الوادع کامیڈی کنگ امان اللہ خان
امان اللہ خان مرحوم نے 1950 میں لاہور کے ایک غریب ترین گھرانے میں آنکھ کھولی، والدہ ماجدہ کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا غربت کے سبب امان اللہ خان تعلیم سے محروم رہے چودہ سال کی عمر میں والد کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا والد کی وفات کے بعد امان اللّٰہ خان نے ”داتا کی نگری“ یعنی داتا دربار لاہور کا رخ کیا اور سحر تا شام ٹوپیاں، تسبیحاں، ٹافیاں، مکھن روٹی کی ٹوکری اُٹھائے محنت مزدوری کا آغاز کیا اور بقول امان اللّٰہ صاحب مرحوم کے کہ پھر جا کر گھر کا چولہا جلنے لگا ایک بار امان اللہ خان مرحوم نے ایک انٹرویو میں اپنی غربت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زندگی نے ایک دن ایسا بھی دکھایا کہ گھر میں پکانے کو کچھ نہ تھا میری ماں نے مجھے کہا جاؤ باہر گلی سے کچرے میں پڑے مٹر کے چھلکے لے آؤ اور پھر میری ماں نے ہمیں وہ مٹر کے چھلکے پکا کر کھلائے،
جفاکش امان اللّٰہ خان بچپن ہی سے ہنس مکھ تھے وہ اندر سے انتہائی ٹوٹے ہوئے، بے حد دکھی اور غمزدہ انسان تھے مگر چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ سجائے سب کو ہسنتے ہنساتے رہنا ان کا شیوہ تھا، بچپن ہی سے دوستوں کی نقلیں اتارنا، انھیں جگتیں مارنا مرحوم کی عادت تھی مگر یہی عادت رفتہ رفتہ لاہور کے داتا دربار کے باہر سر پر ٹوکری اٹھائے پھیری کرکے پیٹ پوجا کرنے والے امان اللّٰہ خان کو شہرت کی بلندیوں پر اس وقت لے گئی جب ان کے پڑوسی طفیل نیازی مرحوم داتا صاحب میں ایک پروگرام کررہے تھے۔ اس دوران انھوں نے کھانے کے وقفے کے دوران کہا امان اللّٰہ ٹوکری نیچے رکھو اسٹیج پر جاکر پرفارم کرو۔ امان اللّٰہ خان نے اسٹیج پر ایسا قدم رکھا کہ میلہ ہی لوٹ لیا۔ بس یہاں سے زندگی کے دن بدلنے لگے۔ طفیل نیازی مرحوم نے اس غریب مسکین فنکار پر دست شفقت رکھا اور ریڈیو پاکستان لے گئے۔ بس پھر ٹی وی اسکرین ہو یا تھیٹر ہر طرف امان اللّٰہ خان کی شہرت کے چرچے تھے۔
ایک ایسا وقت بھی آیا کہ کامیڈی کی دنیا میں امان اللّٰہ خان کا طوطی بولنے لگا، ایک بار سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق صاحب کے اعزاز میں ایک پروگرام رکھا گیا جس ملک کے بڑے بڑے گلوکار، فنکار بلائے گئے کامیڈی کے لئے امان اللّٰہ خان کا انتخاب کیا گیا جنرل ضیاء بہت رعب دار شخصیت کے مالک تھے انھیں ہنسانا بڑا مشکل کام تھا مگر امان اللّٰہ خان مرحوم نے ایسی شاندار پرفارمینس دکھائی، ایسی باکمال تگڑی جگتیں کیں کہ جنرل ضیاء الحق سمیت سارے کا سارا مجمع ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگا اسٹیج سے اترتے ہی جنرل ضیاء الحق امان اللّٰہ خان مرحوم کو داد دینے کے لئے کھڑے ہوگئے اور امان اللّٰہ خان مرحوم ان کے قدموں میں آکر بیٹھ گئے۔ جنرل ضیاء الحق نے اٹھایا اور سینے سے لگا کر خوب شاباش دی۔ بس یہاں سے پھر امان اللّٰہ خان کے نام کے ساتھ ”کامیڈی کنگ“ کا لقب لگ گیا، اس کے بعد جنرل ضیاء الحق اکثر پریشانی کے عالم میں بوریت محسوس کرتے تو امان اللّٰہ خان مرحوم کو بلوا لیتے۔ اسی طرح وزیراعظم محمد خان جونیجو، یوسف رضا گیلانی، میاں شہباز شریف اور خاص کر سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے بھی خاصے قریب اور سپر سٹار سمجھے جاتے تھے ان کا نواز شریف سے پیار و محبت کا تو یہ عالم تھا ایک مرتبہ نجی چینل پر میاں نواز شریف صاحب پر ساتھی فنکاروں نے جگتیں کر دیں۔ جب پروگرام کے دوران وقفہ ہوا تو مرحوم امان اللّٰہ خان صاحب کہنے لگے ”اؤ یار تساں نوِ رب دا واسطہ ہے مینوں جو مرضی کہہ دیا کرو پر نواز شریف دے بارے کج نا کہا کرو میرے کولوں برداشت نئی ہوندا“ امان اللّٰہ خان مرحوم نے نا صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک خصوصاً بھارت میں بھی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے،
مرحوم نے تین شادیاں کیں اور تینوں ماشاءاللہ کامیاب رہیں۔ تین بیویوں سے ان کے چودہ بچے ہیں۔ جس میں سات بیٹے، سات بیٹیاں اور سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں گو کہ امان اللّٰہ خان مرحوم غربت کے سبب خود تو تعلیم سے محروم رہے مگر اپنے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر اپنا قرض چکا دیا۔ 2018 میں حکومت پاکستان نے انھیں اعلیٰ سویلین اعزاز ”تمغہ کارکردگی حسن“ سے بھی نوازا گزشتہ دو سال سے امان اللّٰہ خان کی طبیعت ناساز رہنے لگی انھیں پھیپڑوں، گردوں کا عارضہ لاحق ہوگیا دو سال تک علیل رہنے کے بعد مرحوم امان اللّٰہ خان ہنستے ہنساتے اچانک سب مداحوں کو غمزدہ کر گئے اور 6 مارچ 2020 کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللّٰہ تعالٰی سے دعا ہے کہ کامیڈین کنگ مرحوم امان اللّٰہ خان صاحب کی کامل مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین



