پاکستان کی تاریخ کا اجمالی جائزہ


جنرل ایوب خان کی حکومت کو شروع میں عوامی پذیرائی اس لیے ملی کہ لوگ بار بار وزرائے اعظم کی تبدیلی سے نالاں تھے اور ایک مستحکم اور پائیدار حکومت چاہتے تھے۔ جنرل ایوب خان نے یہ تاثر دیا کہ وہی اب ملک کے بہی خواہ اور نجات دہندہ ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رکھی اور تمام بڑے سیاست دانوں کو رضاکارانہ طور پر سیاست سے دستبردار ہونے کا کہا۔ بصورت دیگر ان کے خلاف مقدمات چلا کر انہیں سزائیں دی جانی تھیں۔

ایوب خان کی حکومت کے ابتدائی سال انتہائی سختی کے تھے۔ فوج ہر شعبے پر حاوی ہوتی گئی اور سیاست دان راندہ درگاہ ہوگئے۔ ایسے میں کوئی نہ تھا جو جنرل ایوب خان کو للکارتا۔ ایوب خان نے نئے آئین کی تشکیل کے لیے ایک کمیشن بنایا مگر پھر خود اس کمیشن کی سفارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک خالصتاً صدارتی نظام نافذ کردیا جس میں تقریباً تمام اختیارات خود جنرل ایوب خان کے اپنے ہاتھ میں تھے۔

اس کے علاوہ جنرل ایوب خان نے عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے بنیادی جمہوریت کا ایک نظام متعارف کرایا جس کے ذریعے بی ڈی ممبر یا بیسک ڈیموکریسی کے ارکان کو عوام منتخب کرتے مگر اعلیٰ سطح پر اختیارات تمام تر خود جنرل ایوب خان کے ہاتھ میں تھے۔ پانچ سال برسر اقتدار رہنے کے بعد جنرل ایوب خان نے کچھ نرمی کی اور حزب مخالف کو سرگرمیوں کی اجازت دی جس میں متحدہ حزب مخالف نے محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا صدارتی امیدوار منتخب کیا مگر 1964 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو ہراکر مزید پانچ سال کے لیے خود کو صدر منتخب قرار دے دیا۔

اس دھاندلی کے نتائج خاصے سنگین نکلے خاص طور پر مشرقی پاکستان کے عوام توقع کررہے تھے کہ اب ملک میں جمہوریت آجائے گی مایوس ہوگئے اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑنے لگی اس دوران ایوب خان نے کشمیر میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے 1965 کی جنگ لڑی جو بغیر کسی مثبت نتیجے کے ختم ہوگئی مگر پاکستان اپنا دفاع کرنے میں کامیاب رہا۔

اس جنگ سے عارضی طور پر جنرل ایوب خان کی مقبولیت بحال ہوئی مگر جنوری 1966 میں ہونے والے تاشقند معاہدے میں اوراس کے بعد ایوب خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار علی بھٹو نے سنگین الزامات لگائے اور کہا کہ ایوب خان نے کشمیر کا سودا کرلیا ہے۔ اس کے بعد بھٹو ایوب خان سے الگ ہوگئے اور 1969 میں اپنی پیپلز پارٹی قائم کرلی جسے جلد عوامی مقبولیت حاصل ہوگئی۔

1967 میں محترمہ فاطمہ کے انتقال کے بعد ایوب خان کے خلاف تحریک زور پکڑنے لگی اب تین بڑی سیاسی طاقتیں تھیں جنہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ مشرقی پاکستان میں بہت مقبول تھی اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی جو ولی خان گروپ اور مولانا بھاشانی گروپ میں تقسیم ہوچکی تھی۔ ان تینوں سیاسی قوتوں نے جنرل ایوب خان کے خلاف بھرپور عوامی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں جنرل ایوب خان استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے اور انہوں نے خود اپنے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو اقتدار منتقل کرنے کے بجائے آرمی چیف یحییٰ خان کو اقتدار منتقل کردیا یا پھر ایسا کرنے پر مجبور کردیے گئے۔ اب جنرل یحییٰ خان ملک میں ایک اور مارشل لاءلگاکر صدر بن بیٹھے اور ملک توڑکر دم لیا۔

جب مارچ 1969 میں جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو لوگوں نے ایوب خان سے نجات ملنے پر سکون کا سانس لیا۔ پھر جنرل یحییٰ خان نے کچھ ایسے اعلانات کیے جس سے عوام یہ سمجھنے لگے کہ یہ جنرل قوم کے ساتھ مخلص ہے اور اپنے اعلان کے مطابق انتخابات کراکر اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کردیا جائے گا۔

جنرل یحییٰ خان نے سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی اور عوام کے دیرینہ مطالبے یعنی ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ جس سے لوگ بہت خوش ہوئے۔ بالآخر دسمبر 1970 ءمیں عام انتخابات کرادیے گئے۔ جس میں مذہبی جماعتیں بری طرح ناکام ہوگئیں اور نسبتاً سیکولر اور لبرل جمہوری جماعتیں یعنی مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اور عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔

مغربی پاکستان میں خاص طور پر صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مفتی محمود کی جمعیت علمائے اسلام بھی کچھ نشستیں لینے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ نتائج عوام کی خواہشات کے آئینہ دار تو تھے مگر جنرل یحییٰ خان کے لیے بالکل غیر متوقع تھے۔ جنرل صاحب یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی جس سے سیاستدان آپس میں جھگڑنے لگیں گے اور موصوف خود صدر کی کرسی پر بیٹھے رہیں گے۔

اب جب کہ شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی تو جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو مل کر مجیب الرحمان کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ جنرل یحییٰ خان صدر رہنا چاہتے تھے اور بھٹو خود اقتدار میں حصہ دار بننا چاہتے تھے اور حزب مخالف کے رہ نما کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

دسمبر 1970 کے انتخابات کے واضح نتائج کے بعد صدر جنرل یحییٰ خان کو فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے تھا مگر وہ اس کوشش میں تھے کہ انہیں صدر مملکت کے عہدے پر برقرار رکھنے کی یقین دہائی کرائی جائے جس کے لیے شیخ مجیب الرحمان تیار نہیں تھے۔ لیکن کم و بیش ایسی ہی صورتحال تھی جس میں بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے ضمانت لی گئی تھی کہ وہ غلام اسحاق خان کو صدر کے عہدے پر منتخب کرائیں گی۔

شیخ مجیب الرحمان بھاری اکثریت سے کام ہوچکے تھے اور ملک کا وزیر اعظم بننے کے لیے تیار تھے مگر جنرل یحییٰ خان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو اتنی آسانی سے مجیب الرحمان کو اقتدار دینے پر تیار نہیں تھے۔ بھٹو مغربی پاکسان کے وزیر اعظم بنناچاہتے تھے اور اس پر مجیب الرحمان سے اقتدار میں شراکت کے خواہاں تھے۔ جب مجیب نے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کردیا اور مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے تو تین ماہ کے لیت و لعل کے بعد جنرل یحییٰ خان نے انتخابات کے نتائج کو منسوخ کردیا اور عوامی لیگ کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی۔

اس طرح مارچ 1971 میں مشرقی پاکستان کی خانہ جنگل کا آغاز ہوا جو بالآخر دسمبر 1971 میں لاکھوں شہریوں کے قتل کے بعد بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوا۔ اس طرح متحدہ پاکستان کا خاتمہ ہوگیا اور مشرقی پاکستان بھارت کی فوجی مداخلت کے بعد بھارتی فوج کے قبضے میں آگیا جس نے مجیب کی عوامی لیگ کو اقتدار سونپ دیا۔ پاکستان کے تقریباً ایک لاکھ فوجی اور غیر فوجی لوگ بھارت کی قید میں چلے گئے اور پاکستان کو جمہوریت سے انحراف کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس طرح پاکستان اپنے قیام کے پچیس سال بعد دولخت ہوگیا۔

1971 کے بعد کا نیا پاکستان

بھٹو صاحب نے جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کا بچا کھچا حصہ جو اب مغربی پاکستان سے صرف پاکستان رہ گیا تھا ایک عجیب طرح کی مایوسی کا شکار تھا۔ اس کے تقریباً ایک لاکھ سول اور فوجی لوگ بھارت کی قید میں تھے۔ پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالنے کے بعد یہی مناسب سمجھا تھا کہ جنرل یحییٰ خان کو معزول کرکے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دیا جائے اور بھٹو اس کے لیے تیار تھے۔ غالباً وہ یہ چاہتے تھے کہ مشرقی پاکستان بے شک الگ ہوجائے مغربی پاکستان میں چونکہ ان کی جماعت اکثریت حاصل کرچکی ہے اس لیے وہ یہاں ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اس دوران انتہائی منفی کردار ادا کیا تھا اور مجیب الرحمان کی جیت کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کوشش میں لگے رہے کہ کسی طرح وہ اقتدار میں حصے دار بن جائیں اور انہیں حزب مخالف کا کردار ادا نہ کرنا پڑے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان ٹوٹنے کے اصل ذمہ دار جنرل یحییٰ خان، جنرل ٹکا خان اور جنرل امیر عبداللہ خان نیازی تھے۔ جنہوں نے اقتدار کے نشے میں مشرقی پاکستان کی اکثریتی حمایت رکھنے والی جماعت کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5