میں عورت مارچ کے خلاف ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس مارچ کا ہمارے سماج سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہمارے ہاں عورتیں سڑکوں پر نعرے بازی نہیں کرتیں، آرام سے گھر بیٹھ کر گھر کے کام کاج کرتی ہیں۔ یہ تو مغرب کی عورت کے مسائل ہیں۔ ہمارا معاشرہ نہایت صالح اور پاکیزہ معاشرہ ہے۔ ہم نے عورت کو جتنے حقوق دے رکھے ہیں اتنے کسی سماج نے نہیں دیے۔ مشرق کی عورت کا تو یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا اس سے کیا لینا دینا۔

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس میں عورت کی آزادی مانگی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ مثلاً وہ اپنی مرضی کا جیون ساتھی چننے کے لیے آزاد ہے۔ ہمارے ہاں ہر لڑکی سے، شادی سے پہلے اس کی مرضی پوچھی جاتی ہے۔ بھلے ہی اس وقت پانچ سو باراتی ’ہاں‘ کے بعد روٹی کھلنے کے منتظر ہوں۔ لاکھوں روپے کا خرچہ ہو چکا ہو لیکن جب تک لڑکی تین بار ’قبول ہے‘ کی صورت میں اپنی مرضی کا اظہار نہ کرے شادی نہیں ہوتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنی مرضی سے ہی شادی کرتی ہے۔

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس میں تیزاب گردی کے حوالے سے عجیب و غریب حقائق بیان کیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ عورتیں اگر باپردہ رہیں تو ہرگز تیزاب گردی کا شکار نہیں ہو سکتیں۔ اگر تمام عورتیں برقعہ پہن کر باہر نکلیں تو تیزاب کی بوتل ہاتھ میں رکھنے والا مرد ڈھونڈتا ہی رہ جائے گا لیکن مطلوبہ لڑکی کو تلاش نہیں کر سکے گا۔ اس طرح لڑکی تیزاب گردی سے صاف بچ نکلے گی۔

جو عورتیں یہ کہتی ہیں کہ انہیں گھر سے باہر نکلنے پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا انہیں چھیڑا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنی عقلِ سلیم پر تھوڑا سا بوجھ ڈال کر سوچیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس میں بھی قصور سراسر ان عورتوں کا ہی ہے۔ سیدھی سی بات ہے مرد انہیں مجبور تو نہیں کرتے کہ وہ گھر سے نکلیں۔ وہ اپنی مرضی سے باہر نکلتی ہیں۔ ایک تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بنایا ہی ایسا ہے کہ مرد خواہ مخواہ ان کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ کم بخت جب میک اپ سے اپنے آپ کو حسین بنا کر بغیر برقعے کے باہر نکل آئیں گی تو پھر یہ تو ہو گا۔

پھر کسی بس میں سوار ہوتے وقت کسی کے ہاتھ ان کے جسم کو چھو کر گزریں گے۔ سڑک پر کوئی کندھا بھی ٹکرائے گا۔ کوئی آوازہ کسے گا تو کوئی محض گھورنے پر اکتفا کرے گا۔ مگر غلطی تو عورت کی ہے ناں۔ کیا ضرورت ہے باہر نکلنے کی۔ آرام سے گھر میں بیٹھیں تو ان سب باتوں سے بچ جائیں گی۔

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس میں عورتیں نعرہ لگاتی ہیں کہ ’مجھے کیا پتا تمہارا موزہ کہاں ہے؟ ‘ کتنا فضول نعرہ ہے۔ ایک عورت کو گھر میں رہتے ہوئے اگر یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے شوہر کا موزہ کہاں ہے تو اس کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ اس کو اپنے شوہر سے کوئی دلچسپی نہیں ورنہ وہ دھیان میں رکھتی کہ شوہر نے موزہ اتار کر کہاں پھینکا تھا۔ اس میں یہ شبہ بھی ہے کہ عورت کا شادی سے پہلے کوئی بوائے فرینڈ تھا جس کے خیالوں میں وہ کھوئی رہتی ہے اور شوہر کے بارے میں سوچتی ہی نہیں ہے۔

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس میں عورتیں کہتی ہیں کہ ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ اب آپ خود بتائیے بندہ شادی کیوں کرتا ہے؟ اسی لیے ناں کہ ایک عورت آپ کے کپڑے دھو دے، گھر میں جھاڑو لگا دے، صفائی ستھرائی کر دے، کھانا بنا دے اور اگر ٹھنڈا ہو جائے تو گرم بھی کر دے۔ اگر اس نے یہ سب نہیں کرنا تو مرد نے کیا اس کا اچار ڈالنا ہے؟

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس میں عورتیں فلک شگاف نعرے لگاتی ہیں کہ ”میرا جسم میری مرضی“ یہ کس قدر لغو اور بے ہودہ نعرہ ہے۔ توبہ توبہ ان عورتوں میں کوئی شرم و حیا نہیں ہے۔ سارا مسئلہ ہی عورت کا جسم ہے اور یہ کیسے دھڑلے سے یوں سر عام اس کی تشہیر کرتی ہیں۔ ان کے توجہ دلانے کی وجہ سے ہی مرد ان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ پھر یہ شکایت کرتی ہیں۔ یہ جو ریپ کے واقعات ہوتے ہیں اس کی وجہ بھی یہ عورتیں خود ہیں۔

یہ عورتیں کسی نہ کسی حوالے سے مرد کے سامنے آ جاتی ہیں۔ اب عورتیں ہوتی ہیں بکری اور مرد تو شیر ہوتا ہے شیر۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ اگر آپ کے سامنے شیر آ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ ظاہر ہے کچھ نہیں، پھر تو جو کرنا ہے شیر نے ہی کرنا ہے۔ اتنی آسان سی بات بھی یہ سمجھ نہیں پاتیں اور نکل کھڑی ہوتی ہیں نعرے لگانے۔

غیرت کے نام پر قتل کو بھی بہت برا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ ’غیرت بڑی چیز ہے جہانِ تگ و دو میں‘ ۔ ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے۔ اگر آپ کے پاس ایک مرغی ہو اور پڑوس کے مرغے سے اٹکھیلیاں کر رہی ہو تو آپ کو کتنا برا لگے گا۔ یا آپ کے پاس ایک گائے ہو اور جیسے ہی آپ اسے کھونٹے سے باندھنے لگیں وہ رسہ تڑا کر بھاگنے لگے تو آپ اس کے پیچھے بھاگ کر اسے پکڑیں گے اور اس کی طبیعت صاف ضرور کریں گے۔ مگر عورت کوئی گائے بکری تو ہوتی نہیں۔ عورت تو بہت قیمتی ’چیز‘ ہے۔ اسی لیے تو مرد اسے چھپا کر اور بچا کر رکھنا چاہتا ہے۔

اب اگر کوئی لڑکی بھول جائے کہ وہ کیا ’چیز‘ ہے۔ اور اپنی مرضی کرتے ہوئے اپنی پسند کے مرد سے شادی کرنا چاہے تو اس سے زیادہ شرم کی کیا بات ہو گی۔ پکانی تو روٹیاں ہی ہوتی ہیں پسندیدہ یا ناپسندیدہ کا کیا سوال ہے۔ آخر اس کے باپ، بھائی نے بھی کچھ سوچ رکھا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کسی ستر سال کے نیک بزرگ سے اس کی شادی طے کی ہو۔ یا پھر کسی خاندانی جھگڑے کو نمٹانے کے لیے اس کی شادی کسی آوارہ، نشئی سے طے کی ہو۔ اگر وہ لڑکی ان کی مرضی سے شادی کر لے تو آوارہ نشئی کو راہ راست پر لا کر مفت میں نیکیاں کما سکتی ہے۔

ہاں یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کے بڑے اس سے اتنی محبت کرتے ہوں کہ اسے خود سے جدا کرنے کا تصور بھی نہ کر سکتے ہوں۔ لہٰذا قران سے اس کی شادی کر کے اپنے پاس ہی رکھ لیں۔ اتنے محبت کرنے والوں کو چھوڑ کر اگر لڑکی کسی کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے کی کوشش کرے تو ایسی ناہنجار کو زندہ کیسے چھوڑیں؟ سنا ہے کتا بھی اپنے مالک کا بڑا وفادار ہوتا ہے۔ عورت تو پھر عورت ہے۔ اسے تو بہت زیادہ وفا دار ہونا چاہیے۔

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں اس میں آزاد خیال عورتیں ہمارے سماج کی بھولی بھالی عورتوں کو بہکانے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہیں یہ پٹی پڑھاتی ہیں کہ تم مرد کے برابر ہو۔ تم جو چاہو کر سکتی ہو۔ حالاں کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عورتیں وہ سب کچھ نہیں کر سکتیں جو مرد کر سکتے ہیں (مذید وضاحت کے لیے مولانا قلیل خمری صاحب سے رابطہ کیجیے ) ۔

اب تو آپ یقیناً قائل ہو چکے ہوں گے کہ عورت مارچ کی مخالفت کتنی ضروری ہے۔ اتنی وضاحت کافی ہے یا میں کچھ اور دلائل پیش کروں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *