاوہ قوم کے سماجی مسائل کا ادراک نہ رکھنے والے نوجوانوں کے ہاتھ میں آگئی ۔

اس طرح ٹیلی ویژن میں تربیت اور روایات کی منتقلی کا نظام ہی قائم نہ ہوسکا جو ماضی میں پرنٹ جرنلزم میں بہت مضبوط تھا اور اب بھی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے۔اس وقت ٹیلی ویژن میں عام طور پر یہ وہی لوگ ہیں جو یونیورسٹی سے اٹھے اور کسی نہ کسی سہارے کے زور پر ٹیلی ویژن کی اسکرین پر جلوہ افروز ہو نے کا شوق پورا کررہے ہیں۔

ان میں سے بیشتر کی انا اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی حرفِ نصیحت اور کوئی مشورہ ان کے لیے معنی نہیں رکھتا کیوں کہ وہ عقل کل ہیں۔ان نوجوانوں کے پروگراموں کی کنجی پروڈیوسر کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ روایت پختہ ہوچکی ہے کہ پروگرام کرنے والا اینکر اپنے پروڈیوسر ساتھ لے کر آتا ہے جو ایسی حماقتوں کا راستہ روکنے کے بجائے راہ ہموار کرتے ہیں۔ان پروڈیوسروں کے کیریئر کی ابتدا عام طور پرکنٹرول روم میں سوئیچر وغیرہ کے کام سے ہوتی ہے ۔ یہ کوئی ایسی بری بات بھی نہیں لیکن بری بات یہ ہے کہ وہ بھی اپنے اینکروں کی طرح نہ معاشرے کی حرکیات کو سمجھتے ہیں اور نہ مطالعے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ جن اداروں میں کام کرتے ہیں، وہاں بھی روزمرہ کے کاموں کی رفتار اس قدر تیز ہوتی ہے کہ ان کے ذمے داروں کی توجہ بھی اس پہلو کی طرف نہیں جاتی۔

اس صورت حال نے ایک حکایت یاد دلا دی جس کے راوی اور کردار خود مرحوم اشفاق احمد ہیں۔ کوئی صاحب اپنی صاحبزادی کے ہمراہ اشفاق صاحب کے ہاں آئے اور فرمائش کی کہ وہ اسے اپنے کسی ڈرامے میں کوئی کردار دلا دیں۔ اشفاق صاحب نے فرمایاکہ یہ بچی ڈرامے میں کام کرنا چاہتی ہے ، بہت اچھی بات ہے پھر وہ بچی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ بیٹا ! تم نے کبھی ڈرامہ پڑھا؟ جواب انکار میں ملا، انھوں نے سوال کیا کہ اسکول کالج میں کبھی کسی ڈرامے میں حصہ لیا؟ اس سوال کا جواب بھی انکار میں تھا۔

انھوں نے پوچھاکہ کیا بعد کے برسوں میں اداکاری کے بارے میں کچھ سیکھا اور جانا؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں آیا۔ اشفاق صاحب نے یہ سب باتیں تسلی کے ساتھ سنیں اور پھر کہا کہ چلیں کوئی بات نہیں۔ اچھا یہ بتاؤ کہ تم ڈرامے میں کام کرنا کیوں چاہتی ہو؟ ’’کیوں کہ مجھے اس کا شوق ہے‘‘، اس نے جواب دیا۔ اس پر انھوں نے ایک سوال اور کیااور پوچھا کہ بیٹا! ویسے تم کرتی کیا ہو؟ بیٹی نے بتایا کہ انھوں نے ایم بی بی ایس کر رکھا ہے اور وہ سرجن ہیں۔اشفاق صاحب یہ سن کر مسکرائے پھر کہا کہ عجیب بات ہے،تمھاری عمر میں مجھے بڑا شوق تھا کہ میں بھی سرجن بنوں اور لوگوں کے آپریشن کیاکروں۔ اب تمھاری باتیں سنیں ہیں تو یہ خواہش ایک بار پھر جاگ گئی ہے۔ ایک کام کرو مجھے اپنے آپریشن تھیٹر میں لے جاؤ تاکہ زندگی میں کم ازکم ایک آپریشن تو میں کرلوں تاکہ اس معاملے میں میرے دل میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔

اشفاق صاحب کی خواہش پر وہ لڑکی خفا ہوگئی اور کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپریشن تو انسانی جان کا معاملہ ہے، بغیر سیکھے کسی کے ہاتھ میں نشتر کیسے دیا جاسکتاہے؟’’اللہ تیرا بھلا کرے‘‘ ۔ لڑکی کے جواب میں اشفاق صاحب کے منہ نکلا ۔ پھر کہا کہ اداکاری کرنے یا ڈراما لکھنے والے کو بھی کسی سرجن کی طرح ہی تربیت یافتہ ہونا چاہیے کیوں کہ اُس پر ڈاکٹر اور سرجن سے بھی زیادہ اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

اس کی مثال ماں کی طرح سے ہے جو اچھی اور سمجھ دار ہوگی تو اولاد بھی نیک اور خوش اطوار ہوگی، جاہل اور گنوار ہوگی تو معاشرہ بھی وہی منظر پیش کرے گا۔ اداکاری کی خواہش رکھنے والی لڑکی کی سمجھ میں تو اشفاق صاحب کی بات آگئی تھی ، کیا ہمارے اینکروں اور ڈراما نگاروں کی سمجھ میں بھی کبھی آئے گی یا یہ حساس شعبہ شوقیہ فن کاروں کے ہاتھوں میں ہی برباد ہوتا رہے گا؟

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *