کیا ہم منحوس دور میں جی رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا سول سروس کا ایک دوست بڑی دلچسپ بات کیا کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ جب میں نیا نیا نوکری میں آیا تھا تو بڑاخوش تھا کہ افسر بن گیا ہوں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر انکشاف ہوا کہ سرکاری نوکری میں اب وہ کرو فر نہیں رہا، میری جب بھی کہیں نئی تعیناتی ہوتی اور میں چارج لینے کے بعد پی اے سے پوچھتا کہ ہاں بھئی اِس عہدے کی کیا مراعات ہیں، دفتر میں کتنی گاڑیاں، سرکاری رہائش گاہ کہاں ہے، میر ے پاس کیا اختیارات ہیں تو ہمیشہ ایک ہی جواب ملتا کہ سر اب وہ بات نہیں رہی جو پہلے تھی، پہلے توسترہ گریڈ میں والے کے پاس چار چار گاڑیاں ہوا کرتی تھیں، اب تو ہم نے مشکل سے آپ کے لیے ایک گاڑی سنبھال کر رکھی ہے، سرکاری رہائش گاہ کی مرمت کے لیے فنڈ نہیں ہیں اور ”devolution“ کے بعداختیارات کا تو آپ کو پتا ہی ہے کہ کیا حال ہوا ہے۔ میرا دوست کہتا ہے کہ اِن بیس بائیس برسوں میں جب بھی کہیں پوسٹنگ ہوئی ہمیشہ یہی منحوس فقرہ سننے کو ملا کہ ”سر، اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی! “

تفنن برطرف، ہماری نسل کے لوگ جو ستّر کی دہائی میں پیدا ہوئے اور اسّی کی دہائی میں جن کا لڑکپن گزرا، یہی منحوس جملہ سُن کر بڑے ہوئے کہ اب وہ بات نہیں رہی۔ سن ساٹھ اور ستّر کے جو قصے ہم نے اپنے بڑوں سے سُن رکھے ہیں وہ ہمارا دل جلانے کے لیے کافی ہیں، مثلاً میرے ایک بزرگ دوست بتاتے ہیں کہ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کی ’نائٹ لائف‘ بہت شاندار ہوا کرتی تھی، بالکل ویسی جیسی کسی میٹرو پولیٹن شہر کی ہونی چاہیے، لاہور کے مال روڈ پر ایک تھری بیلز نائٹ کلب ہوا کرتا تھا، یہ فیروز سنز کے بالمقابل سڑک کے پار تھا اور کلب کی نشانی یہ تھی کہ اِس کے باہر تین بڑی بڑی گھنٹیاں لگی ہوئیں تھیں، اِس سے ذرا آگے ریگل چوک کی طرف ہوٹل کیسینو تھا، یہ کوئی جوا خانہ نہیں تھا مگر یہاں ہر شام رقص ہوا کرتا تھا، اسی طرح مال روڈ پر ہی ریگل بس سٹینڈ کے پیچھے سٹینڈرڈ ہوٹل ہوتا تھا جو کیبرے ڈانس کے لیے مشہورتھا۔

ہاں ایک میٹرو پول ہوٹل بھی تھا جو اُس جگہ واقع تھا جہاں آج واپڈا ہاؤس ہے، اِس جگہ چھوٹی چھوٹی یک منزلہ عمارتیں تھیں جن میں سے ایک یہ ہوٹل تھا، یہاں بھی ہر شام رقص کی محفل ہوتی تھی، یہی حال فلیٹیز ہوٹل کا تھا جہاں ہالی وڈ کی اداکاری ایوا گارڈنر اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے ٹھہری تھی، آج بھی اس کے نام کا سویٹ فلیٹیز میں موجود ہے۔ جہاں آج کل الفلاح بلڈنگ ہے اِس جگہ ایک وسیع ٹیکسی سٹینڈ ہوتا تھا جہاں فورڈ گاڑیاں بطور ٹیکسی امرا کے لیے دستیاب ہوتی تھیں، انہیں ایک باوردی شوفر چلاتا تھا۔ یہ ہلکی سی جھلک صرف لاہور کے مال روڈ کی ہے۔ اِس سنہری دور کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ آپ پاکستانی پاسپورٹ پر پوری دنیا گھوم سکتے تھے، میرے والد صاحب نے اپنا لمبریٹا اسکوٹر بیچ کر چند ہزار روپوں میں پاکستان سے امریکہ تک کا سفر کیا جس میں یورپ کا بائی روڈ سفر بھی شامل ہے، آج آپ اتنے پیسوں میں بمشکل سانگلہ ہل ہی جا سکتے ہیں۔ اُس زمانے میں کوئی ویزا درکار تھا نہ امیگریشن کی جھنجھٹ ہوا کرتی تھی، ہپی ازم کا دور تھا، جس کا جہاں دل کیا سو گئے، جہاں دل کیے چل دیے، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، کوئی ٹوکنے والا نہیں تھا، آج کل تو ہر شخص دوسرے کو مشکوک سمجھتا ہے اور رہی سہی کسر موبائل فون نے پوری کر دی ہے جس کی موجودگی میں لوگ آپس میں گفتگو ہی نہیں کرتے۔ کہاں ہپی ازم اور کہاں یہ موبائل ازم!

پھر ہم نے ستّر سے اسّی کی دہائی میں چھلانگ لگائی، پہلے ملک میں مارشل لا لگا اور پھر ہمارے ہمسائے میں جنگ شروع ہو گئی، ہم بھی اِس جنگ میں کود گئے، ایسی آگ بھڑکی کہ اگلی کئی دہائیوں تک بجھائی نہ جا سکی، اِس جنگ نے ہمارے معاشرے پر جو اثرات مرتب کیے ہم آج تک اُن سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ ملک میں ہیروئن، کلاشنکوف اور انتہاپسند لٹریچر آیا، یہ لٹریچر پڑھ کر ہم جوان ہوئے، ایک عجیب و غریب جنونی ذہن کے ساتھ، جس میں کوئی تنقیدی شعور تھا اور نہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت۔

خیر، خدا خدا کرکے مارشل ختم ہوا، پھر افغان جنگ بھی اپنے انجام کو پہنچی، ہم نے سوچا اب کچھ سکھ کا سانس ملے گا مگر یہ خوش فہمی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ مشکل سے ایک دہائی بغیر کسی عذاب کے گزری مگر 1999 میں دوبارہ مارشل لا لگ گیا اور پھر وہ واقعہ ہوا جس نے دنیا ہمیشہ کے لیے بدل کرکے رکھ دی، نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 2001 میں پھر ہمارے ہمسائے میں جنگ شروع ہو گئی اوریہ خطہ پوری دنیا کی فوجوں کا اکھاڑہ بن گیا۔

کچھ عرصہ ڈالروں کی ریل پیل رہی مگر پھر ایسی دہشت گردی شروع ہوئی کہ جس نے نہ صرف ہماری نسل کے لوگوں بلکہ بعد میں پیدا ہونے والوں کو بھی عجیب ذہنی مریض بنا دیا، کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب کہاں کس جگہ دھماکہ ہو جائے اور کسی کا پیارا اس میں مارا جائے، لوگ شام کو خیریت سے گھر واپس پہنچنے پر شکر ادا کرتے تھے، مائیں بچوں کو اسکول یوں بھیجتی تھیں جیسے جنگ پر بھیج رہی ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ دور بھی ختم ہوا، انیس سال بعد امریکہ ایک معاہدہ کر کے افغانستا ن سے نکلنے کے لیے تیار ہو گیا۔

2020 شروع ہوا تویوں لگا جیسے ہماری نسل کا منحوس دور ختم ہو گیاہے اور اب شاید ہم سکھ کا سانس لے پائیں گے، مگر نہیں، اب وہ ہوا ہے جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، ایک ایسی عالمی وبا پھیلی ہے جس نے پوری دنیا کو دہشت زدہ کر دیا ہے، بیشتر یورپ مکمل بند ہو چکا ہے، امریکہ اور کنیڈا بند ہونے کے قریب ہیں، عالمی منڈی میں افرا تفری کی صورتحال ہے، لوگ ان دیکھے مستقبل سے خوفزدہ ہو کر خوراک ذخیرہ کرنے میں لگے ہیں، وہ قومیں جن کی خوش مزاجی، اخلاقیات اور ایثار کی ہم مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے اب وہی لوگ بازاروں میں ایک دوسرے سے آٹے کے تھیلے کے لیے گتھم گتھا ہیں، ہوائی اڈے بند ہو رہے ہیں، سٹاک مارکٹیں بیٹھ چکی ہیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کل کیا ہوگا۔

یہ بات درست ہے کہ ہر دور کے اپنے مثبت اورمنفی پہلو ہوتے ہیں، جیسے تیس اور چالیس کی دہائی میں پیدا ہونے والوں نے دوسری عالمی جنگ میں آنکھ کھولی اور پھر سن سینتالیس کا خون خوار بٹوارہ دیکھا، لیکن اِن لوگوں کی یہ خوش قسمتی ضرور تھی کہ انہوں نے تاریخ میں (نا چاہتے ہوئے بھی ) کوئی نہ کوئی حصہ ضرور ڈالا، اِس دور میں ایک ایسے معاشرے میں رہنے کا تجربہ کیا جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اکٹھے رہتے تھے، پھر انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی، علیحدہ ملک حاصل کرکے ایک بالکل مختلف قسم کا تجربہ کیا، اسی دور میں اردو ادب نے اپنا عروج دیکھا، سن تیس، چالیس اور پچاس کے عشرے میں جو ادب تخلیق کیاگیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے برعکس ہم جس منحوس دور میں پروان چڑھے اس میں کوئی تاریخ بنتی دیکھی اورنہ آزادی کے پائے کا کوئی انقلاب دیکھا، ادب، شاعری اورفلسفے میں بھی کوئی جان پیدا نہیں کی، بس ایک کے بعد دوسرا آمر آیا اور پھرایک کے بعد دوسری افتاد آئی، ہم فقط تماشائی بنے بیٹھے رہے۔ لیکن اِس میں خود کو ملامت کرنے والی بھی کوئی بات نہیں کیونکہ اِس پر ہمارا بس نہیں، تاریخ میں اکثر واقعات یوں کروٹ بدلتے ہیں کہ درمیان کی کچھ دہائیوں میں زندگی بے معنی لگتی ہے، ہم ایسے ہی دور کی پیداوار ہیں، اسی لیے یہ منحوس فقرہ سنتے ہوئے جوان ہوئے کہ اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی!

٭٭٭   ٭٭٭

(برادر معظم یاسر پیرزادہ نے دلچسپ بات کہی کہ “مشکل سے ایک دہائی بغیر کسی عذاب کے گزری”۔ ارے کہاں میرے عزیز دوست، پراکسی (نادیدہ، دور فاصلاتی) اقتدار کے وہ برس ایک ناقابل برداشت ذہنی عقوبت کا زمانہ تھے۔ چار میں سے کسی ایک حکومت کو ایک دن چین سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ صبح ایک بحران، دوپہر ایک سازش، شام ایک ہنگامہ۔ ننگی آمریت نہیں تھی لیکن نقاب پوش قوتوں کے کارندوں اور  نامعلوم افراد نے قوم کا ٹینٹوا دبا رکھا تھا۔ آج تک اسی اخلاقی ننگ، ذہنی افلاس، سیاسی پسپائی اور معاشی دست نگری کی سزا بھگت رہے ہیں۔ افسوس کہ اس اجتماعی ذلت میں صحافت بھی شریک تھی، عدلیہ کا کردار بھی مخدوش تھا اور اہل سیاست نے بھی عقل کے ناخن لینے سے انکار کر رکھا تھا۔ 1988 سے 1999 کے دس برس ہماری قوم کا عشرہ زیاں قرار پائے۔ و-مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 77 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *