کرونا کا رونا تو پوری دنیا میں جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا لیکن بعض رونے ہم لوگوں نے خود تیار کر رکھے ہیں کہ جن پر ہم خود بھی روتے ہیں اور دوسروں کو بھی رلانا بخوبی جانتے ہیں۔ وائرس پوری دنیا میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہم روز بروز کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ رہے ہیں۔ ابھی تک اس کی ویکسین کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا تو اس کا واضح مطلب ہے ہمیں پتہ نہیں کتنا عرصہ اس مہلک وبا کے ساتھ گزارنا پڑے گا۔
اس وبا نے لوگوں کو کئی طرح کے سبق دے چھوڑے ہیں۔ کچھ سیکھ گئے اور کچھ بیچارے ابھی تک نادان رہ گئے۔ ہم نے دیکھا پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے اس وبا کی وجہ سے بڑی سادگی سے اپنے فرائض پورے کر دیے جن میں سے شادی کا ذکر ہو رہا ہے۔ کئی ماں باپ ایسے تھے جنہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کم لوگوں میں اور کم خرچے میں بیٹیاں رخصت کر کے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور کئی لوگوں نے اپنے ملنے جلنے والے لوگوں کے ڈراموں کی وجہ سے کم لوگوں میں شادی کرنے کی عقلمندی کی۔ اس بات کا الزام اگر کروناوائرس کو دیا جائے تو وہ بھی ملنے والوں کے ڈرامے دیکھنے کے بعد خوشی سے اقرار جرم کر لے۔
Read more