بھارت: جو زبان ملی تو کٹی ہوئی، جو قلم ملا تو بکا ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام سے جانا جاتا ہے، جمہوریت کا مطلب تمام انسانوں کو شخصی آزادی، براری کا حق، اپنے مذہب اور تہذیب و ثقافت پر چلنے کی آزادی ہو کسی قسم کی پابندی ان پر نا ہو، جہاں تمام سرکاری اور انصاف مہیا کرنے والی عدالت کسی دباؤ میں نا ہو، جہان لکھنے، بولنے کی آزادی ہو، کسی کے ساتھ ذات پات مذہب کے نام پر امتیازی سلوک نا برتا جاتا ہو، ہر کوئی اپنے آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو۔

جسے تمام انسانی حقوق میسر ہو، کہی بھی غیر منصفانہ ظالمانہ رویہ کسی شخص یا کمیونٹی کے ساتھ روا نہیں رکھا جاتا ہو، آج ملک کو آزاد ہوئے 72 سال ہورہے ہیں۔ اس ملک کی بنیاد جمہوری نظام حکومت پر رکھی گئی۔ لیکن آزادی کے بعد سے اب تک سب سے بدترین حالات ملک کی اگر ہوئی ہے تو اس فرقہ پرست حکومت کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہوئی ہے اور مسلسل دوسری مرتبہ مرکزی حکومت پر قابض ہونے سے جاری ہے۔

عوام نے یہ سمجھا کہ بی جے پی نے پچھلے پانچ سالوں میں کوئی بڑا فساد نہیں کیا اور نا ہی کوئی غیر معمولی حالات دیکھنے میں آئے نوٹ بندی ٹرپل طلاق قانون، کے علاوہ کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا لیکن ان گزشتہ پانچ سالہ اقتدار میں اس فرقہ پرست حکومت نے منصوبہ بندی کی اور 2019 میں اقتدار میں آتے ہیں جلد بازی میں ایسے قانون کو پاس کیا جو ا‌نصاف و انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ہم جنس پرستی قانون، شادی شدہ ہونے کے باوجود غیر محرم سے جنسی تعلقات کو جائز قرار دیا گیا، کشمیر سے آرٹیکل 370 کو کلعدم قرار دے کر خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کیا گیا، آر ٹی آئی معلومات حق کی آزادی کے اندر ترمیم کی گئی، یو اے پی اے قانون میں ترمیم کرکے اسے اور سخت بنایا گیا جس میں انصاف پسند عوام کی آواز کا گلا گھونٹنا داخل ہے۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو بلا انتخاب صدر جمہوریہ کے ذریعے راجیہ سبھا کا ممبر منتخب کیا گیا۔ اپریل 2019 میں سپریم کورٹ کی ایک سابق ملازمہ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی ہراسانی کا الزام بھی لگایا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ 10، 11 اکتوبر 2018 کو اسے جنسی طور پر حراساں کیا گیا تھا۔ جسے گوگوئی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کو روکنے کی کوشش ہے۔ ایس اے بوبڑے نے فوری طور پر اس معاملے کو ختم کر دیا تھا۔

اسی طرح 9 نومبر 2019 کو جسٹس رنجن گوگوئی کے پانچ رکنی بینچ نے بابری مسجد رام جنم بھومی کے متنازع آراضی پر فیصلہ صادر کیا جس میں انہوں نے تمام حقائق اور ثبوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اکثریتی فرقے کے افراد کو دیکھتے ہوئے عقائد کی بنیاد پر بابری مسجد کی زمین رام جنم بھومی کے نام کرنے کا فیصلہ صادر کیا جو تاریخ میں انصاف کے قتل کے دن کے طور پر لکھا جائے گا۔ 17 نومبر 2019 میں ان کا ریٹائرمنٹ ہوا یہ ان کا آخری فیصلہ تھا۔

اس سے قبل رافیل ذیل کے معاملے میں بھی بی جے پی حکومت کو کلین چٹ دینے میں بھی رنجن گوگوئی پیش پیش رہے۔ اسی طرح انہوں نے بی جے پی حکومت کے غیر منصفانہ ظالمانہ قانون سازی کو لے کر اور ملک کی جمہوریت، عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے پر پریس کانفرنس کے ذریعے بی جے پی کو ملک کے لئے خطرہ قرار دیا تھا۔ ان تمام باتوں سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایک منصف جج ہونے کے باوجود کہی نہ کہی یہ ایک پری پلان منصوبہ تھا پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ کوئی انگلی اٹھانے کی کوشش بھی نا کریں۔

سپریم کورٹ کے ججز کا چناؤ ہو یا انصاف پسند اور حق پرست صحافی ہو ان معاملات میں مداخلت کی گئی اور انصاف کا قتل کیا گیا۔ عوام سے آزادی کے حق سلب کیے گئے۔ بولنے اور لکھنے کی آزادی کو چھینا جارہا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو کل راجیہ سبھا کا بلا انتخاب ممبر منتخب کرنا بھی ان تمام غیر منصفانہ فیصلوں کی زندہ مثال ہے کہ جس نے حکومت کے تلوے چاٹنے اور بند کمروں میں جمہوریت کی اور آئین کی عصمت کو تار تار کیا گیا آج ان لوگوں کو اپنے کیے کا پھل دیا گیا ہے۔ جو راجیہ سبھا کی سیٹ کی شکل میں ہے۔ اور اسی طرح جس نے ان تمام کی مدد کی ہے اس کیلے بھی جگہ ریزرو کی گئی تھی ایس اے بوبڑے کو گوگوئی کے رٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز کردیا گیا۔ اور اب وہ ایک وفادار ملازم کی طرح اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ شاہین باغ احتجاج کی مثال ہمارے سامنے ہیں کہ اصل شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دائر پٹیشن پر شنوائی کرنے کی بجائے شاہین باغ کے احتجاجات کو کس طرح سے اٹھایا جائے اس پر شنوائی کی جارہی ہے اور بار بار یہ کہ کر تاریخ دے کر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا جا رہا ہے اگر فیصلہ مرکزی حکومت سے ہی لے کر سنوائی کرنا ہے تو جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے اور عوام کس پر اعتماد کریں وہ اپنے حق کے لئے کس سے انصاف کی امید لگائیں۔

جس طرح بابری مسجد کے فیصلہ پر مسلمانوں نے سپریم کورٹ پر بھروسا کیا اور اس کا نتیجہ انصاف کے قتل کے طور پر سامنے آیا۔ آج بھر شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، سی اے اے کو لے کر عوام سپریم کورٹ سے امید لگائے بیٹھی ہے کہ انصاف مل جائے گا تو ان تمام پر نظر ڈالیے کہ انصاف کے مندروں میں بیٹھے ہوئے منصفوں کی باگ ڈور فرقہ پرست حکومت کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے انہیں اقتدار میں بٹھایا ہے۔ اب عوام کو سڑکوں پر اتر کر انصاف کی خاطر احتجاج کرنا چاہیے ورنہ کھلی فضا میں سانس لینا بھی محال ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *