ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”دانائی کی تلاش میں“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خزینہ معرفت اور دانائی سے معّطر کتاب کا آغاز چند بنیادی فلسفیانہ سوالات سے ہوتا ہے۔

1۔ سچ کیا ہے؟

2۔ دانائی کس کو کہتے ہیں؟

3۔ ساری دنیا کے انسان اتنے دکھی کیوں ہیں؟

4۔ انسان اپنے دکھوں کو سکھوں میں کیسے بدل سکتے ہیں؟

5۔ انسان اس کرّہ ارض کو ایک پُرامن معاشرے میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟

یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا یہ کتاب احاطہ کرتی ہے۔ یہ وہ سوال ہیں جن کے بارے میں ہر دور کے بڑے بڑے اذہان چاہے ان کا تعلق فلسفے سے ہو، مذہب سے ہو، نفسیات سے ہو یا سائنس سے ہو، یہ سب نابغہ روزگار شخصیات اپنی اپنی بصیرتوں کی صورت میں ان کا حل پیش کرتے رہے ہیں۔ دانائی کے ا س ارتقائی سفر کو مزید آگے بڑھانے میں ڈاکٹر خالد سہیل نے بھی اپنی اس کتاب کی صورت میں انسانی ذہنی ورثہ میں حصہ ڈالا ہے۔ انہی سوالوں کی بنیاد پر ڈاکٹرخالد سہیل اور ڈاکٹر بلند اقبال دونوں نے مل کر کینڈا وَن ٹی وی پر ”اِن سَرچ آف وِزڈَم“ کے نام سے پینتیس ( 35 ) پروگرام کی ایک سیریز بھی کی تھی جو کہ اب یو ٹیوب پر موجود ہے۔

ان سوالوں کو ڈھونڈنے کے متلاشی یو ٹیوب پر سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ ان پروگرامز کو سننے اور دیکھنے کے بعد اس کتاب کو پڑھنے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ یہ کتاب تقریباً ایک سو چھے ( 106 ) صفحات اور بیالیس ( 42 ) ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ہمیں علم و ادب اور آگہی کے ان بنیادی ستونوں سے متعارف کرواتی ہے جنہوں نے اس کائنات کے رنگوں کو اپنی بصیرت اور دانائی کے ساتھ مزید سے مزید منوّر کیا اور انسانی کاوشوں میں روشن امکانات کے لیے راہ ہموار کر کے انسانی دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کے لیے دن رات کوشش کی۔

یہ کتاب ہمیں دانائی کے ایک روحانی سفر پر لے جاتی ہے۔ اس روحانی سفر میں ایک قاری تقریباًاڑتیس ( 38 ) علم و دانائی سے منور بزرگوں کی صحبت سے فیض یاب ہو کر دانائی کا گیان حاصل کرتا ہے ان بزرگوں میں کنفیوشس، لاؤزو، بدھا، مہاویرا، زرتشت، سقراط، افلاطون، ارسطو، بقراط اور اس کے علاوہ الکندی سے لے کر ابنِ خلدون تک اور پھر اس کے بعد رینے ڈیکارٹ سے لے کر چارلز ڈارون تک اور اس کے بعد سٹیو ن ہاکنگ سے لے کر نیلسن منڈیلا تک، یہ سبھی لوگ شامل ہیں۔

یہ نایاب کتاب دانائی کے ان نابغہ روزگار شخصیات کی بصیرتوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ کتاب ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ انسان جب سے خود آگہی کے مرتبہ پر فائز ہوا ہے تو اس نے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی وسیع کائنات کو سمجھنے کی حتٰی الامکان کوشش کی ہے۔ یہ سفر تھا تو بہت ہی کٹھن اور دشوار گزار مگر اس سفر کے ہر موڑ پر اسے شعور ذات اور شعور کائنات کے پر اسرار بھیدوں سے آشنائی بھی ہوئی ہے۔ ان ہی رازوں اور بھیدوں نے کبھی دیومالائی کہانیوں کا روپ دھارا، کبھی سائنس اور فلسفے کی شکل اختیار کی تو کبھی فنون لطیفہ کو جنم دیا مگر اسی تسلسل نے ہی انسانی امکانات اور سوچ کو جلا بخشی ہے۔ اس کتاب کے آخری باب میں ڈاکٹر سہیل ہمیں تین کائناتی سچائیوں کے رو بر کرتے ہیں۔ وہ سچ کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

1۔ مذہبی سچ 2۔ روحانی سچ 3۔ سائنسی سچ

مذہبی سچ ہمیں اپنے گھر سے ملتا ہے یہ سچ موروثی سچ کہلاتا ہے۔ دنیا کی ایک کثیر تعداد مذہبی سچ کو مانتی ہے اس سچ کے دائرہ کار میں خدا پر ایمان، پیغمبروں، آسمانی کتابوں پر ایمان اور جنت دوزخ پر ایمان شامل ہیں۔ دوسرا سچ روحانی کہلاتا ہے یہ سچ مذہب کے مقابلہ میں ذاتی سوچ اور تجربات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اس سچ کے پیروکار شریعت سے دور اور طریقت کے قریب آجاتے ہیں۔ ایسے لوگ آہستہ آہستہ سنت، سادھو اور صوفی بن جاتے ہیں۔

تیسرا سچ سائنسی سچ کہلاتا ہے۔ ایسے لوگ کسی ایسے سچ کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کی بنیاد روایت یا ذاتی تجربہ پر ہو وہ روایتی مذہبی سچ اور ذاتی روحانی سچ کی بجائے سائنسی سچ کو مانتے ہیں۔ اس باب میں ڈاکٹر سہیل یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ روحانی سچ کے ساتھ ساتھ سائنسی سچ ماننے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 1900 ء میں ساری دنیا میں صرف ایک فیصد لوگ ایسے تھے جو کسی مذہبی یا روحانی سچ کو نہیں مانتے تھے۔

اس گروہ کی تعداد 2000 ء میں ایک فیصد سے بڑھ کر پندرہ فیصد ہو گئی ہے۔ کینڈا میں ایسے لوگوں کی تعداد میں بیس فیصد اور سیکنڈنیوین ممالک میں ان کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اگر ہم اکیسویں صدی کے سات بلین انسانوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ان سات بلین انسانوں میں سے چار بلین مذہبی سچ کو، دو بلین روحانی سچ کو اور ایک بلین سائنسی سچ کو مانتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ آگہی کا سفر یونہی رواں دواں رہتا ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اسے کراچی سٹی بک پوائنٹ والوں نے شائع کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *