توہین وہ اپنی یاد تُو کر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک اہل نظر کا کلام ملاحظہ ہو کس خوبصورتی سے حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔

رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھی

گھر کی دیواریں روتی تھیں، جب دنیا میں تو آتی تھی

جب باپ کی جھوٹی غیرت کا، خوں جوش میں آنے لگتا تھا

جس طرح جنا ہے سانپ کوئی، یوں ماں تیری گھبراتی تھی

یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے

جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی

کیا تیری قدروقیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی!

تھا موت سے بد تر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی

عورت ہونا تھی سخت خطا، تھے تجھ پر سارے جبر روا

یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا، تا مرگ سزائیں پاتی تھی

گویا تو کنکر پتھر تھی، احساس نہ تھا جذبات نہ تھے

توہین وہ اپنی یاد تو کر! ، ترکہ میں بانٹی جاتی تھی

وہ رحمت عالم آتا ہے، تیرا حامی ہو جاتا ہے

تو بھی انساں کہلاتی ہے، سب حق تیرے دلواتا ہے

ان ظلموں سے چھڑواتا ہے

بھیج درود اس مُحسن پر تو دن میں سو سو بار

پاک محمدﷺ مصطفی نبیوں کا سردار

(نواب مبارکہ بیگم )

جس کمزور، پسے ہوئے مظلوم طبقے کے حقوق کے قیام، حفاظت اور پاسداری کے لئے رحمتِ عالم، سیدُ المرسلین ﷺ کھڑے ہو گئے۔ اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے میں تکلیف کیوں ہے۔ اس طبقے کو معاشرے میں محفوظ مقام دینے سے انکاری اوراس کی عزت و آبرو کو تار تار کرنے والوں کو نارمل کیسے کہا جائے۔

آپ ﷺ نے بیوی کے منہ میں محبت سے نوالہ ڈالنے کو عبادت کہا۔ بیٹیوں کو تعلیم دلانے اور ان کی عمدہ تربیت کرنے والے کو جنت کی بشارت دی۔ شادی بیاہ میں عورت کی مرضی پوچھنے کا حکم دیا۔ شادی سے قبل فریقین کو ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت دی۔ مرد کو طلاق کا حق ملا تواسے تمام حلال چیزوں میں سے ناپسندیدہ کہا۔ عورت کو خلع لینے کا غیر مشروط حق عطا ہوا۔ ازمنہ قدیم کی بیہودہ رسم سینکڑوں اور ہزاروں حرم رکھنے کا سلسلسہ منقطع کیا۔

حالات کے پیش نظر چار بیویوں تک کی مشروط اجازت ملی۔ اگرانصاف کرنے کے قابل نہیں ہو تو پھر ایک سے آگے نہ بڑھو کی کڑی شرط بھی لگی۔ حسبِ ضرورت و بحکم الہٰی خود ایک سے زیادہ شادیاں کر کے پھر ان میں انصاف قائم کر کے دکھا دیا کہ ایسا کرنا ناممکن نہیں۔ حائضہ کو پلید اور ناپاک سمجھ کر اسے اچھوت بنانے کے بجائے اس کی مدد کر کے دلداری کرنے کی سنت قائم فرمائی۔

عورتوں کو دہرا حق وراثت ملا۔ یعنی اپنی بیٹی کو بھی دو اور دوسرے کی بیٹی جو تمھارے گھر میں بطور بیوی آئی ہے اسے بھی دو۔ جنت کو ماں کے قدموں تلے بیان کرکے عورت کو معاشرے کی تشکیل، تکمیل اور تقویم کے لئے جزو لا ینفک ٹھرایا۔ قوموں کی زندگی عورت کے کردار اخلاق اور تربیت پر منحصر قرار پائی۔ زچگی میں جان کی بازی ہارنے والی کو شہید کہا۔ لیکن ا س کا مطلب ہر گز نہیں کہ صحت کی سہولیات فراہم نہ کرکے ہم از خود انہیں شہادت کے مقام پر فائز کرتے جائیں۔

بھری محفل میں آپ ﷺ سے اپنے حقوق کے لئے سوال کرنے والی عورتوں کی نمائندہ اسماء بنت یزید انصاریہ کی بات سن کر صحابہ سے کہا تم نے دین کے معاملہ میں اپنے مسئلہ کو اس عمدگی سے بیان کرنے میں اس عورت سے بہتر کسی کی بات سنی ہے؟ أسماء پر کوئی قدغن لگی نہ انہیں برا بھلا کہا گیا۔ چپ کرایا گیا نہ ڈانٹ ڈپٹ ہوئی۔ بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی اور اطاعت گزار عورتوں کو اجر عظیم کی نوید بھی سنائی۔

اگر عورتوں کا اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کا طریق درست نہیں تو یہ بھی سوچ لیجیے کہ ان کو آواز اٹھانے کی ضرورت پیش آئی کیوں۔ کیا بدتمیزی کا جواب بدتمیزی سے دینا شائستگی ہے۔ کیا بد خلق کے ساتھ بد خلقی اخلاقیات کا درس ہے۔ کیا گندے رویے کو بہودگی سے ہینڈل کرنا اخلاقی برتری ہے۔

عورت اپنے حقوق کے قیام کے لئے سید المرسلین۔ رحمت اللعالمین کے زیر بار احسان ہے۔ تمام حقوق ڈیکلیئرڈ ہیں۔ کوئی ایسی نئی بات نہیں جو آج بتائی جا رہی ہو۔ لیکن معاشرہ ان حقوق کی پاسداری کرنے میں ناکام کیوں ہے؟ وجہ دراصل بنیادی حکم سے انحراف ہے۔ وہ حکم ”ولھن مثل الذی علیہھن“ کا ہے۔ اگر عورتوں کے فرائض ہیں تو اسی قدر حقوق بھی ہیں۔ بلکہ حقوق کو پہلے رکھا اور فرائض کو بعد میں بیان کیا۔ اسی حکم قرآنی کے تحت پہلے عورتوں کے حقوق ادا کیجئے پھر ان سے فرائض کا مطالبہ بھی کیجئے۔

رحمت اللعالمین کے ماننے والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے سے تکلیف کیوں ہے۔ سوچنا چاہیے کہ عورت کو اپنے بنیادی حقوق کے لئے سٹرک پر آنے کے لئے کس بات نے مجبور کیا اور کیوں کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *