زندگی ویسے نہیں رہے گی جیسے تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان جب سے اس کرہِ ارض پر آیا ہے تب سے ہی اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مختلف قسم کے حادثات، زلزلے، طوفان اور وبائی امراض کا سامنا کرتے کرتے آج کا ترقی یافتہ انسان اس دنیا میں موجود ہے۔ لیکن انسان کو اب بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ماضی قریب میں ہی انسان کئی وبائی امراض کا سامنا کر چکا ہے۔

موجودہ صدی میں پھیلنے والے کچھ وبائی امراض کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

خسرہ۔ پندرہویں سے سترہویں صدی کے دوران پھیلنے والی اس وباء سے پوری دنیا میں کوئی 20 ملین لوگ مارے گئے۔ تاہم اب یہ وبائی مرض تو نہیں مگر دنیا میں موجود ہے جس سے بچے متاثر ہوتے ہیں۔

ہیضہ۔ انڈیا سے شروع ہونے والی اس وباء نے 1817 سے 1823 تک پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بیماری آج بھی موجود ہے اور ہر سال اس سے ہزاروں لوگ مرتے ہیں۔

ایڈز۔ ایڈز کا پہلا کیس 1981 میں سامنے آیا۔ اس کی وجہ سے ابھی تک 75 ملین لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ جب کہ 32 ملین مارے جا چکے ہیں۔ یہ مرض آج تک پوری شدت سے موجود ہے اور ناقابل اعلاج گردانا جاتا ہے۔

سارس۔ سانس کی بیماریوں میں سے ایک اور خطرناک وباء سارس ہے جس کی وجہ سے 2002 سے 2003 تک دنیا بھر میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔

سوائن فلو۔ اس وباء کی وجہ سے دنیا بھر 2009 سے 2010 تک 61 ملین لوگ متاثر ہوئے جبکہ اس سے مرنے والوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔

ای بولا وائرس۔ 2014 سے 2016 میں کینیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہونے والا یہ وائرس دیکھتے ہی دیکھتے مغربی افریقہ میں پھیل گا۔ اس کی وجہ سے کوئی 5 بلین لوگ متاثر ہوئے جبکہ ہزاروں کے تعداد میں مارے گئے۔

کرونا وائرس۔ دسمبر 2019 میں پھیلنے والا موجودہ کرونا وائرس اب تک 150 ملکوں میں پھیل چکا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس میں مبتلاء ہو چکے ہیں۔ ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وباء ڈکلیئر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگرچہ یہ ابھی اپنی ابتدائی سٹیج پہ ہے مگر تیزی سے پھیلتا ہوا یہ وائرس دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کو متاثر کرے گا اور اس سے کئی ملین لوگوں کے مرنے کا اندیشہ ہے۔ یوں انسانی زندگی نئے المیوں کے ساتھ جنم لے گی۔

لیکن اس ترقی یافتہ دور میں کرونا جیسے وبائی مرض نے انسان کے عقائد اور رویوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ چین سے شروع ہونے والے اس بیماری کو سب سے پہلے چینیوں پر اللہ کا عذاب قرار دیا گیا۔ پھر جب یہ وائرس یورپ کی طرف چلا تو مذہبی لوگوں کا یہ عقیدہ اور بھی مضبوط ہوا کہ یہ بیماری ان کے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ مذہبی لوگوں میں مسلمانوں نے اس کا علاج وضو، پیازاورلہسن بتایا جبکہ ہندوؤں نے اس کا علاج گائے کے پیشاب کو بتایا۔

لیکن جیسے ہی اس وائرس نے مذہبی ممالک کا رخ کیا تو اِن کی عبادت گاہیں سنسان ہوتی چلی گئی۔

شیعہ مسلمانوں کے سب سے بڑے مسکن روضہ امام علی رضا جس کی کرامت مشہور ہے کہ یہاں وبا نہیں پھیل سکتی بھی بند کر دیا گیا۔ خانہ کعبہ کا طواف کچھ عرصہ کے لیے روک دیا گیا۔ مذہبی اجتماعات، جمعہ اور باجماعت نماز پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اور اس کے حق میں مذہبی لوگوں نے فتوے بھی جاری کر دیے۔ مطاف کی صفائی اورجراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے بعد کھول دیا گیا ہے لیکن حرم کعبہ کے اردگر ایک عارضی باڑ لگا دی گئی ہے تاکہ لوگ اس کو چھونے کی کوشش نہ کریں۔ مکعہ اور مدینہ دونوں مقدس مقامات بیرونی دنیا سے آنے والے زائرین کے لیے تاحال بند ہیں۔

بہت سے لوگ ہجوم یا عوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے سفر کرنے کے ارادے منسوخ کر دیے ہیں۔ کئی جگہوں پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت ہاتھ ملانے یا بغل گیر ہونے کے بجائے کہونیوں سے کہونیاں یا پیروں سے پیر ٹکرانے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔

وائرس کو ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے سے روکنے کے لیے گرجا گھروں، مندروں، مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کے روایتی طریقوں اور مذہبی رسومات کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

لوگ آہستہ آہستہ اپنی عادات بدل رہے ہیں جس طرح سنگاپور میں نمازیوں کو کہا گیا کہ جمعہ کی نماز کے لیے وہ اپنے جائے نمازیں ساتھ لائیں۔

اس سال انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ ہولی کی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے اور انھوں نے لوگوں کو بھی یہ ہی تلقین کی ہے کہ وہ بڑے بڑے اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہولی منانے سے بہتر سمجھا کہ وہ گھر پر رہیں۔

اسرائیل کے مذہبی پیشوا ڈیویڈ لو نے یہودیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں کے دروازوں پر لگے میزوزہ کو گھروں میں داخل ہونے سے قبل بوسہ دینے کی روایت سے گریز کریں۔ میزوزہ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جس کی ایک طرف خدا کا نام اور دوسری طرف عہدہ نامہ قدیم کی آیات درج ہوتی ہیں اور اسے برکت اور رحمت کے لیے یہودی اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر لگا دیتے ہیں۔

یورپ میں یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں کی ایک کانفرس کے بعد لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقدس کتاب توریت کو چومنے کی روایت کو فی الحال بند کر دیں۔

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی گرجا گھر کرائسٹ چرچ آف جارج ٹاؤن میں پادری کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد اس چرچ میں آنے والے سینکڑوں لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ رضاکارانہ طور قرنطینہ اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں۔

اٹلی میں پوپ فرانسیس نے ویٹیکن میں سینٹ پیٹر سکوائر میں اتوار کے روایتی دعائیہ اجتماع میں کھڑکی میں آ کر شرکت کرنے کے بجائے آئن لائن ہی دعا کروائی تاکہ اس سکوائر میں کم سے کم لوگ جمع ہوں۔ اٹلی جہاں چین کے بعد یہ وبا سب سے زیادہ شدت سے پھیلی ہے وہاں ہزاروں لوگ قرنطینہ میں ہیں۔

ملحدوں کے سوشل میڈیا پر بھنگڑے شروع ہو گئے کہ جو خدا اپنا گھر کو نہیں بچا سکتا وہ عام آدمی کو کیا فیض پہنچائے گا۔ پوپ کا دعائیہ تقریبات کے التوا نے عیسائیوں کو بھی بیک فٹ پر پھینک دیا۔

مذہبی اور ملحدوں کی لڑائی میں نقصان صرف عام لوگوں کا ہی ہوا ہے۔ جو موت سے ڈر رہے ہیں اور زندگی کی تمنا کر رہے ہیں۔ لوگوں کی نظریں فلحال سائنسدانوں پر لگی ہوئی ہیں کہ شاید کوئی ویکسین ایجاد ہوجائے اور ان کی زندگیاں پہلے کی طرح محفوظ ہوجائیں۔ موجودہ حالات میں صرف سائنسدان ہی وہ واحد لوگ ہیں جو کہ تحقیق میں لگے ہوئے ہیں تاکہ انسانیت کو اس مہلک وبا سے بچایا جا سکے۔ مذہبی ٹھیکیدار پادری، پنڈت اور مولوی سب سب منظرِ عام سے غائب ہیں۔ کرونا نے انسان کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آنے والے وقت میں انسان کے مذہبی عقائد اور معاشرتی طور و اطوار مکمل طور پر بدلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی

اپنے سجدوں سے گئے رزق کمانے سے گئے۔

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو!

کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *