پاکستان کی تاریخ کا اجمالی جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس مارچ کے مہینے میں قرارداد لاہور جسے بعد میں قرارداد پاکستان کہا گیا کو 80 برس پورے ہو رہے ہیں تو موزوں لگتا ہے کہ ایک نظر اپنے حالیہ ماضی پر ڈالی جائے اور دیکھا جائے کہ اس عرصے میں کیا کچھ کیا گیا ہے۔ گوکہ ہماری تاریخ اتنی قابل فخر نہیں کہ اس کے ساتھ ہم دنیا میں سر اٹھا کر کھڑے ہوسکیں لیکن اتنی اہم ضرور ہے کہ اس کا نئی نسل کو ضرور پتا ہونا چاہیے۔ اس مضمون میں کوشش کی جارہی ہے کہ مختصراً تاریخ کو چند صفحات میں سمیٹ دیا جائے۔

جب پاکستان آزاد ہوا تو اس میں رہنے والے مختلف طبقات کے اپنے خواب تھے۔ آج کے نوجوان اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا پاکستان صحیح بنا یا ہندوستان کا متحد رہنا ہی اچھا ہوتا۔ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اگرمجھ سے 1940 میں پوچھا جاتا تو شاید میں یہ کہتا کہ ہندوستان کو متحد رہنے دو لیکن اگر یہیں سوال مجھ سے 1947 میں پوچھا جاتا تو شاید میں یہ کہتا کہ پاکستان کو اب بن ہی جانا چاہیے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ 1940 سے 1947 تک کے سات سال میں بات اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو غالباً پورا ہندوستان بڑے طویل عرصے تک خون خرابے کاشکار رہتا اور پھر بالآخر ٹوٹ ہی جاتا۔

1947 تک مسلم لیگ کے علاوہ خود کانگریس بھی اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ مسلم اکثریتی علاقوں کا الگ ہوجانا ہی بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ انہیں زبردستی ساتھ رکھا جائے اور ایک کمزور مرکز کو قبول کیا جائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نہ بنتا اور ہندوستان متحد رہتا تو پورے ہندوستان میں جمہوریت پھلتی پھولتی اور وہ علاقے جو آج پاکستان میں شامل ہیں وہاں بھی جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوتیں لیکن اس کے بجائے ایک بڑا امکان یہ بھی موجود تھا کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو جلد ہی غالباً پورے بھارت میں مارشل لا لگ گیا ہوتا۔ خیر یہ گفت گو اب بے معنی ہے اور جب یہ ملک بن ہی چکا ہے تو ہماری توجہ اس کا جواز تلاش کرنے کے بجائے اس کی تعمیر و ترقی پر ہونی چاہیے۔

جب پاکستان بناتو اس میں رہنے والے عام انسان کے خواب یہ تھے کہ اس میں ایک فلاحی ریاست کی تمام خوبیاں موجودہوں گی۔ اس میں صحت اور تعلیم کی سہولتیں مفت اور اعلیٰ درجے کی ہوں گی۔ فراہمی اور نکاسی آب کا بھرپور انتظام ہوگا۔ توانائی کے ذرائع مہیا کیے جائیں گے۔ سڑکوں کے جال بچھائے جائیں گے۔ لوگ اپنے گلی محلوں میں اور اپنے گھروں میں محفوظ ہوں گے۔ اور طرز حکم رانی منصفانہ ہوگا اور انصاف کی فراہمی ہر ایک کو ہوگی۔

اگر عام آدمی کے خواب یہ تھے تو دیگر طبقات کے خواب خاصے مختلف تھے۔ مثلاً اس خطے میں رہنے والے زمینداروں اور جاگیرداروں کے خواب یہ تھے کہ کسی قسم کی زرعی اصلاحات نہ ہوں اور اگر ہوں تو انہیں ناکام بنا دیا جائے۔ کیوں کہ متحدہ ہندوستان میں کانگریس اعلان کرچکی تھی کہ فوری زرعی اصلاحات نافذ کی جائیں گی یعنی بڑے بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں سے ان کی زمینیں چھین کر تقسیم کی جائیں گی اور زیادہ سے زیادہ زمین رکھنے پر حکومتی پابندی ہوگی۔

اس طرح نوزائدہ پاکستان میں رہنے والے اور آنے والے زیادہ سرمایہ داروں کے خواب یہ تھے کہ انہیں بھارت کے زیادہ تر غیر مسلم سرمایہ داروں سے مقابلہ نہیں کرنا پڑے گا اور پاکستان کی معیشت اور صنعت اب مسلمان سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی مرہون منت ہوگی اور جس میں وہ بلا شرکت غیرے سرمایہ کاری کریں گے اور خوب منافع کمائیں گے۔

اس وقت مسلمان سول اور فوجی افسر شاہی کے خواب یہ تھے کہ اب انہیں سرکاری عہدوں کے لیے غیر مسلموں سے مقابلہ نہیں کرنا پڑے گا اور وہ اعلیٰ ترین عہدوں پر بڑی آسانی سے پہنچ جایا کریں گے اور ایسا ہوا بھی مثلاً جنرل ایوب خان کبھی بھی متحدہ ہندوستان میں آرمی چیف نہیں بن سکتے تھے اور یہ خود کو فیلڈ مارشل لا کا عہدہ دے پاتے اور شاید نہ ہی خود کو ملک کا صدر بنا سکتے تھے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ یہاں سول اور فوجی افسر شاہی نے اپنے ان سب خوابوں کی تعبیر حاصل کی جو شاید وہ متحدہ ہندوستان میں کبھی حاصل نہ کرپاسکتے۔

اسی طرح مذہبی رہ نماؤں کے یہ خواب تھے کہ وہ پاکستان میں ایک تھیوکریسی یا ملائیت کا راج لے آئیں گے جہاں پر ان کے مذہب اور فرقے کی مکمل بالادستی ہوگی اور معاشرے کے ہر شعبے میں فرقہ واریت کو گھساکر لوگوں کی عام زندگی کو بھی فرقوں کے تابع کردیا جائے گا۔

اسی طرح سیاست دانوں کے یہ خواب تھے کہ سیاست پر غیر مسلم مخالفین کا سامنا نہ کرنا پڑے گا اور خاص طور پر جو پہلی دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی تھی اس کی کوشش یہ تھی کہ دستور ہی نہ بن پائے کیوں کہ نیا آئین بننے کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی کو خود تحلیل ہوجانا تھا اور اسمبلی کے اکثر ارکان کو خطرہ تھا کہ نئے دستور کے تحت نئے انتخابات میں شاید وہ جیت نہیں پائیں گے اس طرح آئین سازی کا عمل طویل سے طویل تر کیا جاتا رہا۔

اس سارے عمل میں جو عام آدمی کے خواب تھے وہی پورے نہ ہوسکے البتہ باقی سب نے اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر بڑی حد تک حاصل کرلی۔ عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں تو نہ مل سکیں لیکن جاگیرداراور زمین دار بدستور اپنی جاگیروں پر قائم رہے۔ فراہمی اور نکاسی آب کی سہولتیں تو پسماندہ رہیں لیکن سرمایہ دار خوب قرضے لے کر کھاتے بھی رہے اور اپنی صنعتوں کا فضلہ آبی وسائل میں ڈال کر عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے رہے۔

بجلی کی سہولتوں کے لیے عوام ستر سال سے ترس رہے ہیں لیکن سول اور فوجی افسر شاہی اپنے لیے خوش حالی کے جزیرے ضرور قائم کرتی رہی۔ یقین نہ آئے تو ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کے علاقوں پر نظر ڈالیے آپ کو سول اور فوجی افسر شاہی کے لیے قطار اندر قطار ہاتھ باندھے نظر آئیں گے۔ اس طرح عوام کو دیہی علاقوں تک سڑکوں کی سہولتیں تو حاصل نہ ہوسکیں حتیٰ کہ شہروں میں بھی سڑکوں کی حالت بہت خراب رہی اور اب تک ہے لیکن اعلیٰ مذہبی اور فرقہ واریت کے مارے ملا اب بھی لینڈ کروزر اور کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں چاہے سڑکیں بے شک خراب ہوں۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کیسے ہوا کہ عوام کے خواب تو دھرے کے دھرے رہ گئے اور باقی سارے طبقات اپنے مفادات بھرپور طریقے سے حاصل کرتے رہے۔ پہلی بات تو یہ کہ قیام پاکستان کے بعد جو کام سب سے پہلے کرنے چاہیے تھے ان سے رو گردانی کی جاتی رہی۔ مثلاً آئین سازی سب سے پہلا مرحلہ تھا کیوں کہ آئین ہی ملک کو ایک مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کرسکتا تھا۔ مگر تقریباً تمام سیاسی رہ نما اس کوشش میں لگے رہے کہ آئین نہ بن پائے۔

جمہوری روایات کی بیخ کنی آزادی کے پہلے سال میں ہی شروع کردی گئی۔ صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی منتخب حکومت کو شروع میں ہی برخاست کردیا گیا اور کوشش کی جاتی رہی کہ مسلم لیگ کے علاوہ اور کوئی سیاسی جماعت قائم نہ رہ پائے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان کے تنازعات دیگر مقامی رہنماؤں سے ابھر کر سامنے آتے رہے۔

لیاقت علی خان کا حلقہ انتخاب پاکستان میں نہیں تھا اور بہت سے مقامی رہ نما انہیں مہاجر سمجھ کر ان کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے اور خود لیاقت علی خان ایسے قدم اٹھاتے رہے کہ جس سے ان کی مخالفت میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ قرارداد مقاصد کی صورت میں ایک ایسی دستاویز قوم پر مسلط کردی گئی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

اس قرار داد کی پاکستان کے غیرمسلم باشندوں نے اور خاص طور پر مشرقی پاکستان کے لوگوں نے شدید مخالفت کی۔ پاکستان کے پہلے وزیر قانون ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھے جن کا انتخاب خود قائد اعظم نے کیا تھا۔ انہوں نے قرارداد مقاصد کو ایک ایسی دستاویز قرار دیا جس کی وجہ سے پاکستان مذہبی بنیاد پرستی اور فرقہ واریت کی راہ پر چل نکلے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد منڈل بھی مایوس ہوکر پاکستان سے چلے گئے اور پاکستان میں مذہبی رواداری کے امکانات کم سے کم ہوتے چلے گئے۔

لیاقت علی خان کا چار سالہ دور حکومت سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا دور ثابت ہوا۔ کسی بھی صوبائی حکومت کو آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ مرکز ہر صوبائی معاملے میں مداخلت کرتا رہا۔ وزرائے اعلیٰ کو بار بار برخاست کیا جاتا رہا اور ان پر بدعنوانی کے الزامات لگائے جاتے رہے دستور سازی کے بنیادی عمل سے کوتاہی برتی جاتی رہی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو اپنے پڑوسی ملکوں افغانستان، بھارت اور سوویت یونین سے دور کرکے امریکا کی گود میں بٹھا دیا گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *