کسی عورت کے لہجے میں غصہ ’نفرت اور تلخی کہاں سے آ جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے دو سال پیشتر جب میری ملاقات اپنی دوست صابرہ سے ہوئی تو وہ کہنے لگیں ’ڈاکٹر سہیل! آپ ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ میں جب مردوں کے بارے میں باتیں کرتی ہوں تو میرے لہجے میں غصہ‘ نفرت اور تلخی کیوں پیدا ہو جاتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ’میں نے ان سے کہا کہ کوئی بھی بچہ یا بچی غصہ نفرت اور تلخی لے کر پیدا نہیں ہوتے۔ وہ یہ سب اپنے ماحول سے جذب کرتے ہیں۔ ان کے کچھ محرکات سماجی‘ معاشی اور سیاسی ہوتے ہیں اور کچھ خاندانی ’جذباتی اور نفسیاتی۔

آپ اپنی کہانی لکھیں تو آپ کو کچھ چیزین سمجھ میں آنی شروع ہوں گی اور پھر آپ اپنی سوچ اور شخصیت میں تبدیلی لا سکیں گی۔ چنانچہ صابرہ نے نہ صرف اپنی کہانی لکھی بلکہ خود احتسابی سے ان کی سوچ اور شخصیت میں مثبت تبدیلی بھی آئی۔ ایک دن کہنے لگیں ڈاکٹر سہیل میری اردو بہت کمزور ہے آپ میری کہانی کا اردو میں ترجمہ کریں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری کہانی سے دیگر عورتوں کا کچھ فائدہ ہوگا تو اسے نام بدل کر چھپوا بھی دیں۔ چنانچہ میں نے نام بدل کر صابرہ کے خط کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ جو ’ہم سب‘ کے قارئین کے لیے حاضرِ خدمت ہے۔

’ڈاکٹر سہیل!

میرا نام صابرہ ہے۔ میں جس خاندان میں پیدا ہوئی اس کا تعلق تو پاکستان سے ہے لیکن میرا زندگی کا زیادہ حصہ کینیڈا میں گزرا۔ اس لیے میری اردو کافی کمزور ہے۔ میرے خاندان میں میرے والد ’میری والدہ اور میری ایک چھوٹی بہن ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب کئی مہاجر خاندانوں کی طرح ہمارے خاندان کے مالی حالات بھی اچھے نہ تھے اس لیے ہمیں کرایے کے کئی گھر بدلنے پڑے۔ دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے ہم دس گھر بدل چکے تھے۔ ایک دفعہ تو حالات اتنے ناگفتہ بہہ ہوئے کہ ہمیں چند سالوں کے لیے پاکستان جانا پڑا۔ جب ہم واپس آئے تو میرے والد نے نیا کاروبار شروع کیا جو کامیاب ہوا اور میرے والد نے ایک بڑا سا گھر خرید لیا۔

میری زندگی کا یہ المیہ رہا کہ میں نے بچپن سے اپنے والدین کو لڑتے جھگڑتے دیکھا۔ میری عمر پانچ سال تھی جب ہمارے گھر میں پہلی دفعہ پولیس آئی۔ بعد میں میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ ایک ڈراما تھا اور سب گھر والے اور پولیس افسر اس کے ایکٹر تھے۔ پھر میں بھی اس ڈرامے کا کردار بن گئی لیکن حالات کے بدلنے کے ساتھ میرا رول بدلتا رہا۔

جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے دیکھا کہ میرے والد میری والدہ کو کنٹرول کرتے تھے۔

وہ کیا خرچ کرتی ہیں کتنا خرچ کرتی ہیں کس چیز پر خرچ کرتی ہیں؟

وہ کس سے ملتی ہیں؟

وہ کس سے فون پر بات کرتی ہیں؟

میرے والد نے میری والدہ پر پابندیاں عاید کرنی شروع کر دیں۔ حکم دیا زیادہ لوگوں سے نہ ملو نہ دوستوں سے نہ رشتہ داروں سے۔ بس گھر میں رہا کرو۔

میرے والد نے میری والدہ کو بتایا کہ ان کا کام کھانا پکانا اور گھر کی صفائی کرنا ہے۔

ایک دفعہ ہمارے گھر میں اس بات پر فساد ہوا کہ میری والدہ ملازمت کر کے کچھ رقم پاکستان اپنے خاندان کو بھیجنا چاہتی تھیں۔ میں نے کیا دیکھا کہ میرے والد نے میری والدہ کو دھکا دیا اور چیخ کر کہا ’تم پاگل ہو تم دیوانی ہو اپنی اوقات میں رہو۔ ‘ جب والدہ نے احتجاج کیا تو والد نے انہیں زور سے تھپڑ مار کر کہا ’جب عورت کی زبان چلتی ہے تو مرد کا ہاتھ چلتا ہے‘

میں نے بارہ سال کی عمر تک اپنی والدہ کو اپنے والد سے ذلیل و خوار ہوتے ’مار اور تھپڑ کھاتے دیکھا۔ کئی دفعہ میرے والد نے میری والدہ کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا اور وہ چند راتیں ایک شیلٹر میں رہیں پھر معافی مانگ کر اور تابع فرمانی کا وعدہ کر کے واپس آ گئیں۔

میری زندگی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعہ وہ تھا جب میرے والد نے مجھے اور میری چھوٹی بہن سے کہا ’تم اپنی ماں کے منہ پر تھوکو۔ وہ بہت بے غیرت عورت ہے۔ وہ گھر سے باہر جا کر کام کرنا چاہتی ہے‘

جب میں بارہ سال کی تھی تو میری زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ جب مجھے حیض آنا شروع ہوا تو میرے والد کا رویہ بدلا۔ وہ مجھے بھی کنٹرول کرنے لگے۔ ایک دن جب میں اپنی کلاس کی باقی لڑکیوں کی طرح ٹی شرٹ اور نیکر پہنے ہوئے تھی تو وہ چیخ کر کہنے لگے ’تم بے حیا ہو۔ اگر پھر کبھی ایسے کپڑے پہنے تو میں تمہاری ننگی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ جاؤ جا کر شلوار قمیص پہنو اور کل سے عبایہ بھی پہنا کرو‘

میں جوان ہوئی تو میرے والد میرے ساتھ بھی ویسا ہی جارحانہ سلوک کرنے لگے جیسے وہ میری والدہ کے ساتھ کرتے تھے۔

جب مجھے کچھ سمجھ آئی اور مجھے ان کے غصے اور ظلم کا احساس ہوا تو میں نے ان کا ساتھ دینا چھوڑ دیا۔ مجھے اپنی والدہ سے ہمدردی ہونی شروع ہو گئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ معصوم بھی ہیں اور مجبور بھی۔

اس کے بعد ایک دفعہ جب میرے والد نے میری والدہ کو تھپڑ مارا تو میں نے انہیں دھکا دے کر زمین پر گرایا اور پولیس کو بلایا۔ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا جنہوں نے مجھے جھوٹ بولنے کو کہا۔ میں نے سچ بولا اور میرے والد کو پولیس ہتھکڑیاں لگا کر لے گئی۔

جب وہ چند دن بعد واپس آئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم نے پولیس کو کیوں بلایا تھا تو میں نے کہا اگر آپ نے میری ماں کو اب ایک دفعہ بھی مارا تو میں آپ کو جان سے مار ڈالوں گی اور ان ہاتھوں سے گلا دبا کر قتل کر دوں گی۔

اس واقعہ کے بعد میرے والد نے میری والدہ پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔

جب میں جوان ہوئی تو مجھے اپنے حقوق کا پتہ چلا۔ میری کینیڈین سہیلیوں نے میری مدد کی۔ میں نے اپنی زندگی کے بارے میں اچھے اچھے فیصلے کیے۔ میں کالج گئی یونیورسٹی گئی۔ میں نے بڑی محنت اور کوشش سے اپنے لیے ایک کامیاب زندگی بنائی لیکن پھر بھی میرے دل میں ایک کسک رہی۔

مجھے سمجھ نہ آتی کہ جب میں مردوں کے بارے میں بات کرتی ہوں تو میرے لہجے میں کیوں غصہ نفرت اور تلخی پیدا ہو جاتے ہیں۔ پھر میری ملاقات ڈاکٹر سہیل سے ہوئی۔ ان سے مل کر مجھے اندازہ ہوا کہ دنیا کے سب مرد میرے والد کی طرح نہیں ہیں۔ ڈاکٹر سہیل کی طرح کچھ مرد عورتوں کی عزت کرتے ہیں۔ ان کا احترام کرتے ہیں۔ میں نے ڈاکٹر سہیل سے کہا آپ میرے LIFE LONG MENTOR۔ بن جائیں۔

پچھلے دو سالوں میں میری سوچ اور شخصیت میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ اب میں جابر اور ظالم مردوں کو پہچان لیتی ہوں اور ان سے دور رہتی ہوں اور صرف

عورتوں کی عزت اور احترام کرنے والے مردوں سے دوستی کرتی ہوں۔

اب میرے لہجے کا غصہ نفرت اور تلخی دور ہو گئے ہیں۔ اب میں کسی محبت کرنے والے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہوں بچے پیدا کرنا چاہتی ہوں اور ایک محبت بھرا خاندان بنانا چاہتی ہوں۔

میں نے ڈاکٹر سہیل سے درخواست کی ہے کہ میری کہانی کا اردو میں ترجمہ کر کے چھپوائیں تا کہ بہت سی عورتیں اور مرد اسے پڑھ سکیں اور کچھ سیکھ سکیں۔

مجھے اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ایک بہتر اور امن پسند معاشرہ قائم کرنے کے لیے مردوں اور عورتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ دشمنوں کی طرح نہیں مخلص دوستوں کی طرح۔ مرد اور عورت ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ وہ دونوں برابر ہوں گے تو زندگی کی گاڑی صحیح چلے گے ورنہ لڑھک جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 366 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply