فسٹ وومن کانفرنس۔ احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوم خواتین کے حوالے سے آرٹس کونسل کراچی میں مورخہ چھ اور سات مارچ کو ”فسٹ وومن کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔

بعد نمازجمعہ سہہ پہر چار بجے شروع ہونے والی پہلی خواتین کانفرنس کے لئے آرٹس کونسل کراچی کے سربراہ احمد شاہ، ڈاکٹرہما میر، کاشف گرامی، اور دیگر منتظمین نے ہمیشہ کی طرح بہت محنت اور جانفشانی سے انصرام و اہتمام کیا، کانفرنس میں خصوصی شرکت کے لئے ہمارے مشفق باس ( کمپنی کے سی ای او) عارف با حلیم صاحب نے کمپنی کی خواتین ورکرز کو آفس سے رخصت عنایت کی، تا کہ ہم پہلی وومن کانفرنس میں شریک ہو کر ملک کی جانی پہچانی اور اپنے شعبہ جات میں نمایاں اور قابل خواتین سینئرز کی گفتگو سے استفادہ حاصل کریں۔

جب ہم آرٹس کونسل پہنچے تو معلوم ہوا کہ نہ صرف کراچی کی نمایاں اساتذہ، ڈاکٹرز۔ وکلاء، خواتین صحافی، سماجی کارکنان، بنکرز، ادب و ثقافت سے وابستہ خواتین موجود ہیں، بلکہ سکھر، تھر پارکر، میر پور خاص اور اندورن سندھ کے دیگر شہروں سے بھی خواتین فسٹ وومن کانفرنس میں شرکت کے لئے آئی ہوئی ہیں، جو اپنے روایتی ملبوسات میں بہت پرجوش اور خوبصورت دکھائی دیتی تھیں، تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا، ابتدائیہ تقریب میں آئی اے رحمان اور جسٹس ناصرہ اقبال کی تقاریر شامل تھیں۔ ابتدائی تقریب کے بعد باقاعدہ سیشنز کا آغاز ہوا۔

”اکنامک ایمپاورمنٹ آف وومن“

جس کی اسپیکر ڈاکٹر شمشاد اختر تھیں، ملک میں خواتین کی معاشی حالت، روزگار اور معاوضے پر سیر حاصل گفتگو کی۔

” رول آف میڈیا ان وومن ایمپاورمنٹ“

جس کے میزبان مبشر زیدی تھے اور شرکاء گفتگو مظہر عباس، ثانیہ سعید، تسنیم احمر، وسعت اللہ خان، بی گل اور بختاور مظہر تھیں۔ چونکہ موضوع وسیع معنی کا حامل تھا، اس لیے

گفتگو پھیلتی رہی اور تشنگی باقی رہی، امیدہے آئندہ کبھی اس موضوع پر دوبارہ بات ہو گی تو پھر وقت اور حالات کے ساتھ مزید بہتری آئے گی۔

اسکے بعد فنون لطیفہ کے حوالے سے ڈرامہ اور ایک تھیٹر پرفارمنس پیش کی گئی۔

ایک اچھا دن اختتام پذیر ہوا۔

کانفرنس کے دوسرے دن کا آغاز

” یہ ہاتھ سلامت رہیں“

کے عنوان سے ترتیب دیے گئے سیشن کے ساتھ ہوا،

جس کے شرکاءمیں زہرا اکبر خان، نزہت شیریں، حلیمہ لغاری، فاطمہ مجید، فرحت پروین، سعیدہ خاتون اور میزبان کرامت علی تھے۔

سیشن کا آغاز مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ہوا۔ دوران گفتگو سامعین پر یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان میں مزدور طبقے کے حوالے سے کوئی مستند قانون یا سہولت موجود نہیں ہے، دوران ملازمت حادثے کی صورت میں کوئی معاوضہ، علاج معالجے کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، سعیدہ خاتون کے اپنے بچے کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں حادثے کا شکار ہوئے، ریاستی و عدالتی سطح پر معمول کی کارروائی ہوئی، لیکن سعیدہ خاتون کی جد و جہد کی بدولت بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کے لئے جو قوانین موجود ہیں ان کا اطلاق پاکستان میں بھی مکمل طور پر کرنے کی کوشش جاری ہے اور سعیدہ خاتون کا عہدہے کہ یہ کام مکمل کر کے ہی ان کو اور ان کے جیسی ماؤں کوسکون ملے گا۔

خواتین فیکٹری ورکرز اور ان کے معاوضے، کام کی جگہ سازگار ماحول مہیا کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو رہی۔

دوسرا، سیشن تعلیم بنیادی حق کے عنوان سے رکھا گیا۔

جس کی میزبان فوزیہ خان۔ شرکاء میں صادقہ صلاح الدین۔ امینہ سید، سعید غنی، ڈاکٹر جعفر احمد، رانا حسین تھے،

ڈاکٹر امینہ سید اور فوزیہ کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ جو ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، ان کو اسکول لایا جائے، تعلیم فراہم کی جائے، اور اسی کے لئے ہم دن رات کوشاں ہیں لیکن رکاوٹیں بچوں کے گھروں کی سطح سے لے کر علاقوں کے وڈیروں، جاگیرداروں اور حکومتی سطح تک موجود ہیں، جن کو ہم دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں، سیشن کے آخر میں سامعین کی جانب سے سوالات کا سلسلہ بھی ہوا، جس میں تلخ سوال یہ کیا گیا کہ محکمہ تعلیم اور آپ لوگوں کی طرف سے بھی کوتاہی ہوتی ہے، پینل کے شرکاءنے تحمل سے اس سوال کا جواب دیا کہ بلا شبہہ کوتاہیاں ہر طرف سے ہیں لیکن جب اندورن ملک بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو فرسودہ رسوم و رواج کی بدولت ہماری کوشش کو بجائے سراہنے کے دھتکارا جاتا ہے، اور ریاست بھی بے بس ہو جاتی ہے، اور اچھے بھلے اسکول گھوسٹ اسکول بن جاتے ہیں اس علاقے کے اپنے ہی لوگوں کی وجہ سے، اس ضمن میں ریاست سے درخواست کی گئی کہ اسکول آبادی میں کھولے جائیں، تعلیم کا بجٹ بڑھایا جائے، جو بھی عناصر بچے اور بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں ان سے سختی سے نمٹا جائے تا کہ بچے اپنے بنیادی حق سے کسی صورت محروم نہ رہ سکیں۔

تیسرا سیشن ”عورت پہ تشدد کیوں“

میزبان انیس ہارون۔

شرکاء نفیسہ شاہ۔ سارا ملکانی، نازش بروہی،

غازی صلاح الدین اور عافیہ ضیا تھے۔

سارا ملکانی ملک کی وہ پہلی خاتون وکیل ہیں جنہوں نے خاتون پر گھریلوتشدد کے حوالے سے پہلا کیس جیتا اور اس کے لئے ان کو اور ان کی موکلہ کو تین سال کا عرصہ لگا، سارا ملکانی نے بتایا، ہمارے یہاں گھر کی خواتین کو تھپڑ مارنا، مارپیٹ کرنا عام ہے اور اس کو عام طور پر برا ہی نہیں سمجھا جاتا، جب انہوں نے ججز سے کیس کی بابت بات کی تو ستم ظریفی یہ تھی کہ ججز کے علم میں ہی نہیں تھا، کہ ایسی کوئی شق یا آرٹیکل ملکی قانون میں موجود ہے، جو گھریلو تشدد کے خلاف کیس بنا سکے، سارا ملکانی کو کئی مہینے معتلقہ ججز اور ساتھی وکلاء کو صرف یہ بتانے کے لئے صرف کرنا پڑے کہ تشدد کرنے والے کے خلاف قانون موجود ہے بس قانون کو امپلیمنٹ کرنے کی ضرورت ہے، سارا ملکانی نے تین سال کی محنت کے بعد بالآخر کیس جیتا اور اپنی کلائنٹ کو انصاف دلایا اور سماج میں عورت پر تشدد کے خلاف ایک قدم بڑھایا۔

چوتھا سیشن ”رول آف وومن ان پارلیمنٹ“

میزبان ڈاکٹر ایوب شیخ

شرکاء۔ سسی پلیجو، کشور زہرہ، ڈاکٹرسیما ضیا، اسما بخاری تھے۔

اسما بخاری جو ن لیگ پاکستان کی رکن ہیں اور ممبر قومی اسمبلی ہیں نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں بھی خواتین کو نمائندگی حاصل کرنے میں بہت مشکلات کا سامناکرنا پڑا، اور ہمارے ساتھی ممبران ہمیں سوئیٹ ڈش کہتے تھے، لیکن ہمارے مسلسل اجتجاج سے اس رویئے میں خاطر خواہ تبدیلی آئی ہے، اور اب کوئی بھی کچھ کہنے سے پہلے سوچتا ہے، خواتین پر گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون لاگو کرنا ن لیگ کے خواتین ونگ کا کارنامہ ہے، پندرہ سال اس ضمن میں صرف کیے گئے کیونکہ بہت سی رکاوٹیں راہ کیں حائل تھیں جن کا سد باب کیا گیا۔

سسی پلیجو نے کہا، ہم خواتین کی تعلیم، معاش، صحت کے حوالے سے کام تو کرتے ہیں، ہماری پارٹی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کو بھی مانتی ہے لیکن ہماری راہ میں نظام کی خرابیاں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں جن پر ہم قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب ان سے کارو کاری اور جبری شادیوں کی بابت سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں انشاللہ جلد ہی آپ کو اچھی خبریں دیں گے، ہماری دعا ہے کہ وہ کامیاب ہوں۔

کشور زہرا کا کہنا تھا، کہ نظام کی تمام خرابیاں ہماری ذہنی اپچ اور مائنڈ سیٹ کی مرہون منت ہیں جب تک سوچ نہیں بدلے گی، ہم نظام نہیں بدل سکیں گے، چاہے وہ عدالتی نظام ہو، پارلیمانی نظام ہو یا سماجی سطح پر نافذ خود ساختہ نظام ہو، ان خرابیوں کو دور کرنے کے لئے تعلیم ضروری ہے، صحت مندانہ تعلیمی و سماجی سرگرمیاں ضروری ہیں، جب تک ہم خود ایک مہذب سوچ اور تہذیبی اقدار کے حامل نہیں ہوں گے نظام میں تبدیلی نہیں لا سکیں گے، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر سطح پر کام کیا جائے۔ اور شروعات خود سے کی جائیں کیونکہ ہر فرد معاشرے کی تشکیل میں اپنا حصہ لیتا ہے۔

ڈاکٹر سیما ضیا جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے، تھوڑی دیر سے سیشن جوائن کیا، گفتگو مختصر رہی، ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت میں ہیں اور ہماری تمام تر کوشش خواتین کو تعلیم، روزگار صحت کے معاملات میں آسانی فراہم کرنے میں ہے، کام کر رہے ہیں، ہم کامیاب ہوں گے، ہماری نیک۔ خواہشات بھی ان کے ساتھ ہیں۔

پانچواں سیشن

”صحت مند عورت اور صحتمند معاشرہ“

میزبان ڈاکٹرہما میر۔

شرکاء۔ ڈاکٹر عذرافضل ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر روفینہ سومرو، شہناز وزیر علی، ڈاکٹرسیمی جمالی، عائشہ میاں اور ڈاکٹر ہارون احمد تھے۔

خواتین کی صحت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو رہی، ڈاکٹر شیر شاہ اور ان کی ٹیم جس طرح کام کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے۔ تمام شرکاء نے بہترین نکات پر بات کی۔ ہماری نیک تمنائیں ہمارے طبیبوں کے ساتھ ہیں۔

کانفرنس میں فنون لطیفہ کے حوالے سے بھی سیشن رکھے گئے۔

بشری انصاری صاحبہ سے یاسر حسین نے باہمی گفتگو کی جو دلچسپ رہی۔

تحریمہ مٹھا کی رقص پرفارمنس عمدہ رہی۔

تقریب کے آخر میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، شہر کراچی کی چیدہ چیدہ شاعرات نے اس مشاعرے میں حصہ لیا، سامعین میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مشاعرے کی صدارت کشور ناہید صاحبہ نے کی۔

اور بہت ساری عمدہ غزلیں اور نظمیں سننے کے بعد مشاعرہ اور پہلی وومن کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

پچھلے کچھ سالوں سے ملک کے بڑے شہروں میں منعقد کیے جانے والے ادبی میلوں اور کانفرنسسز کے حوالے سے اکثر سوالات بھی اٹھتے ہیں، کہ ان کا مقصد کیا ہے اور کیا یہ سرگرمیاں سود مند ہیں اور جو سیشنز ان تقریبات میں ترتیب دیے جاتے ہیں ان کا حاصل گفتگو کیا ہوتاہے؟ تو ان کا ایک مختصر سا جواب یہ ہے کہ

” ادب حقیقت سے نظر چُرا کر محض خیالی دنیا کی خیالی باتیں کرتے رہنے کا ہی نام نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے ہر شعبے، ہر پہلُو اور ہر مسئلے سے ہے سو اگر خواتین کے ساتھ صِنفی امتیاز برتا جانا، بچّوں کے ساتھ بدسلوکی، جبری مُشقّت، سیاست میں نئے لوگوں کا حصہ اور میڈیا میں خواتین کا کردار جیسے مسائل کو ادب میلے یا ایسے کسی اور ادبی اجتماع میں موضوعِ گفتگو بنایا جاتا ہے تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ غیر مُتعلّقہ موضوعات ہیں بلکہ تمام انواع کے تمام موضوعات چونکہ مُعاشرے کا منظر نامہ ہوتے ہیں اور ادب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معاشرتی منظر نامے کی جُزئیات، اُس کی خوبیوں، خامیوں غرض ہر پہلو پہ بات کرتا ہے۔

اور چونکہ یہ موضوعات انسان کی زندگی سے متعلق ہیں لہٰذا یہ تمام معاشرتی موضوعات، خواہ براہِ راست نہ سہی بالواسطہ طور پہ ہی سہی مگر کسی نہ کسی طور ادب کا ہی حصہ ہیں، اور ادب سماج کا ایک نمایاں اور روشن پہلو ہے، اس لیے ان موضوعات پر بات ہونی چاہیے تا کہ ایک طالب علم، ایک استاد ایک عام فرد ان میں شرکت کرے تو اس کے ذہن کی گرہیں کھلیں، سوچ کو نئی جہت حاصل ہو، مائنڈ سیٹ تبدیل ہو

اور معاشرہ انصاف پسند اور مہذب بنے ”

آرٹس کونسل کراچی نے پہلی وومن کانفرنس منعقد کر کے ایک اور مثبت سرگرمی کی بنیاد رکھ دی ہے امید ہے کہ ہر سال اس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا اور معاشرے اور سماج میں ادب اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لئے آرٹس کونسل اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply