ڈاکٹراجمل نیازی: ایک سچے اور کھرے قلمکار کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بستر علالت پر اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے ڈاکٹر اجمل نیازی پیرانہ سالی کے باوجود عزم و ہمت کا پیکر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ شدید بیمار ہیں اور اپنی آواز کھو چکے ہیں۔ وہ سرگوشیوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے خاندانی ذرائع سے پتا چلا کہ ان کی آواز کھو جانے کا سبب سرکاری ڈاکٹروں کی غفلت ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کا یہ حال تو ہونا ہی تھا۔ کیوں کہ وہ ایک سچے قلم کار ہیں۔ انہوں نے قلم کو بیچا نہیں نہ کبھی رہن رکھا۔ ان کا قلم سچائی لکھتا رہا۔ یہ جرم کوئی چھوٹا جرم تو نہیں ہے۔ اسی جرم کی پاداش میں سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا۔

ڈاکٹر اجمل نیازی بہت بڑے کالم نگار، شاعر اور ادیب ہونے کے باوجود دنیا کمانے کا ہنر نہ سیکھ سکے۔ انہوں نے اپنے قلم کے زور سے پی آر نہیں بنائی۔ سیاست دانوں سے راہ و رسم نہیں بڑھائی، شاہوں کے قصیدے نہیں لکھے۔ ان کے ساتھ پھر کس نے دینا تھا۔ آج وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں تنہا ہیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔

انہوں نے ہمیشہ وہی لکھا ہے جو محسوس کیا۔ اسی لیے لیفٹ والے انہیں رائٹ کا اور رائٹ والے لیفٹ کا آدمی سمجھتے ہیں۔ ان کی عیادت کو اسی لیے بڑی بڑی دیو پیکر شخصیات نہیں آتیں۔ ان سے ملنے کے لیے وہی اکا دکا لوگ آتے ہیں جو ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کی کرنسی کو کون پوچھتا ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی بھی اس سماج کے چلن کو اپناتے تو حکومتی عہدے دار ان کے قدموں میں بیٹھے ہوتے۔

ڈاکٹر اجمل نیازی سیاست دان ہوتے تو پھر سرکاری ہسپتال میں ناقص علاج کی بھینٹ نہ چڑھتے۔ پھر ان کا علاج بیرون ملک ہوتا۔ کروڑوں روپے کے فنڈز بھی دستیاب ہوتے۔ مگر انہوں نے آئینہ دکھانے کا رستا چنا۔ اب بتائیے بھیانک چہروں والے آئینے کو کیسے پسند کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ آئینہ دیکھ کر منہ پھیر لیا کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے بے حسوں نے ان سے منہ پھیر لیا ہے۔

ڈاکٹر اجمل نیازی 1947 کو موسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔ گورڈن کالج راولپنڈی اور گورنمنٹ کالج میانوالی میں لیکچرار رہے۔ اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج میں بھی درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں ’بے نیازیاں‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ہیں۔ تقریباً 45 سال سے صحافتی اور ادبی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہیں ستارہ امتیاز بھی ملا ہے۔ اردو زبان کے نامور کالم نگار اور شاعر ہونے کے باوجود حکومت کی توجہ سے محروم ہیں۔

میں جب ممتاز شاعر اور ادیب ڈاکٹر نثار ترابی کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا تو ان کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جو اپنے قبیلے کے افراد کو دیکھ کر اترتی ہے۔ ان کی وسعتِ قلبی اور فقیرانہ مزاج کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو گا کہ انہیں حکومتی عہدے داروں سے کوئی گلہ ہے نہ زمانے کی نا قدری کا شکوہ ہے۔ وہ صلے کی پرواہ اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز آج بھی اپنے قلم کو رواں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ وہ منتظر ہیں کہ ان میں اتنی سکت پیدا ہو جائے کہ وہ پھر مظلولوں، بے کسوں اور محروم طبقوں کی آواز بن سکیں۔

ڈاکٹر اجمل نیازی جیسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ وہ وطنِ عزیز کا سرمایہ ہیں۔ نہ جانے حکومت کو کب خیال آئے گا کہ ان کی مالی معاونت کی جائے۔ انہیں علاج کی بہترین سہولتیں دی جائیں۔ ایک سچے اور کھرے قلمکار کے لئے کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ آئیں ڈاکٹر اجمل نیازی کے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ انہیں جلد از جلد شفائے کاملہ عطا کرے اور وہ ایک بار پھر بھرپور انداز میں علمی و ادبی سرگرمیاں شروع کریں۔

آخر میں ڈاکٹر اجمل نیازی کے چند شعر پیشِ خدمت ہیں۔

گھر کی جانب جانے والے راستوں جیسا ہے وہ

منزلوں سے پیشتر ہی منزلوں جیسا ہے وہ

یاد آتا ہے مصیبت میں دعاؤں کی طرح

رات کے پچھلے پہر کی سسکیوں جیسا ہے وہ

اس کی فطرت میں وفا ہے اس کی آنکھوں میں حیا

دشمنوں کے ساتھ ہے اور دوستوں جیسا ہے وہ

ہر طرف اجلے دسمبر کی سحر پھیلی ہوئی

موسمِ سرما کی پہلی بارشوں جیسا ہے وہ

آس پاس اس کے ہزاروں تیرتے لوگوں کے ہاتھ

سانولے سوہنے اکیلے ساحلوں جیسا ہے وہ

اس کے اندر ہجر کی مستی تڑپتی ہے بہت

کانپتے ہاتھوں میں گرتے آنسوؤں جیسا ہے وہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *