کرونا بمقابلہ مذہب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار گیارہ کے ورلڈ کپ کا ذکر ہے کہ پاکستان انڈیا میچ سے ایک دن پہلے بارش ہوئی اور یار لوگوں نے فیس بک پر سٹیٹس لگائے کہ اللہ نے گراؤنڈ دھو کر پاک کر دیا اور اب پاکستان کی فتح یقینی ہے اسے بھگوان اور اللہ کا ٹاکرہ بنا دیا گیا۔ میری کچھ دوستوں سے گفتگو ہوئی کہ کھیل کو کھیل رہنے دیں اگر خدانخواستہ کل انڈیا جیت گیا تو کیا یہ اللہ کی شکست ہو گی؟ میری اس بات پر مجھے غدار کے فتوے دیے گئے۔ کرونا میں بھی وہی سین نظر آیا۔

سب سے پہلے تو اسے چینیوں پر اللہ کا عذاب قرار دیا گیا۔ پھر جب یہ یورپ کی طرف چلا تو یہ تاثر مزید مضبوط ہو گیا اور کبھی کرونا کا علاج وضو قرار دیا گیا اور کبھی پیاز یا لہسن۔ اس کے علاوہ کرونا کی دعا بھی مارکیٹ میں آ گئی۔ پھر اس وبا نے اسلامی دنیا کا رخ کیا اور مبینہ طور پر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی رونق بالکل ماند پڑ گئی۔ شیعہ مسلمانوں کے سب سے بڑے مسکن روضہ امام علی رضا جس کی کرامت مشہور ہے کہ یہاں وبا نہیں پھیل سکتی بھی بند کر دیا گیا۔

اب لبرلز کی باری تھی اور سوشل میڈیا پر بھنگڑے شروع ہو گئے کہ جو خدا اپنا گھر نہیں بچا سکتا وہ عام آدمی کو کیا فیض پہنچائے گا۔ پوپ کا دعائیہ تقریبات کے التوا نے عیسائیوں کو بھی بیک فٹ پر پھینک دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا خدا واقعی ہار گیا یا اسے سائنس کے آگے بیک فٹ پر آ جانا چاہیے۔

اس سوال کا جواب بہت واضح ہے اگر خدا کو قصور وار ثابت کرنا ہے تو میرے آپ کے روایات پر مبنی دعوے جھوٹے ثابت ہونے سے خدا غلط ثابت نہیں ہو گا۔ اس کے لئے آپ کو خدا کا دعوی غلط ثابت کرنا ہو گا۔ خدا نے یہ کبھی نہیں کہا کہ زمین کی گردش خانہ کعبہ کے طواف کئی وجہ سے ہے۔ خدا نے کبھی یہ نہیں کہا طواف رکنے پر قیامت آ جائے گی۔ پوپ خدا نے نہیں بنایا۔

اس کے بر عکس کئی کائناتوں کا خدا کیا کہتا ہے۔ اقرا باسم ربک الخلق۔ اسے اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی دیومالائی روایات ٹوٹنے سے مذہبی پاپائیت کی کمائی ماند پڑ جائے گی۔

فرشتوں کے آگے انسانوں کی خلافت جسٹی فائی کرتے ہوئے اس نے صرف علم معیار بنایا تھا اور حالیہ کرونا بے عقل فالوور کو چھان کر عقلی طور پر مضبوط فالوور چن رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *