خون کی کمی کے مرض انیمیا، میں مبتلا 70 فیصد خواتین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رحیم یار خان کے نواحی گاؤں چک 100 پی کی رہائشی سعدیہ کو گزشتہ تین ماہ سے جسم میں درد، پٹھوں کا کھچاؤ اور تھکاوٹ کے امراض لاحق تھے۔ سعدیہ کی عمر 30 سال تھی اور وہ تین بچوں کی ماں بھی تھی۔ گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیکھ بھال بھی مشکل ہوتی جا رہی تھی۔ گاؤں کے میڈیکل سٹور پر موجود اتائی کو اس نے بارہا دکھایا تھا جو اُسے صرف درد کی ادویات اور انجکشن لگا کر تسلی دیتا کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گی لیکن درد اور تھکاوٹ ختم ہونے کی بجائے بڑھ رہی تھی۔

ایک روز سعدیہ کا پیٹ خراب ہوا اور بار بار موشن آنے لگے جس سے اس کی طبیعت بگڑ گئی اور سعدیہ نڈھال ہو کر بیہوش ہو گئی۔ سعدیہ کے گھر والے اُسے شیخ زید ہسپتال ایمرجنسی لے آئے جہاں چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے بلڈ ٹیسٹ کروانے کا کہا۔ بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوا کہ سعدیہ خون کی کمی کے مرض انیمیا کا شکار تھی اور خون میں ہیموگلوبن کے مقدار صرف 7 تھی اور خون میں آئرن کی کمی کی وجہ سے جسم پیلاہٹ کا شکار تھا۔ اس کا علاج ہسپتال آنے سے پہلے صرف درد کی گولیاں دے کر کیا جا رہا تھا۔ جب اس مرض کے بارے میں ہسپتال کے ڈاکٹرز سے معلومات لی گئیں تو حیران کن باتیں سامنے آئیں۔

ضلع رحیم یار خان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد خون کی کمی کے مرض انیمیا کا شکار ہیں اس مرض کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ خوراک کی کمی، کم غذائیت اور کم فولاد والی غذائیں کھانے سے خواتین کی اکثریت خون کی کمی کے مرض انیمیا کا شکار ہیں۔ جس سے کئی پیچیدہ امراض میں مبتلا ہو کر خواتین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شیخ زید ہسپتال کے فوکل پرسن ڈاکٹر الیاس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہسپتال کے گائنی آؤٹ ڈور میں روزآنہ 350 سے 400 خواتین روزآنہ چیک اپ کے لئے آتی ہیں اور جب ان کے بلڈ ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں تو ان میں سے 70 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں اور ان کا ہیموگلوبن لیول مقررہ مقدار سے کم آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اپنی خوراک کا خیال نہیں رکھتیں جس کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے۔

شیخ زید ہسپتال کے میڈیا کوآرڈی نیٹر پروفیسر علی برہان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انیمیا کا شکار مائیں انیمیا کا شکار قوم پیدا کر رہی ہیں جس کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت اور حکومت مل کر اس پر بھرپور کام کریں تاکہ یہ مرض کنٹرول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صحت مند عورت میں ہیموگلوبن کی مقدار 12 پوائنٹ تک ہونی چاہیے جبکہ یہاں 5 سے 6 پوائنٹ والی خواتین حاملہ حالت میں ملتی ہیں جس سے ماں اور پیٹ میں موجود بچہ دونوں کی زندگی خطرے میں ہوتی ہے۔

شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کی سینٹر گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ ماجد کا کہنا تھا کہ خواتین کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس قسم کی خوراک لے رہی ہیں جس کی وجہ سے یہ مرض روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خون کی کمی کا مطلب انیمیا ہے، چائے، کافی اور میٹھی چیزوں کا بہت زیادہ استعمال سے انرجی تو ملتی ہے لیکن اس کے دوررس نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔

سینئر گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر نزہت رشید کا کہنا ہے کہ شیخ زید ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں آنے والی ساٹھ سے ستر فی صد خواتین کے جب ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں تو وہ خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند رہنے کے لیے خواتین کو گوشت کا استعمال زیادہ کروانا چاہیے اور شادی سے پہلے ہی انہیں مناسب خوراک اور خود کا خیال رکھنا سیکھانا چاہیے۔ جہاں مائیں اپنے بیٹوں کی خوراک کا خیال رکھتی ہیں وہیں بیٹیوں کا بھی خیال رکھا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بلال حبیب کی دیگر تحریریں

Leave a Reply