ذات رویوں کا دوسرا نام


انسانوں کی اقتصادی تذلیل اس وقت سے شروع ہو گئی جب طاقتوروں نے زمینوں پر باڑیں لگا کر انھیں اپنی ملکیت قرار دے دیا۔ ریاست کے بنتے ہی اقلیت نے اپنی طاقت اور چالاکی کی بنا پر اکثریت کو اپنا غلام بنا لیا۔ غلامی کی یہ روایت ہزاروں برس سے جاری ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سکھ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ اکثریت میں اپنا حق مانگے کی ہمت ہی نہ آئی اورا قلیت اپنی کو تاہ نظری اور وقتی مفادات کے تحت اس نظام کو آگے بڑھاتی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ غلامی کی اس کہانی میں غریب تو برباد ہوئے، ساتھ ہی امیروں کا ٹولہ بھی غیر انسانی سلوک روا رکھنے کی وجہ سے نفسیاتی طور پر غیر انسانی سطح پر آگیا۔ واضح رہے کہ ظلم یا زیادتی کی صورتحال میں مظلوم تو خارجی اعتبار سے غیر انسانی سلوک کا شکار ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ظالم بھی تو غیر انسانی سلوک روا رکھنے کے باعث، اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ مظلوم خارجی اعتبار سے غیر انسانی سلوک کا شکار تو ہوتا ہے مگر داخلی طور پر خالصتاً انسانی رویے اور احساس ہی اسے دلاسا دیتے ہیں اور زخموں کی رفو گری کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دکھ اور نفسیاتی زخموں کا علاج صرف اور صرف انسانی ہمدردی کے رویوں سے ممکن ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مظلوم اپنی انسانیت کسی نہ کسی طور بچا لیتا ہے۔ دوسری طرف ظالم انسانوں کو دکھ دے کر اپنے آپ کو ایک غیر انسانی صورتحال کے سپرد کر دیتا ہے۔ ظالم کے مظالم اور اس کے نتیجے میں اس کے غیر انسانی سطح پر آنے کے ’دکھ‘ کے مراولے کے لیے انسانی دلاسے سے اور ہمدردی نہیں کی جا سکتی۔ ظالم کی ذات کی شناخت اس کے رویے بن جاتے ہیں۔

آخر ذات رویوں کا ہی دوسرا نام ہے۔ یہی رویے اس کی معاشرتی شناخت بنتے ہیں۔ یعنی یہ کہ وہ جو کچھ کر رہا ہوتا ہے اسے وہ درست مانتا ہے۔ خواہ اجتماعی سطح پر یہ رویے اچھے نہ بھی ہوں، دوسرے لوگ کم از کم اس کی ذات کے حوالے سے ان منفی رویوں کو درست تسلیم کر لیتے ہیں۔ امیر یا غریب ہونے کا تعین اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی فرد کس کے گھر پیدا ہوا۔ اگر امیر کے گھر پیدا ہو گئے تو وارے نیارے ورنہ ٹھوکریں ہی ٹھوکریں۔

ذرا ہمدردی سے غور کریں تو یہ سب جنگل کا قانون لگتا ہے۔ آخر معاشرے اور ریاست کا کام کیا ہے؟ کیا جنگل کے قانون کو طاقت کے ساتھ تحفظ دینا۔ کیا زندگی کے ڈرامے اور اقتصادی صورتحال میں غریبوں کا کردار محض ایندھن کے برابر ہے؟ کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ معاشرے کے تمام طبقوں کی کوششوں سے نظام زندگی چلتا ہے۔ جب آپ کی کل آبادی میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ مفلسی اور عدم مساوات کا شکار ہوں تو کیا اس سے نظام موثر رہے گا۔

کیا حکومتی طبقے کے لیے یہ صورتحال قابل قبول وہ گی۔ واضح رہے کہ حکومتی طبقے کے سب لوگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پنا ہیں حاصل نہیں کر سکتے۔ صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ اپنے ملکوں کی منڈیوں پر انحصار کو اپنی بنیاد بنائیں۔ مگرایک امیر شخص کے روپیہ پیسہ کمانے کی ہوس کے پیچھے اس میں موجزن ’چھن جانے‘ کا خوف ہوتا ہے۔ اسی خوف کے باعث اس میں کثرت کی خواہش جنم لیتی ہے اور وہ اس خواہش کا غلام ہو کر اپنی آزادی اور زندگی کے لطف سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔

چیزیں آسانی کی بجائے آزاربن جاتی ہیں۔ چیزوں کی اسیری میں وہ دوسرے انسانوں کو بھی ان کے انسانی مقام سے قطع نظر ان کی افادیت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اس طرح اس کے اردگرد انسان تو ہوتے ہیں مگر ان سے تعلق میں انسانی جذبے اور گرمی نہیں ہو تی۔ یہ سب مصنوعی اور غیر فطری ماحول ہوتا ہے اور جب وہ ذرا سا بھی کمزور پڑ جائے تو یہی صورتحال اسے کھا جاتی ہے۔ اس طرح کثرت کی خواہش دراصل اس کی بے لذت زندگی اور آخرکار خودکشی کا باعث بنتی ہے۔

دوسری طرف اسی نظام میں غریبوں کو خام مال کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر غریبوں کو انسان تسلیم کر لیا جائے تو انھیں اپنی قابلیتوں کی نشو و نما کے لیے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے غریبوں کو انسان تسلیم کر لینے کے واضح اظہار کے باعث غریبوں میں ازخود احساس اور طاقت آجائے اور وہ اپنی قابلیتوں کو بڑھانے کے لیے ضروری مراعات کا تقاضا کرنے لگیں۔ مگر آج تک ان دونوں صورتوں کا واضح اظہار نہیں ہو سکا۔

امیر لوگ، انفرادی سطح پر اور حکومت اجتماعی سطح پر غریبوں کے لیے جو کچھ بھی کرے، اس میں خیرات کا لہجہ واضح ہو تا ہے۔ خیرات دینے کے عمل میں یہ باتیں ثابت کی جاتی ہیں کہ غریبوں کو جو کچھ دیا جا رہا ہے وہ ان کا حق نہیں۔ دینے والا اپنا معاشی تحکم اور احساس تفاخر غریبوں پر تھوپتا ہے بلکہ غریبوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس کے سامنے فر ما نبرداری اور نیازمندی ظاہر کرتے رہیں۔ تیسری اور سب سے خطرناک بات جو غریبوں کو نسل در غریب رکھتی ہے، وہ ان میں محتاجی کا شعور پیدا کرنا ہے۔

یہ محتاجی محض مادی ہی نہیں ہوتی۔ یہ ایک مزاج پیدا کرتی ہے اور اس کے آتے ہی انسان ہونے کا جوہر یعنی اپنی زندگی خود اپنے فیصلوں کے مطابق گزارنے کی اہلیت غائب ہو جاتی ہے۔ خیرات پر پلنے والے لوگ کبھی نہیں سوچتے کہ وہ خود محنت کر کے اپنے زندگیاں بدل سکتے ہیں۔ یہ طرز زندگی انھیں جانوروں کی سطح پر کھڑا کر دیتا ہے۔ کسی بھی ریاست میں غربت کے ہونے کی بنیادی وجہ وہاں بسنے والوں کے لیے اقتصادی، تعلیمی اور معاشرتی مواقعوں کی غیر منصفانہ فراہمی ہے۔ جب مواقع میسر ہوں تو کوئی بھی فرد اپنی صلاحیوں کو بہتر سے بہترین بنا سکتا ہے۔ وہ محض معاشی طور پر خود مختار ہی نہیں ہوتا وہ اپنے آپ کو دریافت کرتا ہے۔

Facebook Comments HS