سفر ایران کی آخری جھلکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ساس صاحبہ کی طرف گئے۔ منہ ناک ڈھانپ کر۔ ماسک سے مجھے الجھن ہوتی ہے۔ شہر میں بھی اب ماسک پہنے لوگ کم ہوگئے ہیں۔ ماسک بہت مہنگا ہے اور صرف ایک بار استعمال ہو سکتا ہے۔ روز روز کا خرچ عام انسان کی برداشت سے باہر ہے۔

ہوٹل کے ڈائنیگ ہال میں جو بریک فاسٹ بوفے تھا وہ اب لپیٹ دیا گیا ہے۔ اب میز پر سرو ہوتا ہے۔ ایک پلیٹ میں کچھ اخروٹ، چند کھجوریں، مکھن، جیم اور شہد کی ٹکیاں ، پنیر اور ایک انڈا۔ اس کے ساتھ ایرانی نان اور چائے۔ صبح ریسیپشن کی ایک خاتون بتا رہی تھیں کہ عملے کے پچاس افراد کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ لوگ بہت کم ہیں اور نئے مسافر آ نہیں رہے۔ ہوٹل نقصان میں جا رہا ہے۔ ہوٹل کی دو منزلیں بالکل بند کردی گئی ہیں۔ عملہ پریشان نظر آ رہا ہے۔

ہمارے ہوٹل کا نام اسپیناس ہوٹل ہے۔ یہ نام ہمارے لیئے بھی کچھ نامانوس سا تھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ ایران کی ایک قدیمی زبان میں اس مطلب ہے ” اسپ سفید “۔ لابی میں دو بڑے مجسمے ہیں ایک شہنشاہ کوروش کا اور دوسرا آناہیتا کا جو فارس کی دیو مالائی دیوی تھی۔ ہوٹل میں ایک دیوار پر کچھ اہم شخصیات کی تصاویر ہیں جن کا یہاں قیام رہا ہے۔ چلتے چلتے یونہی نگاہ پڑی تو ایک جان پہچانی شکل نظر آئی۔ شاہ محمود قریشی۔

مشہد سے مہرداد (دیور) کے فون پر فون آ رہے ہیں۔ ملنا نہیں ہو پا رہا۔ حکومت بار بار ہدایت جاری کر رہی ہے کہ ملک کے اندر لوگ سفر نہ کریں۔ مہرداد تو آنے پر تلا ہو تھا۔ بمشکل اسے روکا۔ بہت ہی دل گرفتہ ہوا۔

ویسے کچھ بھی ہو جائے کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں ایرانی اپنی وضحداری نہیں چھوڑتے۔ اس قدر تکلفاتی گفتگو کرتے ہیں کہ آپ حیران رہ جایں۔

ٹیکسی والے کو کرایہ ادا کرنے یا کچھ خریدنے کے بعد قیمت پوچھیں تو وہ یہ ضرور کہیں گے

” قابل شما ندارہ” یعنی میری خدمت آپ کے قابل نہیں۔ آپ اصرار کر کے اسے کرایہ یا قیمت لینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ تب وہ مانتا ہے۔ لوگ صرف حال چال پوچھنے میں کافی وقت لگا دیتے ہیں۔

“حال شما؟ خوبی اہ؟ خستہ نا باشی۔ سلامت باشی۔ قربان شما۔ فدات بشم من” آپ کسی ایک کا جواب دیں

 تو آگے سے اسی قسم کے کئی اور تکلفاتی جملے آ جایں گے اور آپ کی ہمت اور حوصلہ جواب دے جائے گا۔ اس تکلف کو ایرانی تعارف کہتے ہیں۔ ہر ایک آپ پر نثار ہوا جا رہا ہے۔ ان تمام تکلفاتی باتوں کا جواب آپ صرف “خواہش می کنم” کہہ کر دے سکتے ہیں۔

دو مارچ کو دوپہر میں سفارت خانے سے فون آیا۔ یہ بھی یقین دلایا کہ حکومت ہمارے بارے میں فکرمند ہے لیکن ابھی فوری طور پر نارویجین شہریوں کا ایران سے انخلا کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کچھ ہمت بندھی کہ کوئی ہمارا ہے۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ 10 مارچ کے ٹکٹس ایک اچھی ڈیل ہے۔

ہمارا حال یہ ہے کہ کچھ کچھ وہمی ہو گئے ہیں۔ ذرا ایک چھینک آئی یا ہلکی سی کھانسی اٹھی تو گھبرا کر ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگتے ہیں۔ کوشش کر رہے ہیں کہ اس صورت حال کا نفسیاتی اثر ہم پر نہ ہو۔ لیکن کبھی کبھی دل کو اداسی سی گھیر لیتی ہے۔ بچے یاد آ رہے ہیں۔

آقائے مہرنواز کی والدہ محترمہ یعنی ہماری ساس

 3 مارچ

آج صبح ناشتہ کے لیئے ہال میں گئے تو خوشگوار سی حیرت ہوئی۔ کچھ نئے مہمان آئے ہیں ۔ مقامی لگتے ہیں لیکن ہلکی سی چہل پہل دیکھ کر زندگی کا احساس ہوا۔

شہر میں آج قدرے زیادہ ٹریفک اور لوگ نظر آئے۔ دو تین دن کے سناٹے کے بعد لوگ گھروں سے نکل آئے۔ روزمرہ کے کاموں سے روزی کمانے والے زیادہ عرصے تک گھر نہیں بیٹھ سکتے۔ بڑی بڑی دوکانوں اور شوپنگ سینٹروں پر اب بھی رونق نہیں۔ نوروز کی آمد آمد ہے اور کاروبار ٹھنڈا۔ اب ماسک زدہ بھی کم ہو گئے ہیں۔ لگتا ہے لوگ اس صورت حال کے عادی ہو رہے ہیں۔

ایران کی بڑی شاہراہوں کے نام بڑے لیڈروں پر ہیں۔ کچھ کے نام مذہبی شخصیات پر ہیں۔ میدان امام حسین، میدان امام رضا، میدان ولی عصر، فاطمی، امام زمان وغیرہ۔ گلیوں کوچوں کے نام کچھ گل سرخ، لالہ، یاسمن، مینا، اور کچھ ایسے بھی۔ ادیب، معلم، مہندس، نقاش وغیرہ۔

ایک چیز جو ہم نے شدت سے نوٹ کی وہ یہ ہے کہ حجاب کی پابندی میں کافی نرمی آئی ہے۔ نوجوان لڑکیاں بس سر پر ایک ہلکا سا آنچل ڈالے گھوم رہی ہیں۔ کبھی کبھی یہ آنچل ڈھلک بھی جاتا ہے لیکن کوئی اس کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے۔ کچھ لڑکیاں تو بے حجاب بھی نظر آیں۔ لیکن ساتھ ساتھ با پردہ خواتین بھی ہیں۔ سر سے پیر تک سیاہ چادروں میں ملبوس۔ نہایت مہارت سے وہ چادر کا ایک کونا منہ میں دبائے ہاتھوں میں سامان اٹھائے چلتی جاتی ہیں۔ کل ہوٹل میں دو خواتین نقاب پہنے بھی دکھائی دیں۔ ہم سمجھے شاید عرب ہیں لیکن وہ فارسی میں گفتگو کر رہی تھیں۔

7 مارچ

ہمیں تجویز دی گئی ہے کہ اب اپنی نقل و حرکت ہوٹل تک محدود رکھیں۔ ملنا ملانا اور باہر جانا بند کردیں۔ ہم ویسے بھی کہیں نہیں جاتے اس لیئے یہ پابندی گراں نہیں گزر رہی۔ واپسی کی فلائٹ میں بس تین دن رہ گئے ہیں۔ احتیاط لازم ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہوٹل کے ڈایئنینگ ہال اور لابی تک جا تےہیں۔ ہم نے خود کو قرنطینہ کر لیا۔

کورونا ایران کی اقتصادیت پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ ایران پر پہلے سے ہی شدید پابندیاں ہیں۔ چین سے بہت کچھ درآمد کرتا ہے لیکن اب وہ سب بھی بند ہے۔ ایران سے بھی دوسرے ممالک کچھ خریدنے میں تامل کر رہے ہیں۔ چیزوں کی قلت ہو رہی ہے۔ مہنگائی بہت ہے اور لوگوں کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ بازار، دوکانیں یا بند ہیں یا ان میں خریدار نہیں ہیں۔ نوروز کے تہوار پر ایرانی دل کھول کر خریداری کرتے ہیں۔ لیکن اس بار یہ سب ان کے لیئے ناممکن ہو رہا ہے۔

یہ رہے شاہ محمود قریشی

8 مارچ۔

آج عورتوں کا عالمی دن ہے۔ ساری دنیا میں منایا جا رہا ے۔ لیکن ایران میں آج روز پدر یا روز مرد ہے۔ کمال مہارت سے یہ دن چھین کر مردوں کے حوالے کر دیا گیا۔ عام چھٹی ہے۔ لہذا کہیں کوئی اجتماع نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی لوگ ڈرے ہوئے ہیں ایک جگہ جمع نہیں ہوتے۔ کل جمعہ تھا وہسے ہی شہر خالی خالی تھا آج اور بھی بے رونق نظر آ رہا ہے۔ عورت مارچ یہاں نہیں آیا۔ یہاں کی عام عورت کو شاید یہ علم بھی نہیں کہ آج عورتوں کا عالمی دن ہے۔

الوداعی ملاقاتیں کر چکے۔ ہم تو ہوٹل سے باہر نہیں نکلے۔ ساس صاحبہ آئیں۔ نیچے لابی میں بیٹھ کر ان ساتھ چائے پی۔ وہ چائے کے ساتھ اپنے آنسو بھی پی رہی تھیں۔ کس کو پتہ ہے اب کب ملنا ہو۔ دم رخصت نہ گلے مل سکے نہ ان کے دست شفقت کا لمس ہم تک پہنچا۔ پرویز کی آنکھوں میں انسو تھے۔ یہ کیسا ملنا ہے۔ میرے آنسو بھی لگاتار گر رہے تھے۔ انہائی دلگیر صورت حال تھی۔

ملیحہ فون پر ہی روتی رہی۔ کہنے لگی مجھے اپنی پرواہ نہیں لیکن ڈرتی ہوں تم لوگ کو کچھ نہ ہو جائے۔ پھر بھی ٹیکسی لے کر آ گئی اور ہوٹل کے دروازے سے ہی ہمیں مسکراتے ہوئے نم آنکھوں سے الوداع کہا۔ اور اسی ٹیکسی سے واپس چلی گئِ۔

بڑا ضبط اس نے کیا وقت رخصت

مگر ہو گئی آنکھ نم دھیرے دھیرے

9  مارچ

آخری دن ہے۔ کل صبح چار بجے پرواز ہے۔ تین گھنٹے پہلے ایر پورٹ پہنچنا ہے۔ ہوٹل کی ٹیکسی رات بارہ بجے ہمیں لے جائے گی۔ یہاں سے ایرپورٹ کا ایک گھنٹے کا سفر ہے۔ سامان باندھ لیا ہے۔

عجیب سفر تھا یہ ایران کا۔ کیا کیا سوچا ہوا تھا۔ اصفہان جائیں گے، شیراز جائیں گے۔ تخت جمشید دیکھیں گے۔ نیاوران میں شاہ کا محل جو اب میوزیم بن چکا ہے اچھی طرح اس کی سیر کریں گے۔ بہت سال پہلے ایک بار دیکھا تھا لیکن اس بار ذرا توجہ سے جائزہ لیں گے۔ کچھ بھی نہ کر سکے۔

11  مارچ۔

10  مارچ کی دوپہر خیریت سے ناروے پہنچ گئے۔ تہران ایرپورٹ پر ہمیں چیک کیا گیا اور ہیلتھ کلیرنس سرٹیفیکٹ دے دیا گیا۔ پرواز قطر گئی۔ چار گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ اوسلو پہنچے تو دل شکر سے بھر گیا۔ ناروے کے صحت کے ادارے کی تجویز ہے کہ جو مسافر کورونا وائرس سے متاثر ملکوں سے آئے ہیں وہ اگلے دو ہفتے گھر میں ہی رہیں۔ اور کسی بھی علامت پاتے ہی اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ڈاکٹر کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ہمیں بتائے کہ آگے کیا کرنا ضروری ہے۔ اب ہم گھر میں ہی ہیں۔ بچوں سے شیشے کے پیچھے سے ملاقات ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *