جام کمال کا کرونا وائرس کو تفتان سے کوئٹہ میں لاکر لڑنے کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھ نہیں آتا کہ صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے اور کیا کرنا چاہتی ہے کرونا وائرس کے ڈر سے پاک ایران باڈر پر رکھے ہوئے لوگوں کو صوبائی دارالحکومت کے اہم ترین علاقے حاجی کیمپ مغربی پاس کوئٹہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئٹہ کے محل و وقوع سے باخبر لوگ جام کمال کو بہتر بتا سکتے ہیں کہ اسی علاقے میں بلوچستان سے ملک بھر خصوصا کراچی، پشاور اور لاہور جانے والی بسوں کے اڈے واقع ہیں اور ساتھ ہی بلوچستان کے تمام اضلاع کو جانے والی مسافر بسیں، کوچز، ویگنوں اور گاڑیوں کے اڈے بھی یہاں واقع ہیں۔ تاکہ وائرس بلوچستان میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں آسانی سے پھیلایا جاسکے۔ چین نے کرونا وائرس سے متاثرہ صوبے ووھان کے ملک کے تمام علاقوں سے رابطے منقطع کردیئے اور اس صوبے کہ شہریوں کی دوسرے علاقوں میں داخلے پر پابندی عائد کردی دی تب جاکر کوئی کنٹرول پالیا

لیکن جام حکومت نے ایک ویران علاقے سے ان کو شہر کے گنجان آبادی میں لانے کا پلان بنا لیا ہے کہ ان کو شہر کے اندر نہ لایا جائے۔ اگر لانا بھی مقصود ہے تو شہر سے دور دراز علاقوں میں ان لوگوں کو رکھا جائے وہاں کورنٹائن کیا جائے گا اب چودہ دن یہ لوگ یہاں پر موجود رہیں گے جس کی نہ کوئی چاردیواری ہے نہ کوئی رکاوٹ ہوگی یہاں سے کوئی بھی شخص نکل کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگا اور پھر جام کی بلا سے وہ لسبیلہ کے لیے روانہ ہو یا کسی اور جگہ جا کر مرتے رہیں۔

یہ کس نالائق شخص کی سوچ ہے کہ شہر کے اندر مسافروں کو لا کر رکھا جا رہا ہے یہ کس طرح کی سوچ ہے یہ کس طرح کا نظام ہے یہ کس طرح کا صوبہ ہے؟ اس مرض کے بارے میں ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ اس مرض کے مریض جہاں بھی جاتے ہیں تو اس جگہ مریض کی استعمال کی تمام چیزیں کو تلف کرنا ضروری ہے اب یہاں کچھ ہی عرصے بعد حج کا سیزن شروع ہوگا اور بلوچستان کے ضعیف العمر حجاج کرام یہاں آئیں گے جو کہ پہلے سے کمزور قوت مدافعت کے مالک ہیں ان کو یہاں رکھا جائے گا اگر کوئی اس طرح کا وائرس ان میں کسی کے جسم میں آجاتا ہے یا وہ وائرس اپنے ساتھ سعودی عرب لے کے جاتے ہیں یا پھر وہ واپس یہاں لے کے آتے ہیں تو وہاں پر 30 لاکھ عازمین حج کی زندگیاں عذاب میں ڈال دیں گے اگر یہاں سے واپس یہاں لے کر آتے ہیں تو ہماری زندگی عذاب میں ڈال دیں گے۔

اب کوئی اس پڑھے لکھے وزیراعلیٰ بلوچستان سے یہ پوچھ لے کہ کوئٹہ شہر میں ٹی بی سنٹوریم اس وقت شہر سے باہر کیوں بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت بھی یہ تقاضا تھا کہ ٹی بی کے مرض کے مریضوں کا علاج شہر سے باہر دور واقعہ ہسپتال میں کیا جائے تاکہ اس سے دیگر لوگ متاثر نہ ہوں لیکن جام کی حکومت نے پتہ نہیں کس سوچ کے ساتھ اس اہم ترین جگہ کا انتخاب کیا ہے جہاں پر حاجیوں نے بیت اللہ کی زیارت کے لئے صوبے بھر سے اکٹھے ہوکر روانہ ہونا ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اس سے پہلے کہ یہ وبا یہاں آجائے ان کے لئے کوئی دوسری جگہ کا انتخاب کریے

۔ کیوں حکومت اپنے چھوٹے سوچ والے نظام پر پھر ملک بھر کی ذمہ داروں کا بوجھ رکھ کر بظاہر ہیرو بلکہ مستقبل قریب میں اپنی نا اہلی کی وجہ سے پورے ملک کو اس کرونا وائرس کا شکار کرنا چاہتی ہے اور وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کو یہاں کے ایک غیر فعال نظام کی وجہ سے دیگرصوبوں کو بھی خواب خرگوش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ہمیں کسی مسلک سے نفرت نہیں ہے لیکن کچھ حقیقتیں ہیں کہ جن کو ملک کے عوام کے سامنے ہم نے رکھنا ہے۔

صوبائی حکومت کو یہاں پر دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور وفاقی حکومت کی مدد سے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر دیکھنے کے لئے چمن بارڈر اور تفتان بارڈر پر اقدامات کرنے چاہیے وہاں پر سینٹر بنانے چاہیے کیونکہ اس میں زائرین کی تعداد جو اس وقت وہاں پر لوگ موجود ہے 2040 کے قریب ہے اس میں سے لگ بھگ دو سو لوگ بلوچستان کے مقامی بھی ہوں گے باقی تمام لوگ دیگر صوبوں کے ہیں جو کہ بطور صوبہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم تمام تر اخراجات اپنے ذمے لیں بلکہ ہمیں وفاقی حکومت سے اس سلسلے میں بات کر کے ان کی مدد سے یہاں پر سینٹرز مستقل بنیادوں پر قائم کرنے چاہیے جبکہ اب اس بیماری کے بعد آئی ایم ایف نے دنیا کے تمام ممالک جو کہ اس سے متاثرہ ہیں کو پچاس ارب ڈالر کی رقم مختص کرتے ہوئے بلا سود قرضے دینے کا اعلان کر رکھا ہے تو وفاقی حکومت وہ قرضہ بھی لے سکتی ہے اور یہاں پر وفاقی حکومت اپنی نگرانی میں بہترین سینٹر قائم کر سکتی ہے اور بلوچستان سے بذریعہ روڈ ایران کے لیے زائرین کی ایک بڑی تعداد بذریعہ روڈ اس راستے سے جاتی ہے جس کے لیے وفاقی حکومت کو اپنی سرپرستی میں اقدامات اٹھائے ہوں گے ورنہ اگر بلوچستان حکومت کے سہارے وفاقی حکومت بیٹھی رہی تو عین مکمن ہے کہ اس وائرس سے ملک محفوظ نہیں رہے گا کیونکہ پاک ایران باڈر زائرین کے لیے امدو رفت کا واحد راستہ ہے۔

تفتان بارڈر کی محل وقوع سے باخبر لوگ آپ کو بتا سکتے ہیں کہ یہاں پر دکانداروں اور سفر کرنے والوں کے علاوہ کسی کا کوئی عمل دخل زیادہ نہیں ہوتا ہے یہاں پر نزدیک کیمپ بنا کر میڈیکل کے اعتبار سے کسی بھی آنے والے شخص کی سکریننگ اور دیگر چیک اپ کے لیے درکار 14 دونوں کے لیے رکھنے کے لئے اس سے بہترین جگہ تلاش نہیں کی جاسکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *