مقبوضہ کشمیر: بھارت کے خلاف طالبات اور خواتین کے بھی مظاہرے، فورسز کی شیلنگ،60 کشمیری زخمی، 2 فوجی گاڑیاں نذر آتش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"news-1477963384-4487\"

سرینگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے 115 روز بعد بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔ بھارتی فوج کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی پر سکیورٹی فورسز کا لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال ٗ مزید 60 سے زائد کشمیری زخمی ہوگئے ٗ سری نگر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ٗ چیک پوسٹوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئیٗ گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ بھی نہ تھم سکاٗمزید ایک درجن سے زائد بے گناہ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ٗ پائین شہر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف مشتعل نوجوان کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے باہر نکل آئے ٗ 2 فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تاحال معطل ٗ سکول بھی نہ کھل سکے ٗ کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی کی آدھی سے زائد آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی ٗ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء کی بدستور قلت ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کو115 روز گزر گئے مگر وادی میں حالات معمول پر نہ آسکے گزشتہ روز بھی بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 60 سے زائد کشمیری زخمی ہوگئے جبکہ ایک درجن سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ۔ادھرشہر کے بلائی علاقوں میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے، بازار، بینک،تعلیمی ادارے،پٹرول پمپ اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہی۔امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پائین شہراوردیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔پائین شہرمیں بھی ہر طرح کے کاروباری اور تجارتی ادارے بند رہے۔ ادھر بٹہ مالو میں طالبات کا ایک جلوس برآ مد ہوا جبکہ اس سے قبل یہاں فورسز اورمظا ہرین کے درمیان جھڑ پیں ہو ئیں۔عینی شاہدین کے مطابق طالبات نے بٹہ مالو اڈہ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز اور پولیس نے ٹیر گیس کے گولے داغے جس کی وجہ سے طالبات میں بھگڈر مچ گئی اور گرنے پڑنے سے نصف درجن طالبات زخمی ہوئیں۔عینی شاہدین کے مطابق ٹیر گیس شلنگ کے بعد نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ادھر اولڈ برزلہ میں صنف نازک کا جلوس برآمد ہوا ۔ جلوس میں شامل خواتین نے اسلام اور آ زادی کے حق میں صدائے احتجاج بلند کیا ۔ شہر سمیت کئی علاقوں میں حریت رہنمائوں کی کال پر خواتین کے احتجاجی جلوس برآمد ہوئے۔ ادھر شہر خاص میں بھگوان پورہ کرالہ کھڈ اور سعدہ کدل رعناواری میں نامعلوم افراد نے سر راہ دو آٹو رکشہ نذر آتش کر دئیے جبکہ سعدہ کدل رعنا واری میں پالی ٹیکنک کالج کے نزدیک اور بھگوان پورہ کرالہ کھڈ میں مشتعل نوجوانوں نے بھارتی فوج کی دو گاڑیوں کو نذرآتش کردیا ادھر بڈگام کے چک کاوسہ علاقے میں گزشتہ روز شہید ہونے والے نوجوان محمد مظفر پرئے کے چہارم کے موقعہ پر علاقے میں بندشیں عائد کی گئی تھی۔بندشوں کے باوجود نواحی علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد چک کاوسہ پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔عینی شاہدین کے مطابق آروہ بیروہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھی۔ منی گام سے خواتین کا جلوس جامع مسجد سے لیکر بائی پاس تک آزادی کے حق میںنعرے بازی کرتے ہوا برآمد تاہم بعد میں پرامن طور پر منتشر ہو۔جامع مسجد سالورہ میں دختران ملت کے زیر اہتمام حصول آزادی کے حق میں اجتماع منعقد کیا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق اس دوران پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر گرفتاریاں عمل میں لانے کی کوشش کی جس کے خلاف نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر زبردست خشت باری کی۔ اس موقعہ پر دختران ملت کی سرکردہ رکن پروینہ ساکن زکورہ کو گرفتار کیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *