کیا سیاسی حاکمیت اللہ کی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدید انسان کی تمدنی تاریخ کا صحیح معنوں میں آغاز اس عظیم الشان واقعہ سے ہوتا ہے جسے زرعی انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بعد انسان نے گھر اور بستیاں بنا کر رہنے کا آغاز کیا اور زمین سے پیدا ہونے والے اناج کو اپنی گزر بسر کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ ایک ایسا ادارہ وجود میں آ گیا جسے حکومت کا نام دیا گیا۔ اس حکومت نے بہت جلد خاندانی بادشاہت کا روپ دھار لیا اور اسے بالعموم تسلیم کر لیا گیا بادشاہ کا بیٹا ہی بادشاہ بننے کا حق دار ہوتا ہے۔

قدیم یونان کی تاریخ میں کتنے ہی حکمران گزرے ہیں جن کے نام کے ساتھ ٹائرنٹ لکھا ہوتا ہے۔ ابتدا میں اس لفظ کا مطلب ظالم و جابر نہیں تھا۔ مراد یہ ہوتی تھی کہ یہ خاندانی بادشاہ نہیں ہے بلکہ اس نے بزور حکومت پر قبضہ کیا ہے۔ ان میں بہت سے حکمران ایسے بھی تھے جو خاندانی بادشاہوں کے مقابلے پر عوام کی فلاح و بہبود کا بہتر خیال رکھتے تھے۔

حکمرانی کا ادارہ وجود میں آتے ہی جو بنیادی سوال پیدا ہوا وہ یہ تھا: کیا حکمران کا اختیار مطلق ہے یا اس پر کوئی حدود قائم کی جا سکتی ہیں۔ اس پر ایک ابتدائی نقطہ نظر کا بیان سوفوکلیز کے مشہور ڈرامے اینٹگنی میں ملتا ہے۔ جب بادشاہ شہر پر حملہ آور ہونے والی فوج کے ایک کمانڈر کو غدار قرار دیتے ہوئے اس کی لاش کی تدفین نہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کمانڈر کی بہن، بادشاہ کے حکم کی خلاف ورزی اور رواج اور دیوتاوں کے قانون کی پیروی کرتے ہوئے، اس کی لاش کو دفن کر دیتی ہے اور بادشاہ کے قہر و غضب کا نشانہ بنتی ہے۔ اینٹگنی بادشاہ کے بیٹے کی منگیتر بھی ہے۔ بیٹا اپنے باپ سے اینٹگنی کو سنائی جانے والی سزا کی معقولیت پر بحث کرتا ہے۔ ایک مقام وہ آتا ہے جب باپ لاجواب ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے میں ہی وہ شخص ہوں جو حکم دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ بیٹا جواب دیتا ہے پھر وہ حکومت ہی نہیں جس میں حکم دینے کا اختیار کسی ایک شخص میں مرکوز ہو۔ باپ کہتا ہے بادشاہ ہی ریاست ہے۔ بیٹا جواب دیتا ہے، جی ہاں! اگرریاست ایک بیابان دشت ہو۔

مراد یہ ہے کہ جہاں دوسرے انسان بھی موجود ہوں وہاں حکم دینے، اور شہریوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کا اختیار ایک ذات میں محصور نہیں کیا جا سکتا۔ معقولیت کا تقاضا ہے کہ اجتماعی معاملات کو شخصی پسند اور ناپسند سے ہٹ کر باہم مشورے سے طے کیا جائے۔

سیاسی فکر کی تاریخ میں حاکمیت کی اصطلاح کو متاخر قرون وسطیٰ میں اولاً سینٹ ٹامس اکوائنس نے استعمال کیا تھا۔ اس کے نزدیک خدا کی حاکمیت اس کے قانون کے ذریعے ہے۔ زمینی حکمران کی حاکمیت کا انحصار خدا کی اتھارٹی پر ہے اور اسے اس اختیار کو مسیحی صداقت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے فلاح عامہ اور عدل کی خاطر استعمال کرنا چاہیے۔ سینٹ ٹامس کے نزدیک دنیوی اقتدار روحانی اختیار کے تابع ہے۔ اس فکر کی رو سے بادشاہ کو زیادتی سے روکنے کا اصل ادارہ کلیسائے روم کا ہے جو سینٹ پیٹر کا وارث اور مسیح (علیہ السلام) کا نائب ہے۔ مسیحی عوام کے تمام بادشاہ حضرت مسیح کے تابع ہیں۔ اب پاپائیت کا اعلیٰ ادارہ وجود رکھتا ہے جو مسیحی قانون کے مطابق لوگوں کی روحانی رہنمائی کرتا ہے اس لیے بادشاہ کو پوپ کے تابع ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس، مشرقی آرتھوڈوکس چرچ کا نظریہ  یہ تھا کہ مسیحی شہنشاہ کو اختیار براہ راست خدا کی جانب سے مسیح کی وساطت سے عطا ہوتا ہے۔ اس میں چرچ کا کوئی دخل نہیں۔ چنانچہ  بازنطینی شہنشاہ کی ذات سب سے اعلیٰ عسکری کمانڈر بھی ہوتی، قانون ساز بھی، قاضی بھی، نجی اور سرکاری املاک کی مالک بھی۔ وہ کلیسا کے انتظامی امور کا بھی مختار ہوتا، بطریق کے نصب و عزل کا فیصلہ بھی وہی کرتا۔ اس دور کے نوفلاطونی فلسفیوں نے بازنطینی شہنشاہ کو زمین پر خدا کا سایہ قرار دیا۔

ہمارے ہاں اس بات کو حدیث کے طور پرمشہور کیا گیا ہے کہ السلطان ظل اللہ فی الارض اور آج بھی جمعہ کے خطبوں میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول بازنطینی اثرات کا نتیجہ ہے۔ خلفائے بنو عباس کا بنو امیہ پر یہ اعتراض تھا کہ وہ حکومت میں قیاصرہ روم کے طور طریقوں کی پیروی کرتے تھے۔ عباسی خلفا اس کے برعکس کسروان ایران کے مداح تھے۔

حاکمیت کا تصور یورپ کے سیاسی اور مذہبی کارفرماوں کی ایجاد و اختراع ہے۔ سیاسی حکمران چرچ کی اطاعت سے بچنا چاہ رہے ہوتے تھے جبکہ اہل کلیسا اپنے معاملات میں سیاسی مداخلت کو ناپسند کرتے تھے۔ ان دونوں فریقوں کے مابین اختیار کی رسہ کشی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ باندھنے اور کھولنے کا اختیار چونکہ چرچ کے پاس تھا، اس لیے وہ گناہوں کی بخشش ہی نہیں سیاسی معاملات میں بھی بالا دستی کا دعوے دار تھا جس کی بنا پر حکمرانوں کے ساتھ چرچ کا تنازعہ پیدا ہوتا رہتا تھا۔

اس کے برعکس مسلم تاریخ میں یہ تنازعہ کبھی موجود نہیں رہا کیونکہ یہاں حکمران ہی بالادست ہوتا تھا۔ مسلمانوں میں چونکہ چرچ کی طرح کا کوئی ادارہ وجود نہیں رکھتا تھا اس لیے مذہبی علما کو کبھی وہ اثر و رسوخ حاصل نہیں ہو سکا تھا جہاں وہ حکومتی معاملات پر اثرانداز ہو سکیں۔ وہ بادشاہ کے دربار میں بس ایک منصب دار ہو سکتے تھے۔ عثمانی ترکوں نے شیخ الاسلام کا منصب وضع کیا تھا لیکن ان کے فتاویٰ زیادہ تر سلطان کی مرضی کے تابع ہی ہوتے تھے۔ اس بنا پر مسلم تاریخ مذہب اور سیاست کے نزاع سے بالعموم پاک رہی ہے۔

حکومتوں کی ایک طویل تاریخ ہے جو قتل و غارت گری اور ظلم و تشدد سے عبارت ہے۔ کئی ہزار سال کا سفر طے کرنے کے بعد 1648ء میں یورپ میں تیس سالہ جنگ کے اختتام پر ویسٹ فالیا کے مقام پر ایک معاہدہ ہوا جس سے جدید ریاست کے تصور نے جنم لیا ۔ حکومتوں کی سرحدوں کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کرنے اور اپنی سرحد کے اندر معاملات کو اپنی مرضی سے چلانے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ اس حق کو حاکمیت کا نام دیا گیا۔ سیاسیات کی اصطلاح میں حاکمیت سے مراد ہے کہ حکومت میں حتمی سیاسی اختیار کس کے پاس ہے۔ بادشاہتوں کے زمانے میں یہ اختیار باشاہ کے پاس ہوتا تھا جو بالعموم مطلق العنان ہوتا تھا۔ جمہوریت میں حاکمیت عوام کے پاس ہے۔ چنانچہ حاکمیت کا تصور جدید بین الاقوامی نظام کی بنیاد ہے جو عصر حاضر کی قومی ریاستوں اور قومی حکومتوں کو جواز فراہم کرتا ہے۔

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ دور جدید سے پہلے سیاست اور مذہب میں کوئی دوئی نہیں تھی۔ اس وقت زندگی کا کوئی شعبہ مذہبی اثر سے آزاد نہیں تھا۔ مسیحی دنیا میں ہر اخیتار کو، خواہ وہ دنیاوی ہو یا روحانی، سند جواز مذہب ہی عطا کرتا تھا۔ تمام مذہبی پیشوا اعلیٰ سطح پر نظم مملکت کا حصہ اور اس میں شریک ہوتے تھے۔

ان معروضات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جدید ریاست کی طرح حاکمیت کا تصور بھی دور جدید کا پیدا کردہ ہے۔ جب جدید ریاست کا ادارہ وجود میں آیا تو اس وقت یہ سوالات پیدا ہوئے کہ کہ حاکمیت کا منبع کیا ہے؟ اس کا محل کیا ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟

اس کےجواب میں مغرب میں معاہدہ عمرانی کے تصور نے جنم لیا۔ جان لاک نے  جان، مال اور حریت کے تحفظ کو انسان کا بنیادی فطری حق قرار دیا تھا۔ عوام اپنے  ان فطری حقوق کے تحفظ کے ریاست کا ادارہ قائم کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو حاکمیت عوام کی طرف سے تفویض کی جاتی ہے اور اس کا استعمال اس حد تک جائز ہو گا جس حد تک وہ شہریوں کی فلاح میں مددگار ہو۔ اگر حکومت ان حقوق کو پامال کرے گی تو عوام اپنا یہ تفویض کردہ حق واپس لے سکتے ہیں جیسا کہ امریکہ کے اعلان آزادی میں کہا گیا تھا۔ برطانیہ اور امریکہ کے تصور حاکمیت میں یہ فرق ہے کہ برطانیہ میں خود مختاری پارلیمنٹ کے پاس ہے جب کہ امریکہ میں عوام کے پاس۔

دور جدید کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جدید دنیا میں جنم لینے والے تصورات کو لیتے ہیں اور ان کو مشرف بہ اسلام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بیسیوں صدی میں جب مسلم ریاستیں قائم ہونا شروع ہوئیں تو ان کو یہی مسئلہ درپیش تھا کہ کونسا نظام حکومت اختیار کیا جائے۔ جدید دور میں قائم ہونے والی پہلی ریاست ترکی تھی جس کی قیادت غازی مصطفیٰ کمال کے پاس تھی۔ اس نے خلافت اور سلطانیت کو ختم کرکے ترکی کے ریپبلک ہونے کا اعلان کر دیا۔

ہم نے ایک تحریک چلا کر ملک حاصل کیا۔ اس تحریک میں طرح طرح کے نعرے لگتے رہے۔ مخلتف لوگ اپنے اپنے تصورات لے کر اس تحریک میں شامل تھے۔ کوئی خلافت راشدہ کا احیا دیکھ رہا تھا، کسی کو اسلامی ریاست قائم ہوتی نظر آ رہی تھی اور کوئی جدید جمہوری ریاست قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اس وقت مذہبی طبقے کی ایک بڑی تعداد مسلم لیگ پر فتووں سمیت حملہ آور تھی کیونکہ مسلم لیگ معروف معنوں میں مذہبی جماعت نہیں تھی۔ یہ عام اعتراض تھا کہ جو لوگ اپنے چھ فٹ کے جسم پر اسلام لاگو نہیں کر سکتے وہ ملک میں کس طرح اسلامی نظام قائم کریں گے۔ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وہ مطالبہ پاکستان کی مخالفت اس بنا پر کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ والے مسلمانوں کی قومی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں نہ کہ اسلامی ریاست۔

لیکن جونہی پاکستان معرض وجود میں آ گیا مذہبی جماعتوں نے اس کو اسلامی ریاست بنانے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد لیاقت علی خان نے مولویوں کا منہ بند کرنے کے لیے قرارداد مقاصد منظور کروا لی۔ کیا قرارداد مقاصد پاکستان کو ایک مذہبی ریاست بنانے کا پیش خیمہ تھی؟ میرا جواب نفی میں ہے۔ اس قرارداد کا بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ روایتی اسلام نہیں بلکہ ڈاکٹر جاوید اقبال کے الفاظ میں اسلام کی جدید تعبیر کا مظہر ہے۔ اس قرارداد کی شق اول میں ایک افسوسناک سمجھوتہ کیا گیا ہے لیکن باقی قرارداد میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔

قرارداد مقاصد کی شق اول میں تین باتیں کہی گئی تھیں 1۔ جمیع کائنات پر حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ 2۔ اس نے اپنی اتھارٹی ریاست پاکستان کو تفویض کر دی ہے۔ 3۔ ریاست پاکستان اس اتھارٹی کو عوام کے ذریعے مقرر کردہ حدود کے اندر ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کرے گی۔

شق دوم میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام کی یہ نمائندہ اسمبلی خودمختار آزاد ریاست پاکستان کے لیے ایک آئین تشکیل دے گی۔

شق اول اور دوم میں فرق  و اختلاف واضح ہے لیکن اس کو منطقی استدلال سے ڈھانپنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم اس جملے “جمیع کائنات پر حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے” پر غور کریں تو یہ بہت مبہم دکھائی دیتا ہے۔ خدا کی حاکمیت دو طرح کی ہے: تکوینی اور تشریعی۔  جمیع کائنات پر تو خدا کی تکوینی حاکمیت ہی ہو سکتی ہے یعنی اس کائنات کا ایک ایک ذرہ طوعاً و کرھاً حکم الہٰی کا پابند ہے اور اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ کسی طور بھی برآمد نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی میدان میں بھی حاکمیت اللہ کی ہے کیونکہ یہ خلاف حقیقت دعویٰ ہو گا۔ دنیا میں انسانوں کی عظیم اکثریت اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ حاکمیت کا قوت نافذہ کے بغیر تصور قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اللہ نے سیاسی میدان میں اپنی مرضی انسانوں کے ذریعے سے نافذ کرنی ہے تو پھر کسی طور پر سیاسی حاکمیت کو اس سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم خدا کو سیاسی معنوں میں بھی حاکم قرار دیں گے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ انسانی حکمران زمین پر خدا کا نائب اور خلیفہ ہو گا۔ اس کا حکم اور اس کی مرضی خدا کا حکم اور خدا کی مرضی کہلائے گی۔ اس کا نتیجہ طاقت کی پرستش کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ جو بھی حکومت پر قبضہ کر لے گا وہ یہ دعویٰ کرے گا کہ اسے خدا نے اس منصب پر فائز کیا ہے اس لیے کسی عام انسان کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ فرضی بات نہیں ہے۔ بنو امیہ کے خلفا پر جب یہ اعتراض ہوا کہ ان کے منصب خلافت پر فائز ہونے میں مشورے کو دخل نہیں تو ان کا جواب یہی تھا کہ ان کو اللہ نے اس منصب پر فائز کیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ خود کو خلیفۃ اللہ قرار دیتے تھے۔

شق اول میں جو دوسری بات کہی گئی کہ “اس نے اپنی اتھارٹی ریاست پاکستان کو تفویض کر دی ہے” یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ وہ کونسا فرد تھا جس پر یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حاکمیت ریاست پاکستان کو تفویض کر دی ہے؟ اور کیا یہ تفویض کردہ اتھارٹی ریاست پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں کی پابند ہے یا باقی دنیا پر بھی اس کا اطلاق ہو گا؟ اس پر ادنیٰ تامل کرنے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ جملہ بے معنی ہے۔ شاید اسی بنا پر اسے بعد ازاں حذف کر دیا گیا تھا۔ سنہ 1956 سے لے کر جتنے بھی دستور بنے ہیں یہ جملہ کسی میں شامل نہیں۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ 1973 کے آئین میں شق دوم کو حذف کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان کو خودمختار آزاد ریاست کہا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذہبی لوگوں کو شق اول اور دوم میں موجود تضاد کا اندازہ ہو گیا تھا۔ اب اگر تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو ریاست پاکستان کا یہ دعویٰ ہی نہیں کہ وہ آزاد اور خود مختار مملکت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی رو سے دنیا ہمیں آزاد اور خود مختار مملکت تسلیم کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ قرارداد مقاصد پر اعتراض کرنے کے بجائے یہ زیادہ بہتر مطالبہ ہو گا کہ اسے اس کی شق دوم کو بحال کیا جائے۔

جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ قرارداد مقاصد سے مذہبی ریاست قائم ہونے کا عندیہ نہیں ملتا۔ یہی سبب ہے کہ منیر کمیشن کے سامنے مولوی حضرات نے اس قرارداد میں بیان کی گئی مملکت کے خاکے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس میں اقلیتوں کو برابر کے شہری تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد آج تک کسی قانون سازی کی بنیاد بھی نہیں بن سکی۔ اس کا درجہ بس ایک مقدس متھ کا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس قرارداد کے منظور ہونے کے کچھ عرصہ بعد مولانا مودودی صاحب نے کہا تھا یہ ایسی برکھا تھی جس سے پہلے نہ کوئی بدلی چھائی اور نہ بعد میں کوئی روئیدگی ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “کیا سیاسی حاکمیت اللہ کی ہے؟

  • 14/03/2020 at 8:46 am
    Permalink

    بہت عمدہ بحث اور جامع انداز میں آپ نے حاکمیت کا تصور اور اس سے متعلقہ نظریات کو سمیٹا۔ پاکستان کی سطح پہ اگر ہم بات کریں، تو ہم آزاد اور خود مختار تو کجا، بنیاد ہی سے محروم ہیں۔ مختلف ادوار کے اندر بس لفاظی اور اصطلاحی تشبیہات کا سہارا لیکر اپنے اپنے دور اِ قتدار کو مظبوط کرنے، اور کرائے پہ فوجی بھرتی کرواکر کسی دوسری قوت کی خوشنودی حاصل کرنے کی ایک طویل جدوجہد تاریخ کے اوراق پہ بکھری پڑی ہے۔ جن ابحاث کے متعلق آپ قلم کشائی کررہے ہیں، اُن کے متعلق بصیرت قیام ِ پاکستان سے لیکر آج تک کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔ سب کسی اور کے اشاروں پہ ناچ کر اپنا اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے آئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *