لاہور پولیس کے مفرور ایس ایس پی مفخر عدیل کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور پولیس کے مفرور ایس ایس پی مفخر عدیل کو گرفتار کر لیا گیا۔ مفرور پولیس افسر نے اتوار کی شب خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ مفخر عدیل ایک قتل کیس میں نامزد اور گزشتہ ایک ماہ سے مفرور تھے۔ تفصیلات کے مطابق ایک ماہ سے مفرور ایس ایس پی لاہور پولیس مفخر عدیل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مفرور پولیس افسر نے خود ہی پولیس کو گرفتاری دی ہے۔

واضح رہے کہ ایس ایس پی مفخر عدیل پر اپنے قریبی دوست شہباز احمد تتلہ کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ تاہم شہباز تتلہ کی لاش تاحال تلاش نہیں کی جا سکی۔ کچھ روز قبل خبر آئی تھی کہ مفخر عدیل کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش میں کراچی سے گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

اب بتایا گیا ہے کہ مفخر عدیل نے خود ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی گرفتاری کس شہر سے ہوئی۔ گرفتار ایس ایس پی مفخر عدیل اور اس کے دوست شہباز تتلہ کے ایک ماہ قبل اغوا ہونے کی خبر سامنے آئے تھی جس کے بعد پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر ان کی تلاش کا آپریشن شروع کیا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ مفخر عدیل اغوا نہیں بلکہ مفرور ہیں اور ان کے دوست شہباز تتلہ قتل ہو چکے ہیں۔

ایس ایس پی مفخر عدیل کے قریبی دوست اسد بھٹی اور دیگر افراد نے پولیس کی حراست میں تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ لاپتہ ایس ایس پی نے ہی اپنے دوست شہباز تتلہ کو قتل کیا اور بعد ازاں تمام شواہد بھی مٹا دیے۔ مفخر عدیل اپنی اہلیہ کے ملازم عرفان سے قسطوں میں تیزاب منگواتا رہا اور اس نے دھول اڑانے کے لئے مٹی بھی منگوائی۔ مزید انکشاف ہوا کہ مفخر عدیل نے سی ایس ایس اکیڈمی بھی کھول رکھی تھی جس کی آڑ میں شراب اور ناچ گانے کی محفلوں کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ مفخر عدیل نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کرنے میں بھی ملوث تھا۔ ، جبکہ اس نے تین شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔ پنجاب پولیس پچھلے ایک ماہ سے مفرور پولیس افسر کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جس میں اب کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *