میرا جسم تیری مرضی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عائشہ آج خلاف معمول کچھ بجھی بجھی سی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھانا بمشکل حلق سے اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے ابو کھانے کے ساتھ ساتھ اپنی کوئی آفس فائل کے ورق ادھر ادھر پلٹ کر دیکھ رہے تھے۔ اس کی امی اپنی ہی کسی سوچ میں گم کھانا کھارہی تھیں۔ عائشہ کے چھوٹے بھائی نعمان کو شرارت سوجھی ”باجی لگتا ہے آج کالج میں آپ کاکو ئی ٹیسٹ اچھا نہیں ہوا۔ “

عائشہ نے نعمان کی طرف دیکھا ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، میری ذرا طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ “

عائشہ کے والد بلال نے اپنی فائل سے نظر اٹھا کر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اور بڑے لاڈ سے کہا ”طبیعت تو خراب ہونی ہی تھی، میری گڑیا رات گئے تک تو پڑھائی کرتی رہتی ہے اور صبح فجر کی اذان سے بھی پہلے اٹھی ہوتی ہے۔ “ پھر اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”لگتا ہے کچھ کھلاتی پلاتی نہیں ہو تم میر ی بیٹی کو“

عائشہ نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے ابو کی طرف دیکھا ”ابو اتنی سٹڈی تو میں اس لیے کرتی ہوں تا کہ میرا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جائے اور میں اپنے ابو کا خواب پورا کر سکوں۔ “

شاباش میری بچی! تو میرافخر ہے۔ پورے خاندان میں میرا سر تیری وجہ سے بلند ہے۔ ”بلال نے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور واش بیسن میں ہاتھ دھو کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

جب نعمان بھی اٹھ کر سٹڈی روم میں چلا گیا تو عائشہ اپنی امی کے ساتھ برتن اٹھا کر کچن میں رکھنے لگی۔ اپنی تمام تر ہمت اکٹھی کر کے اس نے اپنی امی سے کہا ”امی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔ “

شازیہ برتن سنک میں رکھ رہی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ وہیں روکا ”جی بیٹا کیا کہنا ہے؟ “ شازیہ نے پیار بھرے لہجے سے اپنی بیٹی سے پوچھا۔

”امی۔ امی۔ “ عائشہ کی آواز لڑکھڑا گئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ”

شازیہ اپنی ننھی سی جان کی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھ کر پریشان ہوگئی اور وہیں برتن چھوڑ کر عائشہ کے پاس آئی۔ ”میری جان کیا ہوا ہے، کیوں رو رہی ہو؟ “

لیکن عائشہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی بس روئے جا رہی تھی۔

یہ سوچتے ہوئے کہ بلال یا نعمان میں سے کوئی نہ آ جائے شازیہ نے عائشہ کے ہاتھ سے برتن لے کر ڈائیننگ ٹیبل پہ رکھے اور اسے ڈرائینگ روم میں لے گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کرکے گر رہے تھے۔ حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ شازیہ کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا ”عائشہ ہوا کیا ہے؟ تم اس طرح کیو ں رو ئے جار ہی ہو؟ کیا کسی ٹیچر نے کچھ کہا ہے یا کسی سہیلی نے کوئی بات کی ہے؟ “

عائشہ قدرے روہانسی ہورہی تھی ”امی پلیز کچھ بھی ہوجائے مگر آپ یہ بات ابو کو نہیں بتائیں گی۔ “

شازیہ کے دل و دماغ پہ بجلیاں سی گر گئیں۔ اسے یوں لگا جیسے اس کا دل کسی نے بند مٹھی میں لے لیا ہو۔ دل سے بے ساختہ ایک ہی دعا نکلی۔ یاخدا! میری بیٹی سے جوانی کے جوش میں کوئی گناہ نہ سر زد ہوگیاہو۔ خوف اور تکلیف کے ملے جلے جذبات سے عائشہ کو بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑا ”عائشہ کیا کر کے آئی ہو؟ “

عائشہ نے روتے روتے سر اوپر اٹھایا، اس کے حلق سے مشکل سے بس اتنا نکلا ”امی۔ امی میں نے کچھ نہیں کیا۔ “

” اگر تم نے کچھ نہیں کیا تو پھر ہوا کیا ہے؟ تم میری جان کیوں نکال رہی ہو؟ بتاتی کیوں نہیں؟ “

”امی۔ “ عائشہ نے ہمت کرتے ہوئے کہا ”وہ۔ روزانہ۔ “

شازیہ کی جان نکلے جا رہی تھی ”کیا وہ روزانہ؟ جلدی بتاؤ! “ التجا کے انداز میں دونوں جوڑ کر وہ منہ ہی منہ وہ کچھ پڑھتے لگی۔

”امی روزانہ میں اور نادیہ جس بس سے کالج جاتی ہیں اسی بس میں کچھ لڑکے سوار ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی باتیں کرنا، گندے گندے فقرے کہنا ان کا روز کا کام ہے۔ “

شازیہ یہ بات سن کر تھوڑی سی ریلکیس ہوئی، اس نے سکون کا لمبا سانس لیا ”بس اتنی سی بات تھی! عائشہ میں نے تمہیں پہلے بھی کئی بار سمجھایا ہے کہ ہم عورتوں کی زندگیوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ کتے بھونکتے رہتے ہیں کیونکہ ان کا یہی کام ہے۔ “ شازیہ نے اپنی بیٹی کو سینے سے لگاتے ہوئے سمجھایا ”بازاروں میں عورتوں کو اپنی نظروں سے نوچنا ان بے غیرتوں کا غلیظ مشغلہ ہے۔ یہ صدیوں سے ہوتاآیا ہے بیٹا!

”امی پھر اب میں کیا کروں؟ “ عائشہ نے بے بسی سے پوچھا۔

شازیہ کے ذہن میں کوئی حل نہیں آرہا تھا، اس نے عائشہ کو تسلی دینا ہی بہتر جانا ”بیٹا تم ایسے لڑکوں کو نظر انداز کردیا کرو، خودہی باز آجائیں گے۔ “

لیکن امی۔ کئی مہینے ہوگئے ہیں روز یہی ذلالت ہوتی ہے۔ آج تو ان لڑکوں نے بدتمیزی کی حد ہی کردی۔ ”

شازیہ نے عائشہ کا بازو پکڑا۔ اس کے سر پر دوپٹہ سیٹ کیا۔ پھر دونوں عائشہ کے کمرے میں آگئیں۔ ”عائشہ اپنی آواز نیچی کرلو، تمہاری آواز کوئی سن نہ لے اور مجھے بتاؤ کیا کیا ان حرامزادوں نے؟ “ شازیہ نے ڈوبتی ہوئی آواز میں سب کچھ ایک ہی سانس میں کہہ دیا۔

”امی آج بس میں ہمیں سیٹ نہیں ملی تو مجبوراً مجھے اور نادیہ کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑا۔ وہ لڑکے بھی بس میں ہمارے پاس ہی کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی بس چلی تو جھٹکے سے ایک لڑکا نادیہ میں لگا۔ مگر نادیہ نے اس کی اس حرکت کو نظر انداز کردیا۔ تھوڑی دیر گزری کہ ایک لڑکے نے میری کمر کو چھوا۔ “ اتنی بات کر کے عائشہ پھر رونے لگی۔

شازیہ نے اپنی بیٹی کو حوصلہ دیا۔ بھاگ کر کچن میں گئی اور عائشہ کے لیے پانی کا گلاس لے کر آئی۔ لیکن عائشہ کے حلق سے ایک گھونٹ نہ نیچے اترا۔

”امی۔ امی۔ پھر اس نے میری کمر پر اپنی انگلی پھیرنی شروع کردی۔ لیکن امی میں چپ کھڑی رہی۔ دوسرے لڑکے نے اس سے پوچھا بھائی صاحب کیا چل رہا ہے؟ اس حرامی کتے نے جواب دیا کہ یار گنتی لکھ رہا ہوں، تمہیں تو پتہ ہے میری میتھ کس قدر کمزور ہے۔ اور پھر وہ سب ہنس پڑے۔ “ اب کی بار عائشہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

شازیہ نے اپنی بیٹی کا سر گود میں رکھ لیا اور تسلی دینے لگی۔ ”میری بیٹی ہمارا معاشرہ جب عورت کی عزت کی بات کرتا ہے تو اسے مردانہ رشتوں کے تقدس میں لپیٹ کر کرتا ہے۔ عورت بس ماں ہے، بیٹی ہے، بہن ہے، بیوی ہے۔ سو اس کا احترام کرو۔ اگر ان میں سے عورت کا آپ سے کوئی رشتہ نہیں تو پھر آپ آزاد ہیں، اسے راہ چلتے آواز لگا سکتے ہیں، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، کر سکتے ہیں۔ تم دل چھوٹا نہ کرو، بس کچھ ماہ کی تو بات ہے پھر اللہ کے فضل و کرم سے تم نے میڈیکل کالج چلے جانا ہے۔ “

”امی۔ وہ لڑکے میرے جسم کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ موٹی ہوتی جا رہی ہو۔ کیا کھا رہی ہوآج کل؟ “

”دفع کرو تم ان خبیثوں کو۔ تم بس کل سے چادر کی بجائے میرا برقع پہن کر کالج جا یا کرو۔ “ شازیہ نے اپنی طرف سے مسئلے کا حل نکال دیا۔ ”اچھا تم آرام کرو۔ دماغ میں ادھر ادھر کی باتیں نہ لاؤ۔ اللہ پاک سب اچھا کریں گے۔

شازیہ واپس باورچی خانے میں آکر برتن دھونے لگی۔ عائشہ کو وہ جیسے تیسے حوصلہ دے آئی تھی۔ لیکن اندر سے خود پریشان تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ ایسے لڑکے بڑے منہ زور ہوتے ہیں۔ اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے، عائشہ کے ابو کو وہ بتا نہیں سکتی اور نعمان ابھی چھوٹا تھا۔ جو بھی کرنا تھا اسے خود کرنا تھا لیکن وہ خود کیا کرسکتی تھی۔ اگر وہ خود اکیلی کچھ کر سکتی تو اپنے پرنسپل کی دست اندازی کی وجہ سے اپنی نوکری چھوڑ کر گھر نہ بیٹھی ہوتی بلکہ اس خنزیر کا منہ نوچ لیتی۔

شام کے وقت کھانے کے برتن دھوتے ہوئے شازیہ کو یوں لگا کہ اس کے ارد گرد سب کچھ گھوم رہا ہے۔ اگر وہ دیوار کا سہا را نہ لیتی تو شاید گر جاتی۔

بلال ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا کتاب پڑ ہ رہا تھا۔ جب اس نے شازیہ کی یہ حالت دیکھی تو بھاگ کر آیا اور ہاتھ پکڑ کر صوفہ پر بیٹھایا۔ پانی پلایا۔ نعمان کو آوا ز دی کہ اپنی ماں کا بلڈ پریشر چیک کرو۔ نعمان نے بلڈ پریشر چیک کیا تو نارمل لیول سے کافی نیچے تھا۔ ۔ بلال شازیہ کو اپنے کندھے کا سہارا دے کرکمرے میں لے آیا اورکمبل ڈال کر لٹا دیا۔

رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شازیہ کی آنکھ ٹیلی ویژن کی آواز سے کھلی۔ بلال ٹی وی پہ کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ شازیہ کو اٹھتا دیکھ کر بلال نے پیار سے کہا ”اب کیسی طبیعت ہے؟ “

پہلے سے بہتر ہوں ”شازیہ نے جواب دیا۔

”یہ تو بہت اچھی بات ہے“ بلال دوبارہ ٹاک شو دیکھنے لگ گیا۔

کوئی صاحب بہت زیادہ غصے سے بول رہے تھے۔ ”تیر ے جسم میں ہے کیا؟ کوئی تھوکتا بھی نہیں تجھ جیسی عورت پر۔ جا کر شکل دیکھ اپنی۔ کتی۔ الو کی پٹھی۔ گھٹیا عورت۔ بکواس کرتی ہے۔ “

”صحیح کہہ رہے ہو تم، بالکل درست کہہ رہے ہو، اس کو اسی طرح منہ توڑ جواب دینا چاہیے تھا۔ “ بلال بڑبڑا یا۔

غصے سے لال پیلے ہوتے ہوئے شخص کی جب بلال نے تائید کی تو شازیہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی ”یہ شخص کس عورت کو اتنی غلیظ گالیاں دے رہا ہے؟ “

”یار پتہ نہیں ہمارے ملک کی عورتوں کو ابھی کون سی آزادی چاہیے؟ اسلام نے اسے کیسی شان دی ہے، با اختیار بنایا ہے۔ لیکن یہ کہتی پھر تی ہیں کہ میرا جسم، میری مرضی“ بلال ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔ ”کسی دن مرد نے عورت سے آزادی مانگ لی نا تو طوطے اڑ جائیں گے، ہمارے ہاں عورت ماں ہے تو بیٹا حکم عدولی نہیں کرتا، بیٹی ہے تو کوئی کہنا نہیں ٹالتا، بیوی ہے تو ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے، بہن ہے تو جان نچھاور کرنے سے نہیں چوکتا۔ گنتی کے چند نفسیاتی مریض ہیں، جن کی وجہ سے مرد کو بدنام کرکے آزادی مانگی جا رہی ہے۔ “

شازیہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس نے بلال کی ہاں میں ہاں ملانا ہی مناسب سمجھا۔ ”جی۔ یہ بات تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ “

تو اور کیا! ”بلال اپنی بات کی توثیق چاہ رہا تھا اور وہ شازیہ نے کردی تھی۔ “ ان لنڈے کی لبرلز کا کہنا ہے کہ ہم اپنا نکاح نامہ اپنی مرضی سے پر کرنا چاہتی ہیں اور کسی ان چاہے اور تکلیف دہ رشتے کی قید سے باہر نکلنا ان کا پورا حق ہے۔ ”

’ان چاہے اور تکلیف دہ رشتوں کی قید والی بات‘ سن کر شازیہ کے دل نے کہا کہ بات تو اچھی کر رہی ہیں۔ لیکن وہ زبان سے کچھ نہ بولی بس خاموشی سے بلال کو سنتی رہی۔

”دیکھو ایسے نہیں ہو سکتا کہ عورت کے دل میں جو آئے وہ کرتی پھرے، جس کے ساتھ مرضی گھومتی پھرتی رہے۔ ایسا کرنے کی ہم مرد اجازت نہیں دے سکتے۔ اس میں بدنامی تو آخر ہماری ہی ہوتی ہے۔ ہمارے نام سے تو پہچانی جاتی ہیں ہماری عورتیں۔ اب تم ہی بتاؤسارا محلہ کس حوالے سے جانتا ہے تمہیں؟ بلال کی بیگم۔ کیوں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟ “

”جی بالکل! “ شازیہ اس سے زیادہ نہ کہہ سکی۔

”تو اور کیا! ۔ دیکھو کسے یاد کہ تم نو سال کالج میں لیکچرر رہی ہو۔ کوئی تمہیں لیکچرر صاحبہ نہیں کہتا؟ نہیں نا۔ تمہارا نام میرے نام کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔ شازیہ بلال۔ “ بلال نے جس تفاخر اور گردن اکڑا کر یہ بات کہی تھی اس سے شازیہ کو لگا کہ جیسے یہ خوبی نہ ہو بلکہ کوئی تعزیری فرمان ہو۔

بلال نے شازیہ کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ”میری جان چل چھوڑ نہ ان ساری باتوں کو۔ ذرا میرے پاس تو آؤ! بڑے دن ہوگئے ہیں۔ “

شازیہ جو ذہنی اور جسمانی طور پر اس سب کے لیے تیار نہ تھی۔ اس نے انکار کرنا چاہا ”دیکھیں میری طبیعت ابھی کچھ بوجھل بوجھل سی ہے۔ ابھی بھی سر چکرا رہا ہے“

”بالکل تازہ دم لگ رہی ہو! اپنے گال دیکھیں ہیں تم نے کبھی؟ ٹماٹر کی طرح سرخ ہو رہے ہیں“ بلال نے موڈ بنانے کی کوشش کی۔

شازیہ سے کوئی بات نہیں بن پا رہی تھی ”دیکھیں بس آج کا دن۔ “

اپنے جذبات کے ہاتھوں مچلتے بلال نے نفسیاتی بلیک میلنگ کی۔ ”دیکھو اپنے خاوند کی دلجوئی کرنے سے انکار کرو گی تو گناہ ہوگا! “

خدا اور اس کے رسول کی بات تو اس نے ہمیشہ ہی مانی تھی۔ شرعی حکم سے انکار کرنے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

عائشہ کی آنکھیں بند کرنے کا مطلب وہ خوب سمجھتا تھا۔ بلال نے اپنا کام شروع کیا اور شازیہ بے حس و حرکت لیٹی حکم پورا کر رہی تھی۔ شازیہ کو دماغ کے نہا ں خانوں میں دور بہت دورلنڈے کی لبرلز عورتوں کے نعرے سنائی دیے، برقعے میں ڈری سہمی عائشہ نظر آئی، خبیث لڑکوں کے مکروہ قہقہے گونجے، خنزیر پرنسپل کا مسکراتا ہوا چہرا ابھرا اور اس کے بڑھتے ہوئے غلیظ قدم دکھائی دیے، ماں سے اس تکلیف کی آہ و بکا کرتی شازیہ سامنے آئی، دادی ماں کی نصیحت سنائی دی ’تی رانی تیرے بندے کروں تیرا جنازہ نکلے، ہن پیو دے کر نو پچھے مڑ کے نہ ویکھیں‘ باپ کا جھکا ہوا سر دیکھا۔ اپنی ذات کے سفر پہ بہت دور نکلی عائشہ کو بلال کی آواز واپس لے آئی۔

”شازیہ تمہیں پتہ ہے پہلی بار میں نے جب یہ نعرہ سنا ’میرا جسم، میری مرضی‘ تو میرے ذہن میں ایسی لڑکیاں آئی جو ہزاروں کے ہجوم میں بالکل ننگی کھڑی ہوں۔ یہ ایسے ہی لگتا ہے جیسے کوئی جسم فروشی کا لائسنس مانگ رہا ہو۔ “
ٹی وی سکرین پر ٹا ک شو چل رہا تھا۔ شازیہ فرض کی ادائیگی کرچکی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *