عورتوں کا دن : سماجی اور فکر ی تبدیلی درکار ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل دنیا بھر میں عورتوں کا دن منایاگیا۔ عورتوں کی عظمت، جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ان کی ترقی او رخوشحالی کے لیے نت نئے منصوبے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔اس کے برعکس پاکستان میں اس موضوع پر بہت ہی منفی انداز میں لے دے ہورہی ہے۔دنیا جہاں کے مسائل اور موضوعات چھوڑ کر لکھاری، خطیب اور صحافی سارا زوربیان یہ ثابت کرنے پر صرف کررہے ہیں کہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ ہماری معاشرتی اور مذہبی اقدار سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟ اس سے جنسی تلاذ نظر آتاہے یا پھر عورتوں کے اختیار کی بات ہورہی ہے۔

عورتوں کے حقوق اور فرائض کے حوالے سے جاری بحث ومباحثے نے اس موضوع پر ازسر نو غوروفکر اور مذہبی اقدار کو پیش نظر رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی راہیں تلاش کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ افراط وتفریط کا شکار سماج عمومی طور پر انتہاپسندی کا شکا رہو جاتے ہیں اور وہ زمینی حقائق تسلیم نہیں کرتے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری پڑھی لکھی اور بالغ نظر خواتین جو عہد حاضر کی ٹیکنالوجی اور عصری علوم سے بھی ہم آہنگ ہیںکو زبردست معاشرتی گھٹن کا سامنا ہے۔ وہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند ہیں لیکن انہیں روزگار کے معقول مواقع دستیاب ہیں نہ ہی باوقار زندگی گزارنے کے امکانات۔

حال ہی میں ڈیرہ اسماعیل خان یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پکڑے گئے جو طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرتے تھے ۔ اگرچہ ان سے استعفیٰ لے لیا گیا اور میڈیا نے اس واقعے کی خوب تشہیر کی ۔ اتفاق سے پروفیسر صاحب دھرلیے گئے لیکن ہزاروں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں ڈرا ور خوف کے باعث رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ دفاتر ہوں، بس سٹاپ ہو، بازار ہو ہر جگہ عورتو ں کے تحفظ کے لیے ان کے اہل خانہ کو حفاظتی دیواریں چننا پڑتی ہیں۔ یہ رویہ ایک بیمار معاشرے اور اس کے پست ذہنیت شہریوں کی علامت ہے۔

دنیا ایسے مسائل سے دوچار رہی ہے لیکن انہوں نے ان مسائل کا حل تلاش کیا۔ قانون کی پکڑ اس قدر سخت بنائی گئی کہ عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا دور کی بات اس کا تصور بھی بھیانک خواب بن گیا۔ ادارے بنائے گئے جو دفاتر میں کام کرنے والے لوگوں کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ کس طرح ساتھی خواتین کا احترام کریں اور ذہنی یا جسمانی ایذا پہنچانے سے گریز کریں۔ بصورت دیگر قانون حرکت میں آجاتاہے۔ دور دیہاتوں کی خواتین جنہوں نے زندگی بھر گھر سے باہر قدم نہیں رکھا ہوتامغربی معاشروں میں جا بستی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیتی ہیں۔ آخرکیوں؟ انہیں کوئی خوف اور پریشانی لاحق نہیں ہوتی کہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاسکتی ہے۔

کئی ایک ممالک میں پاکستان کے دیہی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی عورتیں اپنی محنت اور ذہانت کے طفیل پارلیمنٹ جیسے بڑے بڑے ایوان کا حصہ بنی ہیں۔ ازبکستان کے شہر سمر قند گزشتہ کچھ برسوں میں دوبار جانا ہوا۔ وہاں خواتین کاروبار اور تجارت میں مردوں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ رات گئے ایک ریسٹورنٹ میں مردوں کے ہجوم میں ایک خاتون کام کرتی دکھائی دی۔

منیجر کی اجازت سے اس خاتون سے کچھ گفتگو ہوئی ۔خاتون نے بتایا کہ وہ رات بارہ بجے چھٹی کرتی ہے اور بارہ میل کی مسافت پر اس کا فلیٹ ہے۔ بس پکڑ کر گھر چلی جاتی ہے۔ معذرت سے پوچھا کہ تمہیں خوف نہیں آتا اتنی رات گئے سفر کرنے سے۔ مسکرائی اور کہنے لگی کہ خوف کس بات کا۔ مردوں میں کوئی میرے ساتھ بدتمیزی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ریاست نے ایسے قوانین وضع کررکھے ہیں کہ یہ عشروں تک سورج کی شکل نہ دیکھ پائیں اگر کسی خاتون کو چھیڑ لیں تو۔ ترکی ، اردن ، ملائیشیا اور درجنوں اور مسلم معاشروں اور ممالک میں عورتوں کو پورے وقار اور عزت کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنایاجاتاہے۔

اسلامی اقدار کا بھی یہ ممالک پورا خیال رکھتے ہیں اور عورتوں کو تعلیم، صحت اور روزمرہ کے کاموں میں ان کی صلاحیتوں اور استعداد کے مطابق حصہ ڈالنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اکثرعورت کو ایک علیحدہ ذات کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے مرد کے دست نگر ایک شے یا جسم تصور کیا جاتاہے۔ عورت کے تشخص اور سوچ کو تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے مردوں کی فکر اور شناخت کے ایک جزو کے طور پر برتاجاتاہے۔ اس رویہ نے عورتوں کی ایک قابل ذکر تعداد میں ٹکراؤ، مقابلہ اور مسابقت کا ماحول پیدا کیا ہے۔ عورتوں کے تحفظ ، ملازمت میں ترجیح دینے اور انہیں جائیداد میں حصہ دینے کے حوالے سے پاکستان میں حالیہ برسوں میں موثر قانون سازی ہوئی لیکن ان قوانین پر عمل درآمد ان کی رو ح کے مطابق ابھی تک ہونا باقی ہے۔

خاص طور پر چھوٹے شہروں، قصبات اور دیہاتوں میں ان قوانین کی پروا کی جاتی ہے اور نہ ہی خواتین میں یہ حوصلہ اور استعداد ہے کہ وہ عدالتوں کے ذریعے اپنے جائز حقوق حاصل کرسکیں۔ قوانین سازی سے زیادہ عورتوں کی بہتری، معاشرے کا فعال حصہ بنانے اور معاشی سرگرمیوں میں انہیں شراکت داربنانے کے لیے سماجی رویوں اور فکر میں جوہری تبدیلی درکار ہے۔

علامہ جاوید غامدی نے پردے کے حوالے سے بہت ساری اشکال کا خوبصورتی سے ازالہ کیا ۔ دیگر علما کو بھی عصرحاضر کے مسائل اور ضروریات کے مطابق اجتہاد کرنا چاہیے اور عوام الناس کو بتانا چاہیے کہ وہ عورتوں کے حوالے سے اپنی موجودہ روش کو کیسے بہتر بناسکتے ہیں۔انہیں معاشرے، معیشت اور سیاست میں کس طرح شراکت دار بنایاجاسکتاہے۔ ترکی اور ملائیشیا کے تجربات بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ معاصر پاکستان میں خواتین کے ساتھ روارکھا گیا سلوک اسلامی ہے اور نہ مہذب۔

اسے بدلنا ہوگا۔ عورتوں کو ایک جیتاجاگتا انسان تصور کرناہوگا جو اپنا جدا گانہ تشخص رکھتی ہیں۔ اپنا الگ وجود، شناخت اور تعارف منوانا چاہتی ہیں۔سماج کی علمی، ادبی، سائنسی اور کاروباری ترقی میں حصہ بقدر جثہ ڈالنا چاہتی ہیں۔یہ ان کا حق ہے نہ کہ کوئی رعایت یا عنایت ۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 142 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *