انسانیت کو سائنس کے دامن میں امان ملے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب ایک ہیجان برپا ہے۔ شہر اور ملک لاک ڈاون ہوتے جارہے ہیں۔ اچانک ایک ایسی آفت ٹوٹ پڑی ہے جس کے لیے شاید ہم ابھی تیار نہیں تھے۔ کوئی اس کو عذاب کہہ رہا ہے تو کسی کے نزدیک یہ آزمائش ہے۔ اب تک دنیا بھرمیں پانچ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ مندر خالی ہیں مسجدیں خالی ہیں دیوار گریہ اور کربلا بھی اپنے عقیدت مندوں کی منتظر ہیں۔ اجتماعی عبادت اور خوشی غمی کے مراحل کو روک دیا گیا ہے دنیا بھر کے تعلیمی ادارے اور مارکیٹس بند کردی گئی ہیں بازار سنسان ہوگئے ہیں۔

احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں۔ آئے روز ڈاکٹرز اور سائنس دان نئی حفاظتی تدابیر بتا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ لیبارٹریوں میں موجود سائنسدانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ انسانیت کو اب اگر پناہ ملے گی تو سائنس کے دامن میں ملے گی۔ آج کروڑوں نگاہیں ان سائنسدانوں کی طرف التجا بھری نظروں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب وہ نوید سنائیں کہ ہم نے انسان کو بچانے کی دوا بنا لی ہے۔ اب کوئی انسان اس موزی مرض کے ہاتھوں بے بسی کی موت نہیں مرئے گا۔

ذرا سوچیئے کہ دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے اربوں انسانوں نے اس مشکل گھڑی میں اپنی عبادت گاہوں کا رخ کیوں نہیں کیا اور اپنے مذہبی تصورات کے تحت اس بیماری کا حل تلاش کیوں نہیں کیا؟ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ کسی بھی مذہب کے پاس کورونا یا کسی دوسری بیماری کا علاج سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مذاہب انسان کو راستہ بتاتے ہین جس پر چل کر انسان فلاح کی منزل کو پہنچتا ہے اپنے لئے گوشہ عافیت تلاش کرتا ہے اپنی زندگیوں کو آسان بناتا ہے اور دوسروں کے لئے عافیت کے دروازے کھولتا ہے۔

یہ مذہب ہی تو ہے جو کہتا ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہ علم ہی کی افادیت تھی کہ ایک جنگ کے اختتام پر پکڑے جانے والے دشمن سے مال وزر کی خواہش نہیں کی گئی بلکہ جنگی قیدیوں کویہ کہا گیا کہ وہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرین ان کو امان ملے گی۔ کس کو معلوم نہیں کہ یہی وہ معتبر لفظ تھے جب ایک غار میں اللہ کے معبوث کیے گئے پیغمبر سے کہا گیا کہ پڑھو تو اس نے کہا کہ میں پڑھنا نہٰیں جانتا تو پھر قدرت کی رحمت ہوئی اور پیغمبر نے پڑھنا شروع کردیا۔

دنیا بھرمیں کورونا سے ہونے والی ہلاکتیں محض ایک وبا کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ ان تمام روایتوں کی بھی موت ہے جو کہ مختلف مذاہب نے گھڑی ہوئی ہیں وگرنہ الہامی مذاہب کسی انسان کو اندھیرے کی طرف کیسے دھکیل سکتے ہیں یہ تو روشنی کا مینار ہیں اور نسل انسانی نے اس سے روشنی حاصل کرکے تہذیب وتمدن کی منزلیں طے کی ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے سے متصادم ہیں ایک وقت تھا اسی سوچ کے تحت ہر سائنسدان کو خواہ اس کا تعلق عیسائیت سے ہو یا اسلام سے یا پھر کسی اور مذہب سے کافر قرار دے کر مصلوب کیا گیا۔ سزائیں دی گئیں اپنی معاشرت میں ان کو نشان عبرت بنا دیا گیا مگر یہ لوگ باز نہیں آئے ایک جنون ان کے سر پر سوار تھا کچھ کرگزرنے کا جنون۔ ان کا علم ان کو کہہ رہا تھا کہ تم حق پر ہو ڈٹے رہو اورزمین وآسمانوں کے سربستہ راز تمہاری دسترس میں ہیں ان رازوں کو عیاں کرو دنیا کو بتاؤ کہ کائنات میں کیا کچھ ان کے لیے موجود ہے اس کو کھوجنا ہے اس کو تسخیر کرنا ہے کیونکہ کتاب مقدس میں کہا گیا ہے کہ یہ کائنات تمہارے لیے ہے نکلو اور اس کو تسخیر کرو۔

مدعا یہ کہ آج ایک بار پھر انسانی ارتقا کے اس سفر میں ایک ایسی منزل آئی ہے جب انسان کو اپنی بقا کے لیے سائنس سے رجوع کرنا پڑرہا ہے یہ مجبوری ہے اس کے بغیر چارہ نہیں ہے یہ انسان کی شکست نہیں بلکہ یہ انسانیت کی معراج ہے یہ شکست نہیں فتح ہے انسان کے علم کی اس کی جستجو کی اس کی جدوجہد کی۔ انسان نے اپنے علم اور حوصلے سے ہر عہد کی وبائی امراض کو شکست دی ہے طاعون ہو، ٹی بی ہو، کینسر ہو، ایڈز ہو، سوائن فلو یا پھر کوئی اور موزی مرض آخری فتح انسان کے حصے میں آئی ہے۔ کورونا بھی انسان کے علم کی وسعت سے باہر نہں ہے۔ آج نہیں تو کل اس کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ علم کو فروغ دیں سائنس کو ترقی دیں مبہم مذہبی تصورات کو ختم کریں۔ دنیا بہت آگے سفر کر چکی ہے ہمیں بھی اسی سمت چلنا ہوگا جس سمت سب جارہے ہیں۔ انسان کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کب تک دوسروں کی بنائی ہوئی دوائی کے منتظر رہیں گے۔ ہمیں اپنے حصے کا کام بہرحال کرنا ہو گا۔ اس سے بڑا الیمہ اور کیا ہوگا کہ وطن عزیز کی ایک یونیورسٹی بھی دنیا کی پہلی 100 یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے ریسرچ سے ہم کوسوں دور ہیں ہمارا نصاب صرف اور صرف کلرک پیدا کرتا ہے۔

ذرا سوچیئے کہ ہم نے ریسرچ کے میدان میں کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں پر نظر ڈالیں کیا کوئی نام ایسا ہے جس پر ہم فخر کر کے کہہ سکیں کہ اس سائنسدان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بہتر ہے کہ اپنی اصلاح کرلیں اور اس بات پر یقین کرلیں کہ اب انسانیت کو امان سائنس کے دامن میں ہی ملے گی اس کے سوا جائے اماں کہیں نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *