سچ کی تلاش کے دوسچے طالب


سچائی کو کھوجنا اور تراشنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اس جوہر نایاب کو پانے کے لیے ہماری مختصر سی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سچ اور دانائی کا سفر بہت ہی کٹھن اور دشوار گزار ہوتا ہے مگر کچھ لوگ اپنے حقیقی سچ کو پانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ میں بھی ایسے دو درویشوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے خوابوں اور آدرشوں کو پورا کرنے کے لیے پوری زندگی تیاگ دی اور ان کے جاننے کا یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔

ان دو علم و دانائی کے متلاشیوں کا نام ”زاہد ڈار اور ڈاکٹر خالد سہیل“ ہے۔ زاہد ڈار سے آشنائی ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”سچ اپنا اپنا“ پڑھ کر ہوی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر سہیل نے زاہد ڈار کو اپنا ”ادبی خضرِراہ“ کہا ہے۔ پاک ٹی ہاؤس جو کہ لاہورمیں واقع ہے جسے علم و عرفان کی ادب گاہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ادب گاہ میں بڑے بڑے لوگوں کا آنا جانا تھا۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، منیر نیازی، سبط حسن اور سجاد ظہیر جیسے ادبی لوگ یہاں آکر بیٹھا کرتے تھے اور علمی و ادبی باتیں ہوا کرتی تھیں مگر اب وہ باتیں کہاں۔

لیکن ایک شخصیت ایسی ہے کہ جس نے ان بڑے لوگوں کی صحبت میں اپنی زندگی گزاری اور وہ آج بھی پاک ٹی ہاؤس کی رونق کو دوبالا کیے ہوئے ہے۔ وہ شخصیت زاہد ڈار ہیں۔ پاک ٹی ہاؤس کے تمام مناظر اس نابغہ روزگار شخصیت کے حافظہ میں محفوظ ہیں۔ زاہد ڈار نے اپنی ساری زندگی کتابوں سے پیار کرتے ہوئے گزاری۔ زندگی میں نہ کوئی ملازمت راس آئی اور نہ ہی کوئی جیون ساتھی مگر پھر بھی زندگی سے کوئی گِلہ نہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر خالد سہیل نے بھی اپنے آدرشوں کی آبیاری کرنے کے لیے اپنی جنم بھومی کو الوداع کہا اور ایک ایسی سر زمین پر جا بسے جہاں پر وہ اپنے خوابوں کے ساتھ مکمل آزادی سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور انسانوں کے نام اپنے ادبی نامے رقم کر رہے ہیں۔

یہ دو علمی سادھوں جنہوں نے اپنے خوابوں اور آدرشوں کو مقدم جانا اور شادی جیسے بندھن کو اپنی منزل کی رکاوٹ سمجھتے ہوے اس بھاری ذمہ داری کا بوجھ اہنے کندھوں پرنہیں اٹھایا۔ زاہد ڈار اور ڈاکٹر سہیل نے اپنا علمی کنبہ بنایا اور اس علمی کنبہ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ کتابوں کی صورت میں ان کے تخلیقی بچے بھی ہیں اور ان کو اپنی تخلیقی اولاد پر بڑا فخر اور ناز ہے۔ جب کبھی ڈاکٹر سہیل ادبی یاترا پر پاکستان آتے ہیں تو اپنے اس علمی سادھو سے ضرور ملتے ہیں۔

میں یہاں پر ان دو علمی سادھووں کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ اس گفتگو کا حوالہ ڈآکٹر سہیل نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اس گفتگو سے آپ کو اندازہ ہو جاے گا کہ زاہد ڈار کا علم اور پاک ٹی ہاؤس سے کیا وابستگی اور تعلق ہے۔ جب ڈاکٹر سہیل نے زاہد ڈار سے پوچھا آپ کی زندگی مشاغل کیا ہیں تو زاہد ڈار نے یہ جواب دیا تھا ”مجھے ادب، فلسفہ اور نفسیات کو پڑھنے اور جاننے کا شوق ہے۔ اپنی ذات کو سمجھنے میں یہ مضامین بہت مدد دیتے ہیں۔

میں تو بس کتابیں پڑھنے کے لیے پیدا ہوا ہوں وہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ میں پچھلے تیس سال سے ہر صبح دس سے گیارہ بجے اور شام کو پانچ سے چھے بجے یہاں آتا ہوں کتابیں پڑھتا ہوں اور ادیبوں سے گفتگو کرتا ہوں میری ان لوگوں سے دوستی ہے جن کی کتابوں سے دوستی ہے ”۔ اس چھوٹی سی گفتگو سے آپ ندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ علمی سادھو کتنے بڑے علمی مرتبے پر فائز ہیں۔ سچائی کو پانے کی ہر ایک کو تمنا ہوتی ہے مگر اس منزل کوپانے کے لیے جستجوکسی کسی میں ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اپنے اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور اپنی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی خواہشات کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر یہ منزل ہاتھ آتی ہے۔ زاہد ڈار اور ڈاکٹر سہیل جیسی شخصیات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

Facebook Comments HS