میرے پاس ”خاص“ ہے


شادی ہمارے معاشرے کا ایسا اہم مسئلہ ہے جس پر جتنی بات کی جائے کم ہے۔ سب سے پہلے رشتوں کے مسائل اور پھر شادی کو جتنا مشکل بنا دیا گیا ہے اس سب صورتحال میں والدین بیٹیوں کے لئے کسی بھی مناسب رشتے ( جس کا معیار ہمارے یہاں لڑکے کا اپنا گھر اور اچھی نوکری سمجھا جاتا ہے ) کو غنیمت جانتے ہوئے جلد بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہو نا چاہتے ہیں اور اسی جلد بازی میں لڑکے اور لڑکی کو اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ ایک دوسرے کوا چھی طرح سے جان کر ان کی عادات سے بخوبی و اقف ہو سکیں تا کہ مستقبل میں ہونے والے مسائل سے بچا جا سکے۔ شادی شدہ زندگی میں پیدا ہونے والے چند اہم مسائل اور ان کی وجوہات جن کو ہم ٹی وی پر دکھائے جانے والے ثروت نذیر کے لکھے ہوئے ڈرامے ”خاص“ میں ہائی لائٹ کیا گیا ہے

صنفی تفریق: یہ ایک ایسا موضوع یا مسئلہ ہے جس پر بہت زیادہ بات ہونے کے باوجود ہم اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے آپ اسے مانیں یا نہیں یا اسے فیمینزم کے ساتھ جوڑیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں لڑکیوں کی ہر لحاظ سے تربیت کی جاتی ہے۔ لیکن لڑکوں کو اچھا برا سکھانے اور سمجھانے پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی بلکہ ان کو مضبوط بناتے بناتے اتنا بے حس بنا دیا جاتا ہے کہ وہ یہی سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں کہ کیا بات کسی دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے اس کہانی میں بھی ایک ایسے لڑکے کو دکھایا گیا ہے جس میں گھر کے تمام لوگ اکلوتے بیٹے کو ہمیشہ سراہنے میں مصروف رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ شخص اتنا خود پسند بن جاتا ہے کہ اسے اپنے علاوہ سب کم تر محسوس ہوتے ہیں اور اس خود پسندی میں وہ دوسروں کو ہمیشہ حقیر سمجھتا ہے۔

میاں بیوی کا مضبوط تعلق اور ذہنی ہم آہنگی یہ وہ دو چیزیں ہیں جو کسی بھی شادی شدہ زندگی کی سب سے اہم ضرورت ہیں اس کہانی کا سب سے اہم موضوع بھی یہ رکھا گیا ہے اور اس میں میاں بیوی کا کردار ادا کرنے والوں کو ایک دوسرے سے بالکل مختلف دکھا کر اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ذہنی ہم آہنگی نا ہونا کیسے کسی بھی رشتے کو برباد کر سکتا ہے۔ جہاں شوہر خود کو ہر لحاظ سے بہتر سمجھتا ہے اور بیوی کو اپنا قیمتی وقت دینے کی بجائے قیمتی تحفے د ے کر خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ لڑکی بالکل مختلف عادات کی حامل ہے جس کے لئے اس کی شوہر کی جانب سے اس کی تعریف میں کہے جانے والے دو جملے ہی کافی ہیں جو سچے دل اور پیار سے کہے لیکن خود پسند شوہر دوسروں کی تعریف کرنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور بیوی کی جانب

سے شکوے کے جواب میں ہمیشہ قیمتی تحفے نوازنے کو جتاتا ہے۔ لڑکی مسائل کے باوجود اپنے رشتے کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے کیوں کہ ارد گرد کے تمام لوگ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ امیر ترین، خوبصورت لڑکا، اچھی نوکری، اچھی فیملی اور اتنے بڑے گھر میں اس لڑکی کو کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اسے بھلا اچھے نصیب کے لئے اور کیا چاہیے جبکہ لڑکا اس لڑکی کو خوبصورتی میں اور اسٹیٹس میں، اس کی فیملی کو تنقید کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا یہی وجوہات لڑکی کے لئے ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہیں کیوں کہ وہ گھر سے سیکھ کر آتی ہے کہ

ڈولی جا رہی ہے جنازہ نکلنا چاہیے

اس مسئلے کو بہت خوبصورتی سے اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ بیٹی شادی شدہ زندگی میں جن مسائل کا سامنا کر رہی ہے جب کبھی والدین سے ان کا ذکر کرنا چاہتی ہے ماں باپ سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور اسے ہر طرح سے اس رشتے کو نبھانے کے لئے زور دیتے ہیں اپنی بیٹی کے سکھ کی خاطر داماد کو حد سے زیادہ ملنے والا پروٹوکول بھی اسے خود پسندی اور برتری میں مبتلا کرتا ہے جیسے اس نے لڑکی سے شادی کر کے اس کے والدین پر کوئی احسان کر دیا ہو اور وہ لوگ تمام عمر اس کی خاطر تواضع سے اس احسان کا بدلہ چکانے کے پابند ہوں۔ لڑکی کے سامنے اس کے والدین کی حیثیت پر تنقید کرنے اور بظاہر اچھا اور تابعدار نظر آنے والا لڑکا ان کی بیٹی کو کتنی ذہنی ازیت دے رہا ہے وہ کبھی اس پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ معاشرتی دباؤ اور دوسری بیٹیوں کی شادی کی فکر انہیں شاید ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ طلاق یافتہ لڑکی دوسری بہنوں کے لئے مسائل کا باعث بنتی ہے۔

بڑھتے ہوئے مسائل اور ناقابل برداشت الزامات کی بنا پر لڑکی ماں باپ کے گھر واپس آجاتی ہے مگر والدین اس کو دل سے قبول نہیں کرتے اور اس سے نالاں رہتے ہیں کہ اس نے یہ رشتہ نبھانے کی کوشش نہیں کی جبکہ دوسری عورت کے ساتھ شادی کرنے کے چکر میں لڑکا فوری اسے طلاق بھیج دیتا ہے۔ لڑکی کی بڑی بہن جو شادی شدہ ہے اسے اپنے سسرال والوں کی باتوں کا خوف ستانے لگتا ہے جب کہ چھوٹی بہن جو ابھی پڑھ رہی ہے اسے طلاق یافتہ کی بہن سمجھ کر اس سے کون شادی کرے گا یہ فکر ماں باپ کو اپنی مشکلات کا شکار بیٹی کو نظر انداز کرنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ اسے قصور وار ٹھہراتے ہوئے جلد کہیں بھی کسی بھی شخص سے شادی کرنے پر مجبور کرنے لگتے ہیں تا کہ دوسری بہنوں کی زندگی پر کوئی منفی اثر نا پڑے۔

اس کے علاوہ اس ڈرامے میں تمام وہ مسائل اجاگر کیے گئے ہیں جو ہر گھر کی کہانی ہے لیکن ایسے ڈراموں یا رائٹرز کو پذیرائی کیوں نہیں ملتی؟ ایسی کہانیوں کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا؟ شاید اس لئے کہ یہ باتیں ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہیں اور ہم ان پر با ت کرنے کی بجائے ان سے سمجھوتہ کر چکے ہیں؟ ہم میڈیا سے کیا سیکھ رہے ہیں ہم ڈراموں کو کہانیوں کو فن برائے فن کی حد تک سراہتے ہیں لیکن فن برائے زندگی پر غور ہی نہیں کرتے کیا ہماری عوام فقط کچھ نیا دیکھنے کے چکر میں کسی بھی ایسی کہانی کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے جس میں معاشرے میں کوئی بہتری تو آنے سے رہی ہاں بگاڑ ضرور پیدا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS