چائنا اسپیڈ کرونا وبا کے مقابلے میں کارگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چائنا اسپیڈ چینی نظام کی ایک اہم خوبی ہے۔ نظام کی یہ خوبی چینی قوم کو مسائل کے سامنے گھبرانے کی بجائے فوری اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ چین میں نوول کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد چینی قیادت نے درست سمت میں بروقت اور تیز رفتار فیصلے کیے جن کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

چین میں وسط فروری کے بعد سے نوول کورونا وائرس کے حوالے سے حوصلہ افزا اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ صوبہ حوبے اور ووہان شہر سے باہر انفیکشن یا اس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ملک بھر میں کسی بھی قسم کی کوئی معاشرتی بدامنی نہیں ہے۔ روز مرہ زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ اس وقت مریضوں کے مقابلے میں ہسپتالوں میں بیڈ زیادہ ہیں۔ حتی کے حالیہ دنوں ایک عارضی اسپتال مریضوں کی کم تعداد کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ تمام کامیابیاں چینی نظام کی مرہون منت ہیں

ڈاکٹر بروس ایلورڈ، جن کی قیادت میں عالمی ادارہ صحت کی طبی ٹیم نے چین کا دورہ کیا تھا وہ کہتے ہیں وبا کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لئے چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مریضوں کو تلاش کرنا، انہیں صحت مند افراد سے الگ کرنا اور ان کے قریبی رابطے میں رہنے والے لوگوں کو نگرانی میں رکھنا چین کے بہترین اقدامات میں شامل ہیں۔

پانچ مارچ کو چین کی وزارت خارجہ اور قومی صحت عامہ کمیشن کے متعلقہ انچارج نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وبا کے مقابلے میں چین صف اول میں کھڑا ہے اور چین نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر صحت عامہ کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ چین کے نائب وزیر خارجہ ما جو شو نے کہا کہ چین نے دنیا میں وبا کے پھلاؤ کو روکنے کے لئے بڑی کوشش کی ہے اور عالمی صحت عامہ کے تحفظ کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ وبا کے خلاف لڑائی میں چین تنہا نہیں ہے، ایک سو ستر سے زائد ممالک کے سربراہان اور چالیس سے زائد عالمی اداروں کے سربراہوں نے چین کے لیے حمایت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے ممالک اور عالمی تنظیموں نے چین کے لیے طبی سازو سامان عطیہ کیا ہے۔ اب جبکہ وبا دنیا میں پھیل رہی ہے چین وبا سے شدید متاثرہ ممالک کے لیے امداد فراہم کرنے اور وبا کی روک تھام کے لیے عالمی تعاون کرنے پرتیار ہے۔

چین نے عالمی برادری کے ساتھ وبا کی روک تھام سے متعلق معلومات کا بر وقت تبادلہ کیا ہے۔ جس نے نہ صرف دوسرے ممالک کے لیے قیمتی وقت بچایا ہے، بلکہ وائرس کو شکست دینے کے لیے عالمی برادری کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔

دنیا نے دیکھا ہے کہ وبا پھوٹنے کے بعد چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے بیرونی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے برقرار رکھے، دورے پر آئے ہوئے بیرونی مہمانوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ چین اپنے عوام کی سلامتی اور صحت کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ عالمی صحت عامہ کے تحفظ کے لیے بھی اپنی بھر پورکوشش کر رہا ہے۔

چینی سربراہ کی قیادت میں نظام کی برتری کو بروے کار لاتے ہوئے چین نے سب سے کم عرصے میں وبا کی روک تھام کی اور اس طرح پوری دنیا کو انسداد وبا کی تیاری کے لیے قیمتی وقت فراہم کیا۔ چونکہ چین نے سب سے پہلے اس وبا کو دریافت کیا تھا، لہذا چین نے نہایت شفاف انداز میں معلومات عالمی برادری کے ساتھ شئیر کیں، جس سے چین کی نیک نیتی کا اظہار ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چین نے ڈبلیو ایچ او کی ماہر ٹیم کو دورہ چین دعوت دی تاکہ وہ جان سکیں کہ چین کس طرح اس وبا کے خلاف دفاعی حکمت عملی اختیار کررہا ہے۔ دورے کے بعد چینی اور غیر ملکی ماہرین کی مشترکہ طور پر جاری کردہ معائنہ رپورٹ کے ذریعے عالمی برادری کو اہم رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

در حقیقت، چینی قیادت اپنے ملک میں وبا کو روکنے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کی مدد بھی کررہا ہے۔

اس وبا سے لڑنے کے لئے چین کی جانب سے کی جانے والی کوششیں نہ صرف چین کے اپنے لوگوں کی صحت کی حفاظت کے لئے ہیں بلکہ عالمی امراض کی روک تھام اور قابو پانے کے لئے بھی بھرپور تعاون فراہم کرتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *