ڈاکٹر آستانہ کی بلوچستان آمد
موٹا بھائی میرے دوست کم اور استاد زیادہ ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں وہ خود سرکاری افسر بننا چاہتے تھے لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ موٹا بھائی افسر نہ بن سکے لیکن موٹا بھائی نے اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے بیٹے کو افسر بنانے کا فیصلہ کیا لیکن اب موٹا بھائی کی یہ خواہش بدل گئی ہے۔ وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ افسر نہیں بنے وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچے کو بلوچستان میں سرکاری ملازمت کے لیے آمادہ نہیں کیا موٹا بھائی کہتے ہیں وہ اپنے بچے کو کسی ایسے شعبے سے منسلک کرنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں پر اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو ان کے بقول موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں بلوچستان کسی باضمیر شخص کے لئے سرکاری نوکری کرنا آسان نہ ہوگا۔
موٹا بھائی کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ خود تو افسر نہیں بن سکے لیکن افسروں کے ساتھ ان کا بڑا قریبی تعلق رہا ہے اور نظام سے بڑے باخبر ہیں ان کو جب کوئی نہیں ملتا جن کے سامنے نظام کا پوسٹ مارٹم کریں تو اکثر یہ تکلیف وہ مجھے دیتے ہیں میں بھی مجبورا اس نیت سے حاضر ہو جاتا ہوں کہ چلو کچھ سیکھنے کو ہی ملے گا اگرچہ موٹا بھائی کی چند باتوں سے بہت زیادہ اختلاف بھی کرتا ہوں۔ پھر وہ مجھے کہتے ہیں کہ تم زیادہ کتابیں نہیں پڑھتے جب کتابیں پڑھنا شروع کر دو گے تو معلومات اس قدر بڑھ جائیں گی کہ موٹا بھائی کی باتیں حقیقت معلوم ہوں گی۔ موٹا بھائی آج کل اس بات سے پریشان ہیں کہ ڈاکٹر آستانہ کو بلوچستان میں پوسٹنگ کیوں دی گئی ہے اس نظام کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔
معروف صحافی حسن نثار اکثر کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ڈلیور کر ہی نہیں سکتی کیونکہ ان کی قیادت قبائلی ذہنیت رکھتی ہے جس میں عوام کی ترقی کا کوئی تصور نہیں۔ ظاہر ہے اس تبصرے یا کمنٹس سے ہر کوئی خوش بھی نہیں اور پیپلز پارٹی تو اسے بلاجواز اور بے بنیاد گردانتی ہوگی۔ لیکن بہر حال سندھ میں گورننس کو دیکھا جائے تو حسن نثار کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن بلوچستان میں تو قبائلی ذہنیت سے زیادہ نا اہل اور غیر فعال ذہنیت حکمرانی کر رہی ہے۔
کل میں محکمہ بی اینڈ آر کے ایک سنیئر افسر سے کوئٹہ پیکیج کے متعلق بات کر رہا تھا تو اس نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ میں 11 ارب نہیں بلکہ 20 سے 25 ارب کے مختلف پراجیکٹ چل رہے ہیں۔ اور سب کھاؤ پیو پروگرام ہے۔ کچھ میک اپ ہو رہا ہے۔ جو چند بارشوں سے اتر جائے گا۔ اور دوبارہ پہلے سے زیادہ بھیانک چہرہ آپ کے سامنے ہوگا۔ یہ سن کر میں تو پریشان ہوا لیکن آپ کو بھی ذرا جھٹکا لگا ہوگا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ سب نا اہل غیر فعال حکمران ذہنیت کی سمجھ بوجھ اور دور اندیشی کی صلاحیت سے عاری ہونے کی وجہ سے ممکن ہو رہا ہے۔
بدقسمتی سے صوبے کے چند چالاک اور evil genius بیوروکریٹ نے ایسا مکڑی کا جال بنا ہے جس میں اچھے بیوروکریٹ کی کوئی جگہ ہی نہیں بنتی ہے۔ کیا وجہ تھی جس کی بناء پر گزشتہ چیف سیکریٹری کو اپنے tenure سے پہلے ٹرانسفر کروایا گیا۔ جن کی غیر فعالیت اور حکمرانوں کی تابعداری اپنی جگہ لیکن ان کی ایمانداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے۔ اب تو چیف سکریڑی کا عہدہ صرف نام کی حد تک وجود رکھتا ہے چیف سیکریٹری نہ ہی اچھے کام کی حمایت اور نہ ہی کسی برے فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں اگر کام کیا ہے تو صرف چیف سکریٹری کی رہائشگاہ اور دفتر کی تزئین و ارائش کی ہے۔ یا پھر خلاف قانون و آئین اپنے من پسند نان کیڈر شخص کو سکریڑی ایس انیڈ جی اے ڈی لگایا ہے۔ مزید چیف سکریڑی کے دفتر کے اسٹاف کی تعداد پہلے سے ڈبل کر دی ہے۔ جس میں خواتین افسر ز کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے ان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے جو اچھی بات ہے۔ ہاں بلوچستان میں ان کو ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ ان کے ٹوئٹر اکاونٹ کی فالورشپ جو کہ بلوچستان میں ان کی پوسٹنگ سے پہلے صرف بارہ سو تھی وہ اب 3574 تک پہنچ چکی ہے۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں اپنے مطلب کے افسر ز کون لے کر آیا۔ ان کی اہم پوسٹینگز کرانے میں کس نے فعال کردار ادا کیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خلاف قانون کمشنر کوئٹہ کو پروجیکٹ ڈائریکٹر کس کی منشا پر تعینات کیا گیا۔ اربوں کے پراجیکٹ ان کے حوالے کیسے ہوئے۔ آپ یقین جانیے یہ مکڑی کا جالا اس وقت ٹوٹ جائے گا اور اس کے کردار بکھر جائیں گے جب اس بد قسمت صوبے کا حالیہ تمام جوس نچوڑ لیا جائے گا اور موجودہ تمام ریسورسز ختم ہو جائیں گے۔
پھر نا اہل اور غیر فعال ذہنیت کے حامل حکمران پریشان ہوں گے اور عوام ان کو کوس رہی ہوگی۔ میں سوچنے لگا اگر 20 سے 25 ارب موجودہ انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کی بجائے کیا کوئٹہ کے نواح میں ایک چھوٹا کوئٹہ نہیں بن سکتا تھا جس میں موجودہ کوئٹہ کی 30 فیصد آبادی کو منتقل کیا جا سکتا۔ جس سے موجودہ انفراسٹرکچر پر بوجھ بھی کم ہو جاتا اور نئے کوئٹہ میں لوگوں کو جدید سہولتیں بھی میسر آتیں۔ لیکن یہ سب اسی صورت میں ہو سکتا تھا جب اہل اور فعال ذہنیت ہماری حکمران ہوتی جس میں مکڑی کو جال بنانے سے پہلے بھگانے کی اہلیت ہوتی۔
ایک طرف کرپشن جن کے ختم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب حالت یہ ہے کہ کرپشن کرنے والوں کے خلاف ثبوت ایک وافر تعداد میں دستیاب ہونے کے ناجود کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ کرپشن کے الزام میں جن افیسران کے خلاف موجود وزیراعلی بلوچستان خود کارروائی کا حکم دے چکے ہیں ان کے خلاف کارروائی تو درکنار ان کو کو پہلے سے بہتر پوسٹوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ عام بلوچستانی جاننا چاہتا ہے ہے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟


